Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا بہتان

  علی محمد الصلابی

اس قول کا جائزہ کہ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے پردہ کرتی تھیں۔‘‘

اہل تشیع کا دعویٰ ہے کہ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے پردہ کرتی تھیں۔‘‘

(احادیث ام المومنین عائشۃ لمرتضی العسکری: جلد 1 صفحہ 270۔)

حجاب کرنے والی روایت ’’الطبقات الکبری‘‘ میں ابن سعد نے بواسطہ محمد بن عمر، عکرمہ سے نقل کی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں سے حجاب کرتی تھیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں کا اس کے پاس آنا یقیناً حلال و جائز ہے۔

نیز دوسری روایت بھی بواسطہ محمد بن عمر ابو جعفر سے نقل کی ہے کہ حسن اور حسین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے پاس نہیں جاتے تھے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تاہم ان دونوں (حسن و حسین) کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آنا حلال ہے۔

(یہ دونوں روایات الطبقات الکبری میں ابن سعد نے جلد 8 صفحہ 73 پر نقل کی ہیں۔)

اس روایت کا راوی محمد بن عمر واقدی ہے، اس کے متعلق ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے یہ متہم (بالکذب) ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے واقدی مدنی ہے، پھر بغداد میں رہائش پذیر ہو گیا اور یہ متروک الحدیث ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اسے متروک کہا ہے اور اس کے متعلق ابن المبارک، ابن نمیر اور اسماعیل بن زکریا بھی یہی کہتے ہیں ۔ابن حجر رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر کہا اسے احمد رحمہ اللہ نے کذاب کہا۔

معاویہ بن صالح نے کہا: مجھے احمد بن حنبلؒ نے کہا: ’’واقدی کذاب ہے اور ایک بار مجھے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: یہ بے وزن و غیر اہم ہے۔‘‘

بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’واقدی کی تمام کتابیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔‘‘

امام نسائی رحمہ اللہ نے کتاب ’’الضعفاء‘‘ میں کہا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے میں چار راوی مشہور و معروف ہیں: ان میں سے ایک مدینہ میں واقدی ہے۔ الخ‘‘

ابن عدی (عبداللہ بن عدی بن عبداللہ ابو احمد جرجانی۔ اپنے وقت کے حدیث میں مشہور امام و حافظ، نقاد اور حصول حدیث کے لیے بکثرت سفر کرنے والے تھے۔ یہ 277 ہجری میں پیدا ہوئے۔ جرح و تعدیل کے ماہرین میں سے تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الکامل فی معرفۃ الضعفاء و المتروکین‘‘ جو واقعی اپنے موضوع کے لحاظ سے مکمل ہے۔ ’’الانتصار‘‘ مشہور ہیں۔ یہ 365ء میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 154۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 51) رحمہ اللہ نے لکھا: ’’اس کی احادیث غیر محفوظ ہیں اور اصل بلاء وہ خود ہے۔‘‘

امام ابن المدینی رحمہ اللہ نے کہا: ’’اس کے پاس 20 ہزار احادیث ہیں یعنی جن کی کوئی اصل نہیں اور اس نے دوسرے مقام پر لکھا: وہ روایت کرنے کا اہل ہی نہیں۔ ابراہیم بن یحییٰ کذاب ہے لیکن وہ میرے نزدیک واقدی سے قدرے بہتر ہے۔

امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے لکھا: ’’میں اس کی روایات نہیں لکھتا اور نہ ہی اس کی طرف منسوب کوئی حدیث روایت کرتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ احادیث گھڑتا تھا۔‘‘

(تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 9 صفحہ 324)

درج بالا بحث سے مذکورہ دونوں روایات کا بطلان ثابت ہو گیا۔ و الحمد للّٰہ علی ذلک۔

پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ شیعہ خود اپنی کتابوں میں ایسی روایات لاتے ہیں جن سے اس روایت کا تناقض ثابت ہوتا ہے۔ جیسے فضل بن شاذان نے مقاتل بن حیان سے روایت کی ہے کہ میری پھوپھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھی۔ اس نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ حسین علیہ السلام دروازے پر آئے اور اجازت طلب کی۔ جب وہ اندر آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اَہْلًا وَ سَہْلًا وَ مَرْحَبا کہا اور انھیں اپنے پہلو میں بٹھایا تو حسین رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: بے شک میرا باپ تیرے لیے کہتا تھا: تو اپنے اس گھر میں چلی جا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے ٹھہرنے کا حکم دیا تھا اور اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔ بصورت دیگر میں تیری طرف وہ کلمات (طلاق) بھیج دوں گا۔

(الایضاح للفضل بن شاذان ازدی: صفحہ 125)

اہل تشیع یہاں کلمات سے مراد یہ لیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی، لہٰذا اس کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے طلاق دے دیں اور اسے امہات المؤمنینؓ کی جماعت سے باہر نکال دیں۔ حالانکہ یہ مفہوم بذات خود ان کی تردید کر رہا ہے، کیونکہ وہ کوئی ایسی روایت نہیں دکھا سکتے جس سے یہ ثابت ہو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کیا تھا۔ لیکن یہ روایت صحیح ہی نہیں، کیونکہ اس کی سند میں عبداللہ بن عبدالقدوس ہے۔ اس کے بارے میں ابن معین رحمہ اللہ نے کہا: ’’ یہ بے وزن شیعہ خبیث ہے۔‘‘

(تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 5 صفحہ 265)

لیکن اس سب کے باوجود شیعہ مسلسل یہ روایات سناتے اور لکھتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ وہ ان کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ باوجودیکہ ان روایات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حسین رضی اللہ عنہ کی تکریم و تقدیس کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔

(از مقالہ عائشہ ام المومنین لہانی عوضین غیر مطبوعہ۔)