تیسرا شبہ
علی محمد الصلابییہ کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے انھیں گھر سے نکلنے پر آمادہ کیا اور دونوں نے ان کے ساتھ سفر کیا۔
(منہاج الکرامۃ للحلی: 75)
اس شبہے کا جواب کئی وجوہ سے دیا جائے گا۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 194)
وجہ نمبر1: ان دونوں نے انھیں گھر سے نکلنے پر آمادہ نہیں کیا، بلکہ وہ ان دونوں سے مکہ میں ملیں اور ان سے پہلے وہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عمرہ کے لیے اجازت لے چکے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اجازت دے دی تھی۔
وجہ نمبر 2: یہ کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظمت شان کے معترف تھے اور وہ تینوں برائی سے دُور تھے۔
وجہ نمبر 3: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے محرموں کے ساتھ پابہ رکاب تھیں۔ جیسے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جو ان کے بھانجے تھے۔ وہی ان کو اٹھا کر پالکی میں سوار کراتے اور بوقت پڑاؤ نیچے اتارتے اور کتاب و سنت و اجماع کے مطابق وہ انھیں چھو بھی سکتے تھے اور وہ لشکر جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ قتال کیا اس میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور یہ وہی ہیں جنھوں نے جنگ کے بعد اپنی بہن کی پالکی میں ہاتھ بڑھایا تاکہ ان کی مدد کرے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں یوں بددعا دی یہ کس کا ہاتھ ہے، اللہ تعالیٰ اسے آگ سے جلائے۔ تو انھوں نے کہا: اے بہنا! آخرت سے پہلے دنیا میں؟ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آخرت سے پہلے دنیا میں۔ چنانچہ محمد بن ابی بکر کو مصر میں آگ سے جلا دیا گیا۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 355)
ان تمام مشاہد کو مومن تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خصوصی لطف و کرم سمجھتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کسی غیر محرم کا ہاتھ لگنے سے بھی محفوظ رکھا۔
پچھلی امتوں میں ایک ظالم نے ابراہیم خلیل اللہ کی بیوی ہاجرہ رحمہ اللہ کو چھونے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ کو شدید جھٹکا لگا۔ ایسا تین بار ہوا تو وہ اپنے ناپاک ارادے میں ناکام رہا۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3358۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 6294)
اگر اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کی شان میں گستاخی کرنے والے کا یہ حشر ہوا تو پھر تمام مخلوق سے اشرف و افضل نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے بدسلوکی کرنے والے کا کیا حشر ہو سکتا ہے؟ اس سے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی ہر تہمت کے باطل ہونے کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آبرو کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ اللہ کے فضل سے اس سے بری ہیں ۔ واللّٰہ اعلم۔