تیسرا شبہ
علی محمد الصلابیروافض کی بے حیائی پر مبنی ہرزہ سرائی کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا غیر محرموں سے حجاب نہیں کرتی تھیں۔‘‘
روافضہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے حجاب نہ کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک یوں کہتا ہے: یہ تو غیر مناسب ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے وضو کریں، اپنے ہاتھ دھوئیں، اپنے دونوں رخسار دھوئیں، اپنا چہرہ دھوئیں اور اپنے کانوں کا مسح کریں۔ جیسے کہ (سنن نسائی) میں ہے۔۔۔ اور اسی طرح یہ بھی نامناسب ہے کہ وہ مردوں کے سامنے غسل کریں۔ اس نے صحیحین وغیرہ میں مروی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غسل والی حدیث تحریر کی اور روافض کو یہ شبہ دو درج ذیل احادیث کی وجہ سے لگا۔
حدیث اول: عبدالملک بن مروان بن حارث سے روایت ہے اس نے کہا مجھے ابو عبداللہ سالم سبلان نے خبر دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی ادائیگی امانت پر تعجب کرتیں اور انھوں نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے۔ انھوں نے کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی اور تین بار اپنے چہرے کو دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ اور پھر بایاں ہاتھ دونوں تین تین بار دھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اپنا ہاتھ رکھا، پھر اپنے سر کے پچھلے حصے تک ایک ہی بار مسح کیا پھر انہی ہاتھوں سے اپنے کانوں کا مسح کیا۔ پھر وہی ہاتھ اپنے رخساروں پر لگائے۔ سالم نے کہا: میں مکاتبت کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس آتا تو وہ مجھ سے اوجھل نہ ہوتیں وہ میرے سامنے بیٹھ جاتیں اور مجھ سے باتیں کرتیں۔ حتیٰ کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا تو کہا: اے ام المؤمنین! آپ میرے لیے برکت کی دعا کریں، تو انھوں نے فرمایا: تیری کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ تیرے لیے برکت کرے اور میرے آگے پردہ لٹکا دیا۔ پھر اس دن کے بعد میں نے انھیں نہیں دیکھا۔
(سنن نسائی: جلد 1 صفحہ 72۔ الکنی للدولابی: جلد 2 صفحہ 820، حدیث نمبر: 1430۔ التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 110۔ المتفق و المفترق للخطیب البغدادی: جلد 3 صفحہ 1524، حدیث نمبر: 854۔ ابن قطان نے کہا: یہ صحیح نہیں۔ (احکام النظر: 213۔) اور علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح ہے۔ (صحیح سنن نسائی: حدیث نمبر: 100)
دوسری حدیث: جو بخاری و مسلم نے ابوبکر بن حفص سے روایت کی ہے اس نے کہا میں نے ابو سلمہ کو کہتے ہوئے سنا: میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت پوچھی۔ انھوں نے ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلو) کے قریب ایک برتن منگوایا اور غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اور ہمارے اور ان کے درمیان حجاب تھا۔
(صحیح بخاری' حدیث نمبر: 251۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 320)
اس شبہے کا جواب:
اول: نسائی کی روایت کے بارے میں وضاحت
اس حدیث کے صحیح ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے۔ اس کی سند میں عبدالملک بن مروان بن حارث بن ابی ذباب مجہول ہے۔ جُعَیْد بن عبدالرحمٰن کے سوا اس سے کسی نے روایت نہیں کی۔
اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی اس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غیر محرموں سے حجاب نہیں کرتی تھیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک فقیہہ اور مجتہدہ صحابیہ تھیں اور ان کا یہ ایک اجہتادی مسئلہ تھا کہ وہ غلام سے پردے کو ضروری نہیں سمجھتی تھیں، یہاں غیر محرم کی بات نہیں بلکہ غلام کی بات ہے اس کے اجتہاد پر بھی انھیں اجر ہی ملے گا اور جب انھیں آزاد کر دیا گیا تو ان کے آگے فوراً پردہ لٹکا دیا۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں: انھوں نے میرے آگے پردہ لٹکا دیا اس دن کے بعد میں نے انھیں نہیں دیکھا۔
(سندی نے کہا اس کی بنیاد یہ ہے کہ مکاتب پر جب ایک درہم بھی باقی ہو تو وہ بہرحال غلام ہوتا ہے اور شاید وہ عائشہ کے کسی قریبی کا غلام تھا اور وہ سمجھتی تھیں کہ غلام اپنی مالکن اور اس کے رشتہ داروں کے پاس آ سکتا ہے اور بہتر علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ (حاشیہ السندی علی النسائی: جلد 1 صفحہ 73۔)
کتب سنت میں اس کے شواہد بے شمار ہیں ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا اگر وہ اس کے ساتھ اپنا سر ڈھانپتی تو وہ ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا اور اگر اس کے ساتھ پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل دیکھی تو فرمایا:
اِنَّہٗ لَیْسَ عَلَیْکِ بَاْسٌ، اِنَّمَا ہُوَ اَبُوْکِ وَ غُلَامُکِ
’’تم پر کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں تمہارا باپ اور تمہارا غلام ہیں۔‘‘
(سنن ابو داود: حدیث نمبر: 4106۔ الاحادیث المختارہ لضیاء المقدسی، حدیث نمبر: 1716۔ سنن کبری للبیہقی: جلد 7 صفحہ 95، حدیث نمبر: 13929۔ اس حدیث کو ابن القطان نے احکام النظر، 196 میں صحیح کہا۔ ضیاء المقدسی نے السنن و الاحکام: جلد 5 صفحہ 107 پر کہا مجھے اس کی سند میں کوئی نقص معلوم نہیں اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے المہذب: جلد 5 صفحہ 2671 میں اور ابن الملقن نے البدر المنیر: جلد 7 صفحہ 510 میں اس کی سند کو جید کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اسے صحیح کہا۔
اکثر علمائے اہل سنت غلام کے لیے اپنی مالکن کو دیکھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ ’’شرح مختصر خلیل‘‘ میں لکھا ہوا ہے: ’’جو غلام بغیر کسی شریک کے ہو اور جو قسط وار اپنی آزادی کے لیے ادائیگی کے مرحلے میں ہو اور بد صورت ہو تو وہ اپنی مالکن کے بالوں اور اس کے ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ کو دیکھ سکتا ہے۔ جو کچھ عورت کے محرم اس سے دیکھ سکتے ہیں اور خلوت میں بھی اس کے ساتھ جا سکتا ہے۔ ابن ناجی کا یہی قول مشہور ہے۔ بشرطیکہ وہ غلام مکمل طور پر مذکورہ مالکن کا ہو۔‘‘
(شرح مختصر خلیل للخرشی: جلد 3 صفحہ 221)
روافض خود بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت پر غلام سے حجاب واجب نہیں صرف اس صورت میں کہ وہ اپنی آزادی کی قیمت ادا کر چکا ہو۔
چنانچہ یوسف البحرانی ( یوسف بن احمد بن ابراہیم الدرازی البحرانی امامیہ شیعہ کا فقیہ شمار ہوتا ہے۔ 1107 ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الحدائق الناضرۃ‘‘ اور ’’انیس المسافر‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 1186 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 215) نے کہا معاویہ بن عمار سے دو سندوں کے ساتھ روایت ہے، ان میں سے ایک صحیح ہے اور دوسری حسن ہے جو صحیح کے برابر ہے۔ اس نے کہا میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے پوچھا کیا غلام اپنی مالکن کے بال اور پنڈلی دیکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں اور عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ نے ابان بن عثمان سے صحیح اور معتمد سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے غلام کے بارے میں پوچھا کیا وہ اپنی مالکن کے بال دیکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں۔
(الحدائق الناضرۃ لیوسف البحرانی: جلد 23 صفحہ 69)
شیعہ کے بیشتر علماء نے بھی یہی کہا۔
(مستند للنراقی: جلد 16 صفحہ 53۔ الکافی: للکلینی: جلد 5 صفحہ 531۔ وسائل الشیعۃ للحر العاملی: جلد 20 صفحہ 223۔ مستمسک العروۃ لمحسن الحکیم: جلد 14 صفحہ 43 )
یہ بالکل واضح ہے کہ مالکن مکاتب کی تمام قسطیں وصول کرنے سے پہلے پہلے اس سے حجاب کرنے کی پابند نہیں ہے۔ چنانچہ اس اصول کی بنا پر شیعوں کے پاس اس شبہے کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی اپنی کتابیں ہی ان کا رد کرتی ہیں۔
دوم: متفق علیہ حدیث میں بھی ایسی کوئی بات نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں۔ چنانچہ راویٔ حدیث ابو سلمہ: یہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھانجا ہے۔ ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا نے اسے دودھ پلایا ہے۔ اس رشتہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی خالہ ہیں اور دوسرا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ چنانچہ دونوں آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے محرم ہیں۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سر دھونے کی کیفیت دیکھی اور جسم کا بالائی حصہ یعنی چہرہ وغیرہ دیکھا جو محرم کے لیے حلال ہے ان دونوں میں سے ایک عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا، کہا گیا ہے اس کا نام عبداللہ بن یزید ہے اور ابو سلمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھانجا تھا۔ اسے ام کلثوم بنت ابی بکر نے دودھ پلایا تھا۔
(اکمال المعلم للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 163)
حافظ ابن رجب (عبدالرحمن بن احمد بن رجب ابو الفرج دمشقی حنبلی، امام، حافظ، حجت، فقیہ، معتمد علیہ۔ 726 ہجری میں پیدا ہوا فنون حدیث کا ماہر، اصولی، عابد، زاہد اور صاحب ورع تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’جامع العلوم و الحکم‘‘ اور ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 795 ہجری میں فوت ہوا۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 367۔ انباء الغمر لابن حجر: جلد 1 صفحہ 460)رحمہ اللہ نے کہا: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ابو سلمہ نابالغ لڑکا تھا اور دوسرا عائشہ کا رضاعی بھائی تھا۔
(فتح الباری لابن رجب: جلد 1 صفحہ 249)
جس طرح رافضیوں نے ہولناکی ظاہر کی ہے۔ وہاں مردوں کا جمگھٹا نہیں تھا۔ ان دونوں میں سے ایک نوعمر لڑکا اور دوسرا عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا، کوئی غیر نہ تھا۔
لہٰذا حدیث میں روافض کے لیے قطعاً کوئی دلیل نہیں۔ و اللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
سوم: رافضی شیعہ کہتا ہے: کون ہے جو غسل کی کیفیت سے واقف نہ ہو اور اضطراری حالت میں خصوصی طور پر عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے چلا گیا؟
یہ رافضی اپنے دل کے مرض کو بھول گیا کہ سوال مطلق طور پر غسل کی کیفیت کے بارے میں نہ تھا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کے بارے میں تھا اور یہ ایسا عمل ہے جو بہترین طور پر وہی جانتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسرار سے واقف ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ عالمہ اور فقیہہ مطلق طور پر باتفاق علماء ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
چہارم: کیا کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ جب ہماری امی جان نے اپنے بھائی اور بھانجے کو تعلیم دینا چاہی تو اپنے کپڑے اتار دئیے اور انھوں نے کپڑوں کے بغیر غسل کیا اور کیا غسل کا طریقہ بتلانے کے لیے کپڑے اتارنا ضروری ہے؟ اور کپڑے اتارنے کے لیے حجاب لینا شرط نہیں؟ بلکہ ہماری امی جان نے پردہ پوشی میں مبالغہ کیا کہ جب پانی جسم پر بہایا جائے گا تو کپڑے بدن کے اوصاف بیان کریں گے اور کپڑوں کے جسم کے ساتھ چپکنے کی وجہ سے تمام بدن نمایاں ہو گا۔لہٰذا انہوں نے درمیان میں حجاب کر لیا۔
پنجم: کیا شیعہ کا اعتقاد یہ ہے کہ امہات المؤمنین کے گھر میں وحشت کے ڈیرے تھے نہ کوئی ان کو ملنے کے لیے جاتا اور نہ ہی مسلمان مرد و زن علم حاصل کرنے کے لیے وہاں جاتے اور نہ اپنے دین کے احکام سیکھنے اور ان کے متعلق فتویٰ لینے کے لیے وہاں جاتے تھے؟ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گھر ہر وقت فتویٰ پوچھنے والے لوگوں سے بھرے رہتے۔ وہ سوال کرنے جاتے اور عورتیں امہات المؤمنین کے پاس جاتیں تاکہ دین میں تفقہ حاصل کریں اور ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام مسلمانوں کا ماویٰ و ملجا تھیں کیونکہ ان کے پاس حدیث کا علم وافر تھا اور وہ ذہانت و فطانت کا منبع تھیں۔
اسی طرح ہماری یہ امی جان عورتوں کو ایسے احکام کی تبلیغ بھی کرتی تھیں کہ مردوں کو ان احکام کی تبلیغ کرنے سے حیا ان کے آڑے آتی تھی۔ کیونکہ ہماری امی جان اپنی عفت و عصمت میں ہر لحاظ سے مکمل اور بلند اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھیں۔
یہ سیدہ معاذہ ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے خاوندوں کو پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دو کیونکہ مجھے ان کو کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے۔
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 19۔ سنن النسائی: جلد 1 صفحہ 42۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 95، حدیث نمبر: 24683 مسند ابی یعلیٰ جلد 8 صفحہ 12۔ صحیح ابن حبان: جلد 4 صفحہ 290، حدیث نمبر: 1443 و 4514۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 105، حدیث نمبر: 526۔ ترمذی نے کہا حسن صحیح ہے۔ عبدالحق اشبیلی نے ’’الاحکام الصغریٰ‘‘ حدیث نمبر: 103 میں اس کی سند کو صحیح کہا اور ابن قدامہ نے الکافی جلد 1 صفحہ 52 میں حدیث کو صحیح کہا اور نووی نے ’’المجموع‘‘ جلد 2 صفحہ 101، پر حدیث کو صحیح کہا۔ ابن دقیق العید نے ’’الامام‘‘ جلد 2 صفحہ 537، میں کہا اس حدیث کے سب راوی صحیحین کی شرط پر ثقہ ہیں اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا۔
مثلاً ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں اکٹھی ہوتیں اور وہ انھیں نماز کی امامت کرواتیں ۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 3 صفحہ 140۔ حجیرہ بنت حصین سے مروی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 2 صفحہ 88۔ ام حسن سے مروی ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنۃ: 154 میں کہا اس کی سند صحیح ہے اور اس کے سب راوی معروف ثقات ہیں جو شیخان کے راویوں سے ہیں ۔ سوائے ام حسن کے)یا ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ جاتی تھیں۔
(یہ حدیث عبدالرزاق نے روایت کی: 5087۔ حاکم: جلد 1 صفحہ 320۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 408، حدیث نمبر: 1998 پر روایت کی۔ علامہ ذہبی نے کہا: اس کی سند میں ایک راوی لیث کمزور ہے۔)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھرانے علم، عبادت اور فقہ کے گھر تھے۔ وہ سائلین سے دُور نہیں تھے، یا راہنمائی کے لیے آنے والوں سے دُور نہیں تھے۔ وہ ایسے معاشرے میں تھے جس میں علم کی کرنیں چہار سو پھیلی ہوئی تھیں اور وہ دین سے محبت کرنے والا معاشرہ تھا اور خیر و ہدایت اس کی منزل مقصود تھی۔
جب یہ ثابت ہو چکا اور یہی صحیح ہے کہ ہماری امی جان شریعت اور تفہیم دین کے لحاظ سے ایک بلند مقام کی مالک تھیں اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے وہ شرم و حیا او رعفت و عصمت کا پیکر تھیں ہم نے اس روایت کے وہی معانی بیان کیے ہیں جو اس ذات کریمہ کو لائق تھے اور اس خباثت اور غلاظت سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں جو روافض اور ان کے ہم نوا اپنے بیمار دلوں اور ذہنوں کی وجہ سے پھیلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جو غیر محرم مردوں کے سامنے کپڑے اتار کر غسل کرتی تھیں۔ شرم و حیا اور ستر و حجاب کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ ایسی رذالت تو عام مومن عورت کو بھی زیب نہیں دیتی جو پاک دامن طاہرہ طیبہ اور تقویٰ کی پیکر، ہماری امی جان ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ جاہل، ظالم پھیلاتے رہتے ہیں۔
ششم: وہ رافضی اپنی ہفوات جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے: وہ لوگ دین سیکھنے کے لیے اس کے باپ خلیفہ کے پاس کیوں نہیں جاتے تھے اور وہ ان کو تعلیم کیوں نہیں دیتے تھے؟
ہم عقل کی کمزوری اور فہم کی کجی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
یہ حقیقت تو عقلاً و شرعاً سب کو معلوم ہے کہ سائل سوال اسی شخص سے کرتا ہے جو اسے اچھی طرح جواب دے سکے اور سوال کی جزئیات کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے زیادہ کون جان سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اور سب سے زیادہ جاننے والی ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں، تو مثبت رائے یہی ہو سکتی ہے کہ یہ سوال ہماری امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا جائے۔ پھر ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرنے سے کیا یہ لازم آتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا علم ناقص تھا۔ اس لیے سائل نے اس سے نہ پوچھا اور اس کی بیٹی کی طرف متوجہ ہوا۔ اور کیا جس کسی عالم فاضل سے کوئی علمی جزو فوت ہو جائے تو کیا یہ اس کے علم، قدر اور جلالت میں کمی تصور کی جائے گی۔ نیز یہ اس وقت ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے اصل میں کوئی چیز اس سے رہ گئی؟
پھر یہ سوال بھی ضروری ہے کہ کیا امت پر واجب ہے کہ اپنے سب مسائل صرف خلیفہ سے ہی پوچھے!
ہفتم: جب سیاق روایت، اس کے معنیٰ سائلین کی طبیعت اور اس گھر کے ماحول جس میں سے یہ روایت صادر ہوئی ہے اور اس معاشرے کے ماحول جو اس کے اردگرد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت جاننے کے لیے سوال کرنے والوں کو اپنی امی جان کے طریقے کے متعلق ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے۔ جب ہم اس بحث سے فارغ ہوئے تو ہمیں اس رافضی مصنف کے سینے میں کھٹکنے والی خلش کا جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زبانی غسل کا طریقہ بتانے پر کیوں نہ اکتفا کیا اور عملی طور پر کیوں بتانا ضروری سمجھا؟
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں بے شک ام المؤمنین رضی اللہ عنہا امت کی سب سے بڑی خیرخواہ تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم بالفعل تعلیم بالقول سے زیادہ دل پر اثر کرتی ہے اور ہماری امی ایک ماہر اور مکمل فقیہہ ہونے کے اعتبار سے اپنے بھائی اور بھانجے کے اشکال کو زیادہ دیر نہیں دیکھ سکتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے کتنا پانی استعمال کرتے اور کس طرح غسل کرتے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اشکال کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان دونوں کو بالفعل غسل کر کے دکھا دیا اور صرف زبانی بتانے پر اکتفا نہ کیا۔ نیز سوال صرف کیفیت غسل کے بارے میں نہ تھا بلکہ سوال کیفیت اور کمیت (مقدار) دونوں کے بارے میں ایک ساتھ تھا۔ چنانچہ اس ذات شریف نے اپنے بدن پر پانی انڈیلنے سے پہلے ان دونوں کے آگے پردہ لٹکایا۔ تاکہ خیرخواہی بھی مکمل ہو اور تعلیم بھی کمال کی ہو اور ان کی عقل کی تکمیل کو داد بھی ملے، اس سے ان منصف مزاج قارئین و سامعین کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیقہ بیوی رضی اللہ عنہا سے احادیث سن کر محفوظ کرتے ہیں۔
شاید امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنی صحیح الجامع میں یہ باب اس عنوان سے باندھنے میں یہی راز ہے۔ چنانچہ انھوں نے باب باندھا: ’’بَابُ الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَ نَحْوِہٖ‘‘ ایک صاع جتنے سے غسل کا بیان۔
(صحیح بخاری: کتاب الغسل: باب 3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل میں تعلیم بالفعل کے مستحب ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ دل پر زیادہ گہرا اثر کرتا ہے اور جب سوال کیفیت اور کمیت دونوں پر محمول ہے تو ان دونوں کے لیے عمل ایسا کیا گیا جس میں ان کے سوال کے دونوں اجزاء کا جواب دیا گیا۔ پانی بہانے سے کیفیت کا جواب مل گیا اور صاع برابر پانی پر اکتفاء کرنے سے کمیت کا علم ہو گیا۔‘‘
(فتح الباری، لابن حجر: جلد 1 صفحہ 365)
تو غور کا مقام ہے کہ جب عقلِ انسانی اس پستی میں جا گرے کہ جہاں بعض لوگ ہر فضیلت کو رذالت و فضاحت کہنے لگیں اور حسنِ تعلیم کو سوء ادب کہیں، سائل کی مکمل تسلی و تشفی کو قلت حیا سے تعبیر کریں اور شرفِ علم کو ایسی برائی کہیں جسے آدمی بیان کرنے سے قاصر ہو تو پھر دل، ذہن اور عقل تام کی کونسی چیز باقی بچتی ہے؟