Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا۔

یہ شبہ روافض نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔

(منہاج الکرامۃ للحلی: صفحہ 75۔ مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز الدہلوی: صفحہ 269۔)

اس کے ذریعے سے وہ ہماری امی عائشہؓ اور ہماری امی حفصہؓ پر تہمت لگاتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا جس کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ کی ولایت ثابت ہوتی تھی اور رافضی اس وجہ سے ان دونوں پر کفر کرنے کا حکم لگاتے ہیں ۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: 

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 3، 4 )

ترجمہ: اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔(اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

رافضیوں کے نزدیک ان دونوں کے دلوں کی کجی اور اسلام سے دونوں کے برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ کیا یہ فعل ان کے کفر پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں نے راز افشاء کیا، جس کے متعلق کسی نے کہا کہ اس سے مراد ابی بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ یہ فرمان علی رضی اللہ عنہ کے وصی ہونے کی بابت ہے۔ شیعہ کی نصوص کے مطابق اس شبہ کی تحقیق کرنے سے پہلے ہم اپنا تعجب ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ اہل تشیع کے بہتان پر تعجب لامحدود ہو گیا ہے۔ جب وہ ہر قبیح لقب ہماری امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر چپکاتے ہیں اور وہ انھیں مختلف برے القاب جیسے ام الشرور، شیطانہ۔ بلکہ انھوں نے اپنے ایک مجلے میں انھیں ام المتسکعین کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ بلکہ ایک دریدہ دہن نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جہنم کے سات دروازوں میں سے ایک عائشہ کے لیے ہے۔ سورۃ حجر کی آیت لہا سبعۃ ابواب کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جہنم کے سات دروازوں میں سے چھٹا دروازہ [عسکر] عائشہ کے لیے مخصوص ہے۔

(تفسیر عیاشی: جلد 2 صفحہ 263۔)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔

جب ہم مؤمنین کی ماں کی تمہارے نزدیک یہ قدر و منزلت ہے تو کیا تمہارے پاس اتنی عقل بھی نہیں جو تمھیں جھوٹ گھڑتے وقت واضح تناقض سے محفوظ رکھے۔ ایک طرف تو تم سیدہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا کینہ رکھتے ہو کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور علی کا بدترین دشمن باور کرنے کی کوشش کرتے ہو اور ساتھ ہی ساتھ تم یہ کہتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ خاص راز ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور یہ تمہارے عقیدے کا نچوڑ اور جوہر ہے، یعنی علی رضی اللہ عنہ کی امامت والی حدیث جس سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب لوگوں سے زیادہ قریب تھیں کیونکہ کوئی انسان اپنا دلی راز اسے ہی دیتا ہے جو اس کے دل اور روح کے زیادہ قریب ہو، جیسا کہ ضرب المثل ہے:

’’تیرا راز تیرے خون کی طرح ہے تو خوب غور کر کہ وہ کہاں محفوظ رہے گا۔‘‘

حالانکہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ، داماد علی اور چچا عباس رضی اللہ عنہمن حیات تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس راز میں انھیں کیوں شریک نہ فرمایا؟؟

تو اس راز کی بابت تمہارا اعتقاد تو یہ ہے کہ کسی آدمی کا ایمان اس پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور اگر ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کی اصلیت وہ ہوتی جو تمہاری گناہ سے آلودہ، ناپاک اور من گھڑت روایات بتاتی ہیں جنھیں تم ان کے خلاف اپنے کینے اور نفرت کی بنا پر تراشتے ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا راز انھیں کیوں بتلاتے اور کیا تمھیں ان کے متعلق جو باتیں معلوم ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھیں اور تم ان کے متعلق زیادہ معلومات رکھتے ہو اور کیا ان کے عیوب کا علم تمھیں زیادہ ہے، اس معصوم علیہ السلام سے جس پر اللہ رب العالمین کی وحی نازل ہوتی تھی؟ پھر اگر بات یہ ہے کہ یہ راز ابوبکر کے خلیفہ ہونے اور اس کے بعد عمر کے خلیفہ ہونے پر مشتمل ہے تو گویا تم نے اپنے دین کی دھجیاں بکھیر دیں اور شیعی مذہب کے پرخچے اڑا دئیے، تم نے اپنے مذہب اور اپنے علماء پر ضلال مبین کا حکم لگا دیا، کیونکہ تم سب ولایت و وصیت علی کے دعویٰ کو چھپاتے ہو اور تم کہتے ہو کہ کتاب اللہ کی دلیل کے ذریعے سے علی کے بارے میں وصیت ثابت ہے حالانکہ اس کتاب کی تم تحریف کے دعوے دار ہو اور اس حدیث کے مطابق جو تم نے وضع کی ہے۔

یا تو تم اس راز کی صحت کا اعتراف کرو۔ اس طرح تم پورے مذہب شیعہ کو جڑ سے اکھیڑ دو گے اور تمہارا خود ساختہ مذہب تمہارے اپنے ہاتھوں اپنے انجام تک پہنچ جائے یا تم اس کے جھوٹ ہونے کا دعویٰ کرو۔ اس کے بعد تمھیں ہماری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ تم خلوص کے ساتھ حق کی طرف رجوع کر لو گے۔ جس میں کوئی کجی نہ ہو گی اور حق وہی ہے جس پر اہل سنت نیکی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

اہل روافض کے تناقض کی واضح مثالیں ان کے اقوال میں موجود ہیں کہ کون سا راز افشاء کیا گیا اور کس نے افشاء کیا؟ ان کے اصل مفسر قمی اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ راز ابوبکر کی ولایت اور ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہما کی ولایت پر مشتمل تھا۔ ہماری امی جان رضی اللہ عنہا نے یہ راز افشاء کیا۔

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 375، 376۔ تفسیر صافی للکاشانی: جلد 2 صفحہ 716، 717۔ الانوار النعمانیۃ للجزائری: جلد 4 صفحہ 337)

جبکہ دوسرے مفسرین جیسے فیض کاشانی،(محسن بن مرتضی بن فیض اللہ محمود الکاشی اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام محسن بن محمد ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا نا محمد بن محسن ہے اسی طرح اس کی نسبت کاشانی اور قاشانی لکھی جاتا ہے۔ فرقہ امامیہ کے علماء میں ایک مفسر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ 1008 ہجری میں پیدا ہوا۔ ابو حامد غزالی صوفی کی کتابیں پڑھ کر اس سے متاثر ہو گیا اور اپنے منہج میں زیادہ تر اسی کے منہج کو قبول کیا۔ اس کی تصنیفات میں سے تفسیر الصافی ہے۔ 1090 ہجری کو فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 290۔)

نور اللہ تستری اور صدر الدین شیرازی الحسینی(علی بن احمد بن محمد الحسینی جو علی خان بن میرزا احمد کے نام سے مشہور ہے اور اس کا لقب ابن معصوم پڑ گیا۔ اس کا اصل وطن شیراز ہے۔ ادب، شعر اور احوال رواۃ کا عالم تھا۔ فرقہ امامیہ کا شیعہ تھا۔ حجاز میں 1052 ہجری میں پیدا ہوا اور طویل مدت تک ہندوستان میں قیام کیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’سلافۃ العصر فی محاسن اعیان العصر و الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الامامیۃ من الشیعۃمشہور ہیں۔ شیراز میں 1119 ہجری کو فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 279) اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ راز علی کے وصی ہونے پر مشتمل تھا اور جس نے یہ افشاء کیا وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

(علم الیقین للکاشانی: جلد 2 صفحہ 637، 639۔ احقاق الحق للتستری: صفحہ 307۔ الدرجات الرفیعۃ للشیرازی: صفحہ 296، 298)

روافض اس بہتان کی اس طرح تکمیل کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو اس راز کے بارے میں معلوم ہوا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ساتھ ملا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلا کر قتل کر دیا۔

(تفسیر العیاشی: جلد 1 صفحہ 200۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 8 صفحہ 6۔ تفسیر الصافی للکاشانی: جلد 1 صفحہ 305۔ وغیرہا)

نیز اہل تشیع کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 4)

ترجمہ: (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

دلالت کرتا ہے کہ تم دونوں کے دل ایمان سے خالی ہو کر کفر سے بھر گئے اور بیاضی کے بقول (ابو محمد علی بن محمد بن یونس البیاضی العاملی النباطی العنفجوری۔ اہل نبط سے امامی شیعہ تھا جو کوہ عامل میں 791 ہجری میں پیدا ہوا اس کی مشہور تالیفات ’’الصراط المستقیم الی مستحقی التقدیم‘‘ جس کا موضوع ان کے بارہ اماموں کی امامت کا ثبوت ہے۔ ’’منتہی السول فی شرح الفصول‘‘ 877 ہجری میں فوت ہوا۔ (معجم اعلام جبل عامل لعلی داود جابر: جلد 3 صفحہ 320۔ و الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 34۔ انھوں نے یہ روایت حسین بن علوان اور دیلمی کے واسطے سے صادق علیہم السلام سے بیان کی، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ (سورة التحریم: آیت 3)

ترجمہ: ’’اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی۔‘‘ وہ حفصہ تھیں۔

صادق علیہ السلام نے کہا، 

اس نے اپنے اس قول کے ذریعے کفر کیا:

مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَا ’’تجھے یہ کس نے بتایا؟‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کی بہن کے بارے میں فرمایا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا یعنی زاغت اور زیغ سے مراد کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو بتایا کہ اس کا باپ اور ابوبکر معاملے کو سنبھالیں گے۔ اس نے یہ راز عائشہ کو بتا دیا۔ اس نے اپنے باپ کو بتا دیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو بتا دیا۔ وہ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ وہ اس میں جلدی کریں گے وہ دونوں (بیٹیاں ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر پلائیں گی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے کرتوت کے بارے میں بتایا تو آپ نے ان دونوں کے قتل کا ارادہ کیا تب ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حلف اٹھائے (الصراط المستقیم للبیاضی جعفر صادق رحمہ اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے، جلد 3 صفحہ 168) کہ انھوں نے ایسے نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡيَوۡمَ‌ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ۞ (سورۃ التحريم آیت 7)

ترجمہ: اے کفر اختیار کرنے والو! آج معذرتیں پیش مت کرو، تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

اس طرح رافضیوں نے ہماری امی جان رضی اللہ عنہا سے ایمان چھن جانے کا دعویٰ کیا اور ان پر کفر غلیظ کی پھبتی کسی، اور اس ضمن میں اس روایت کا سہارا لیا جس کی کوئی سند نہیں اور اہل علم کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے سے یہ امر مخفی نہیں ہو سکتا۔ صحیح احادیث سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ صنف نازک کی فطرت کے مطابق عورت جب اپنے خاوند سے محبت کرتی ہے تو اس کے دل میں اس کے بارے میں غیرت غالب آ جاتی ہے اور وہ غیرت اسے اس بات کی طرف لے جاتی ہے کہ جس کا مستحق اس کے علاوہ کوئی اور ہوتا ہے۔ خصوصاً جب معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو کہ جن کا وقار اور اکرام واجب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کی رعایت کرنا اعلیٰ قسم کی رعایت ہے اور ہر اس بات سے دور رہنا ضروری ہوتا ہے جس سے ان کی عصمت پر حرف آنے کا اندیشہ ہو۔

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث روایت کی ہے جس میں مذکورہ راز کا قصہ بیان ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں: بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد پیتے تھے۔ چنانچہ میں نے حفصہ کے ساتھ مشورہ کیا کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہمیں یہی کہنا ہو گا کہ مجھے آپ سے مغافیر (گوند) کی بدبو آ رہی ہے۔ کیا آپﷺ نے مغافیر کھائی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو اس نے آپﷺ سے یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور میں اب کبھی نہیں پیوں گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 1، 2، 3، 4 )

ترجمہ: اے نبی ! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔ اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔(اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

ان آیات میں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو خاص نصیحت کی گئی ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اور اس آیت کے شان نزول کے ضمن میں شہد والے واقعے سے زیادہ مشہور ایک اور واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ سے استمتاع نہ کرنے کی قسم اٹھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ راز ہماری امی جان حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا۔ وہ بہت زیادہ خوش ہوئیں اور خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت بھول گئیں اور ہماری دوسری امی جان سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کر دیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں سے علیحدہ ہونے کے ضمن میں لکھتے ہیں اور آیات کے شان نزول کے بارے میں علماء مفسرین کے اقوال نقل کر کے راجح کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ان سب اقوال میں سے راجح ترین قول ماریہ قبطیہ والا قصہ ہے کیونکہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا خصوصی طور پر اس قصے میں تذکرہ ہے۔ جبکہ شہد والے واقعہ میں سب بیویوں کا اشتراک تھا۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 9 صفحہ 290)

دوسرے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اوپر شہد پینے کو حرام کرنے کا واقعہ جو ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بدبو نہ آئے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا۔ :’’سعید بن منصور کے ہاں مسروق تک صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو قسم دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لونڈی کے قریب نہیں جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھ پر حرام ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے کفارہ کے لیے آیت نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ جو چیز آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہے آپ اسے حرام نہ کریں۔

(اسے بیہقی نے سعید بن منصور کی سند سے جلد 7 صفحہ 353 پر حدیث نمبر: 15474 میں روایت کیا۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 8 صفحہ 525 پر کہا: اس کی سند صحیح ہے اور یہ قصہ ابن اسحاق کے ہاں عمر کی حدیث جو ابن عباس سے مروی ہے اس میں اضافی طور پر درج ہے۔

اور علامہ ضیا ء المقدسی نے ’’الاحادیث المختارۃ‘‘ (حدیث نمبر 189) میں مسند ہیثم بن کلیب سے، پھر جریر بن حازم کی سند سے بواسطہ ایوب، نافع، ابن عمر سے روایت کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے کہا: تو کسی کو نہ بتانا کہ ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ بقول راوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب نہیں گئے حتیٰ کہ حفصہ نے عائشہ کو بتا دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا:

قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞ سورة التحريم آیت 2

ترجمہ: ’’بے شک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمھارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ ‘‘اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

پھر مصنف نے سب طرق جمع کیے اور اپنی تحقیق اس طرح ختم کی کہ یہ سب اسناد ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں، لہٰذا احتمال یہی ہے کہ آیت دونوں اسباب میں ایک ساتھ نازل ہوئی ہو۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 657 مختصرًا)

تو یہ روای اصل معاملہ واضح کرتی ہیں، رافضیوں کی من گھڑت ضلالتوں کے شائبہ تک سے پاک ہیں۔ علاوہ ازیں ان سے وضاحت ہوتی ہے کہ ان سب عبارات اور جملوں اور افعال کے پیچھے بیوی کی اپنے خاوند کے معاملے میں غیرت ہے۔ جیسا کہ تمام عورتوں کی باہمی فطرت ہے۔ حتیٰ کہ عورت سے ایسے اقوال و افعال سرزد ہوتے ہیں جو اس کے لائق نہیں ہوتے اور جنھیں چھوڑنا بہتر ہوتا ہے۔ بہرحال وہ دونوں بیویاں تھیں، انھیں اپنے خاوند کے معاملہ میں غیرت نے دبوچ لیا اور ان دونوں کے درمیان اتفاق ہو گیا کہ ان میں سے جس کسی کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ آپ سے استفہامیہ انداز میں کہے گی کہ آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر () کھائی ہے؟

تب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو نصیحت کرنے کے انداز میں یہ آیات نازل فرمائیں، تاکہ انھیں اپنے فعل پر ندامت ہو اور اس فعل پر انھیں توبہ کی رغبت دلائی۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا فعل نہیں کرنا چاہیے۔ چونکہ ان دونوں رضی اللہ عنہما کے دل اس بات کی طرف مائل ہو گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھنا ترک کر دیں۔

امام بغوی رحمہ اللہ اس آیت ﴿ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ﴾ (التحریم: 4) کی تفسیر میں لکھتے ہیں: 

’’یہ خطاب سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کو کیا گیا ہے اور اس میں ضمیر غائب سے یک دم ضمیر مخاطب کی طرف اس لیے تبدیل کی گئی ہے تاکہ ان دونوں کے عتاب میں تاکید نظر آئے۔ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ’’تم دونوں سے ایسا فعل سرزد ہو چکا ہے جس سے توبہ کرنا واجب ہے۔ چونکہ تم دونوں کے اوپر واجب تھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خلوص دل (المغافیر: ایک درخت عرفط کی میٹھی گوند ہے جس کی بو نامناسب ہوتی ہے۔ (لسان العرب لابن منظورجلد 7 صفحہ 350) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ نفاست پسند اور سب سے زیادہ پاکیزگی اور صفائی پسند تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کی بیویوں کو آپ سے ناگوار بو آئے) سے پیش آؤ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کریں تم بھی وہی پسند کرو اور جس سے وہ نفرت کریں تم بھی اس سے نفرت کرو۔‘‘

(انوار التنزیل و اسرار التاویل للبیضاوی: جلد 5 صفحہ 224)

امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

 اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ (سورة التحریم آیت 4) یہاں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی تم دونوں کو اللہ کے سامنے توبہ کرنی چاہیے کیونکہ تم دونوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ واجب ہو جاتی ہے اور ﴿ صَغَتْ ﴾ کا معنی حق سے پھرنا اور تبدیلی کرنا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ان دونوں نے اس چیز کو پسند کر لیا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفرت کرتے تھے اور وہ افشائے راز ہے اور یہ معنی بھی کیا گیا: ’’تمھیں چاہیے کہ اللہ کے سامنے توبہ کر لو کیونکہ تم دونوں کے دل توبہ کی طرف مائل ہیں۔‘‘

(فتح القدیر للشوکانی: جلد 5 صفحہ 298، 299)

علامہ محمد امین شنقیطی (شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ۔ محمد امین بن محمد مختار بن عبدالقادر الجکنی الشنقیطی۔ اپنے وقت کے عالم ربانی، ماہر اصول، مفسر اور علوم لغت کا سمندر تھا۔ 1325 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی، پھر ریاض چلے گئے اور بالآخر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ ان کی مشہور تصانیف ’’اضواء البیان‘‘ اور ’’دفع ایہام الاضطراب بمن آسي الکتاب‘‘ ہیں۔ 1393 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 45) رحمہ اللہ نے لکھا: صغت کا معنی ’’مالت و رضیت و احبت‘‘ یعنی ان کے دل مائل ہو گئے، خوش ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ناپسند تھا انھوں نے وہ پسند کر لیا۔

(اضواء البیان للشنقیطي: جلد 8 صفحہ 220)

یہ خطا ان سے محبت میں شدت کی وجہ سے سرزد ہوئی نہ کہ ان کی نیت خراب تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ابراہیم کے پاس نہ جانے کا عزم ظاہر کیا تو ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا اتنی خوش ہوئیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز رکھنے کے حکم کو فراموش کر دیا۔ تاہم وہ معصوم نہیں ہیں اور نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معصوم ہیں اور حسب مقولہ ’’بڑوں کی غلطیاں ان کی صلاحیتوں میں کمی نہیں لاتیں اور نہ ان کے فضائل کم ہوتے ہیں۔‘‘ البتہ توبہ کے ذریعے سے دلوں کو نئی زندگی ملتی ہے اور شارع کی مخالفت میں پڑنے سے پہلے وہ نہایت نرم مزاج اور بلند مقام ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ ۞

(الاعراف: آیت  201)

ترجمہ: ’’یقیناً جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔‘‘

تو تقویٰ کی شرط معصوم عن الخطا ہونا نہیں اور نہ ہی کبیرہ گناہ سے پرہیز تقویٰ کی شرط ہے۔ کیونکہ کبیرہ گناہ سے بندے کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے۔ بلکہ متقی آدمی سے بھی کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ (حاطب بن ابی بلتعہ لخمی رضی اللہ عنہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقوقس کی طرف دعوت نامہ دے کر بھیجا۔ قریش کے مشہور شہسوار تھے۔ جاہلیت کے عظیم شاعر تھے۔ 30 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 93۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 4۔)رضی اللہ عنہ سے کبیرہ گناہ سرزد ہو گیا۔ لیکن اس گناہ سے پہلے اور اس گناہ کے بعد ان کی نیکیاں اسے مٹانے کا موجب بن گئیں۔ اگرچہ وہ بہت بڑا تھا۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دیانت و امانت، ورع و زہد، حسن کردار و اخلاق، اللہ کے ساتھ مضبوط رابطے، بکثرت روزے رکھنے اور جود و سخا میں دریا دلی کے کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھیں۔ اسی طرح ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا صوامہ و قوامہ تھیں اور ان کے گواہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ امام حاکم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے کہا:

رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّہَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَ اِنَّہَا زَوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ

(شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 12 صفحہ 27۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 1 صفحہ 54، حدیث نمبر 151۔ اسے حاکم نے جلد 4 صفحہ 17 پر روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 393 پر کہا ہے کہ اس کی سند میں متعدد راویوں کو میں نہیں جانتا اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع: حدیث نمبر 4351 میں حسن کہا اور یہ حدیث عمار بن یاسر سے صفحہ 262 پر گزر چکی ہے۔

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کو منا لیں کیونکہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والی اور بکثرت قیام اللیل کرنے والی اور جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بھی ہیں۔‘‘

ابو العباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے ان دونوں زوجات مطہرات کو توبہ کی طرف توجہ دلائی۔ اس لیے ان کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جائے گا کہ انھوں نے توبہ نہیں کی۔ باوجودیکہ ان دونوں کے بلند درجات کے ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ وہ دونوں جنت میں ہمارے نبی کی بیویاں ہوں گی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی زندگی، اس کی عیش و عشرت اور اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر سے ان کو کوئی ایک چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا تو ان سب نے اللہ، اس کے رسول اور دار آخرت کو منتخب کیا اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام کر دیا کہ ان بیویوں کے بدلے آپ کوئی اور کر لیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام کر دیا کہ ان بیویوں کے بعد کسی اور عورت سے شادی کریں اور اس آیت خیار اور تحریم کے بعد کی مدت میں اختلاف ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کرنے کی اجازت تھی یا نہیں۔ قرآنی نصوص کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ سب امہات المؤمنین کے لقب سے معمور تھیں۔ پھر قرآن میں یہ وضاحت آ چکی تھی کہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور توبہ سے گناہوں کی معافی ہو جاتی ہے اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور مصائب پر صبر کرنے سے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 314)

یہی اوصاف امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے شایانِ شان ہیں جو تمام مؤمنوں کی مائیں ہیں۔ ان کا فضل و شرف اور ان کی صلاحیتیں یقینی ہیں اور اہل السنہ کے علاوہ اولیاء اللہ کی کما حقہ توقیر کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ہمیشہ عادلانہ فیصلے کرتے ہیں اور معاملات کو انصاف کے ترازو میں تولتے ہیں۔ چونکہ ان میں غلو کرنے والوں کا ظلم بھی نہیں اور نہ ہی افتراء پردازوں جیسی جرأت ہے۔

مذکورہ بالا شبہ کے جواب کا خلاصہ

مذکورہ بالا شبہ کے جواب کا خلاصہ ہم دو نکات میں بیان کر سکتے ہیں:

1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں نہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے فرمایا: ’’تم کسی کو نہ بتانا اور ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو حلال کیا ہے کیا آپ اسے حرام کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اس کے قریب بھی نہیں جاؤں گا۔ بقول راوی جب تک حفصہ نے عائشہ کو خبر نہ کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام ابراہیم کے قریب نہیں گئے۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:

قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌  (سورة التحریم آیت 2)

ترجمہ: اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے

(الاحادیث المختارۃ لضیاء المقدسی حدیث نمبر: 189۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صحیح ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 186) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہی : اس کے متعدد طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ (فتح الباری: جلد 8 صفحہ 525)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور صحاح ستہ میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ حافظ ضیاء مقدسی نے اسے اپنی مستخرج میں نقل کیا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 159) 

بقول مصنف (سیرۃ عائشہ) اصل حدیث صحیحین میں ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4913۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 3765)

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے راز افشاء کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں، اور اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں۔ طاہر بن عاشور نے کہا: اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو راز دیا تھا اور جسے انھوں نے بتایا تھا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

( التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 28 صفحہ 351)

شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی (شاہ عبدالعزیز بن ولی اللہ بن عبدالرحیم العمری الدہلوی، اپنے وقت کے ہندوستان میں بہت بڑے عالم تھے۔ مفسر، محدث اور کتب شیعہ پر ان کو عبور حاصل تھا۔ علم کا وسیع سمندر تھے۔ 1159 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’فتح العزیز‘‘ و ’’مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ فی الکلام علی مذہب الشیعۃ‘‘ ہیں اور ثانی الذکر کی پہلے کوئی مثال نہیں۔ 1239 ہجری میں وفات پائی۔ (’’مقدمۃ مختصر التحفۃ‘‘ و الاعلام للزرکلی: نے جلد 4 صفحہ 14) نے اس بات پر مفسرین کا اجماع نقل کیا وہ کہتے ہیں: ’’مفسرین کا اجماع ہے کہ راز کا افشاء سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا کسی اور سے نہیں۔‘‘

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ: رقم: 269)

یہ بات شیعہ کی تفاسیر میں بھی ثابت ہے، جیسے ’’مجمع البیان للطبرسی‘‘ میں مذکور ہے۔

(مجمع البیان للطبرسی: جلد 10 صفحہ 56، 58۔ مصنف نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مختصر التحفۃ اثنی عشریہ: رقم: 270)

طبرسی کا شمار شیعہ کے ان علماء میں ہوتا ہے جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علو شان کے معترف ہیں۔ زین العابدینؒ کو رانی نے کہا: اسی طرح ان کے علماء میں سے طبرسی نے بھی اپنی تصانیف میں صحابہؓ کی علو شان کا اعتراف کیا ہے۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔

اس نے مذکورہ آیات کو صحابہ کی عمومی اور خصوصی ثنا شمار کیا ہے بلکہ اس نے مزید آیات بھی اس ضمن میں درج کی ہیں۔

(الیمانیات المسلولۃ علی رقاب الرافضۃ المخذولۃ: صفحہ 246)

2۔ چلو یہی فرض کر لیتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا تھا تو زیادہ سے زیادہ کیا کہا جائے گا کہ اس نے نافرمانی کا ارتکاب کیا، پھر اس سے توبہ کر ل ۔ چنانچہ جنت میں جانے والوں کے لیے گناہوں سے معصوم ہونا شرط نہیں بلکہ مومن بھی گناہ کرتے ہیں پھر وہ توبہ کر لیتے ہیں اور بعض اوقات توبہ کے بغیر دیگر اسباب سے ان کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو صغیرہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ یہ جمہور اہل سنت کی رائے ہے۔ بلکہ ایسے گناہ ان نیک اعمال کی وجہ سے مٹا دیے جاتے ہیں جو برائیوں سے درجے میں بہت بڑے ہوتے ہیں اور اکثر اہل سنت کے نزدیک مصائب کے نزول کے وقت صبر سے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے امت مسلمہ پر کس قدر احسانات ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی زندگی میں بھی اطاعت گزاری کی اور ان دونوں کے لیے یہی شرف کافی ہے کہ ان دونوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دنیا اور اس کی زینت پر ترجیح دی۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 310، 314)