تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا۔

یہ شبہ روافض نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔

(منہاج الکرامۃ للحلی: صفحہ 75۔ مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز الدہلوی: صفحہ 269۔)

اس کے ذریعے سے وہ ہماری امی عائشہؓ اور ہماری امی حفصہؓ پر تہمت لگاتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا جس کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ کی ولایت ثابت ہوتی تھی اور رافضی اس وجہ سے ان دونوں پر کفر کرنے کا حکم لگاتے ہیں ۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: 

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 3، 4 )

ترجمہ: اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔(اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

رافضیوں کے نزدیک ان دونوں کے دلوں کی کجی اور اسلام سے دونوں کے برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ کیا یہ فعل ان کے کفر پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں نے راز افشاء کیا، جس کے متعلق کسی نے کہا کہ اس سے مراد ابی بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ یہ فرمان علی رضی اللہ عنہ کے وصی ہونے کی بابت ہے۔ شیعہ کی نصوص کے مطابق اس شبہ کی تحقیق کرنے سے پہلے ہم اپنا تعجب ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ اہل تشیع کے بہتان پر تعجب لامحدود ہو گیا ہے۔ جب وہ ہر قبیح لقب ہماری امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر چپکاتے ہیں اور وہ انھیں مختلف برے القاب جیسے ام الشرور، شیطانہ۔ بلکہ انھوں نے اپنے ایک مجلے میں انھیں ام المتسکعین کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ بلکہ ایک دریدہ دہن نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جہنم کے سات دروازوں میں سے ایک عائشہ کے لیے ہے۔ سورۃ حجر کی آیت لہا سبعۃ ابواب کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جہنم کے سات دروازوں میں سے چھٹا دروازہ [عسکر] عائشہ کے لیے مخصوص ہے۔

(تفسیر عیاشی: جلد 2 صفحہ 263۔)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔

جب ہم مؤمنین کی ماں کی تمہارے نزدیک یہ قدر و منزلت ہے تو کیا تمہارے پاس اتنی عقل بھی نہیں جو تمھیں جھوٹ گھڑتے وقت واضح تناقض سے محفوظ رکھے۔ ایک طرف تو تم سیدہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا کینہ رکھتے ہو کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور علی کا بدترین دشمن باور کرنے کی کوشش کرتے ہو اور ساتھ ہی ساتھ تم یہ کہتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ خاص راز ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور یہ تمہارے عقیدے کا نچوڑ اور جوہر ہے، یعنی علی رضی اللہ عنہ کی امامت والی حدیث جس سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب لوگوں سے زیادہ قریب تھیں کیونکہ کوئی انسان اپنا دلی راز اسے ہی دیتا ہے جو اس کے دل اور روح کے زیادہ قریب ہو، جیسا کہ ضرب المثل ہے:

’’تیرا راز تیرے خون کی طرح ہے تو خوب غور کر کہ وہ کہاں محفوظ رہے گا۔‘‘

حالانکہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ، داماد علی اور چچا عباس رضی اللہ عنہمن حیات تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس راز میں انھیں کیوں شریک نہ فرمایا؟؟

تو اس راز کی بابت تمہارا اعتقاد تو یہ ہے کہ کسی آدمی کا ایمان اس پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور اگر ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کی اصلیت وہ ہوتی جو تمہاری گناہ سے آلودہ، ناپاک اور من گھڑت روایات بتاتی ہیں جنھیں تم ان کے خلاف اپنے کینے اور نفرت کی بنا پر تراشتے ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا راز انھیں کیوں بتلاتے اور کیا تمھیں ان کے متعلق جو باتیں معلوم ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھیں اور تم ان کے متعلق زیادہ معلومات رکھتے ہو اور کیا ان کے عیوب کا علم تمھیں زیادہ ہے، اس معصوم علیہ السلام سے جس پر اللہ رب العالمین کی وحی نازل ہوتی تھی؟ پھر اگر بات یہ ہے کہ یہ راز ابوبکر کے خلیفہ ہونے اور اس کے بعد عمر کے خلیفہ ہونے پر مشتمل ہے تو گویا تم نے اپنے دین کی دھجیاں بکھیر دیں اور شیعی مذہب کے پرخچے اڑا دئیے، تم نے اپنے مذہب اور اپنے علماء پر ضلال مبین کا حکم لگا دیا، کیونکہ تم سب ولایت و وصیت علی کے دعویٰ کو چھپاتے ہو اور تم کہتے ہو کہ کتاب اللہ کی دلیل کے ذریعے سے علی کے بارے میں وصیت ثابت ہے حالانکہ اس کتاب کی تم تحریف کے دعوے دار ہو اور اس حدیث کے مطابق جو تم نے وضع کی ہے۔

یا تو تم اس راز کی صحت کا اعتراف کرو۔ اس طرح تم پورے مذہب شیعہ کو جڑ سے اکھیڑ دو گے اور تمہارا خود ساختہ مذہب تمہارے اپنے ہاتھوں اپنے انجام تک پہنچ جائے یا تم اس کے جھوٹ ہونے کا دعویٰ کرو۔ اس کے بعد تمھیں ہماری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ تم خلوص کے ساتھ حق کی طرف رجوع کر لو گے۔ جس میں کوئی کجی نہ ہو گی اور حق وہی ہے جس پر اہل سنت نیکی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

صفحہ 1 از 6