تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

اہل روافض کے تناقض کی واضح مثالیں ان کے اقوال میں موجود ہیں کہ کون سا راز افشاء کیا گیا اور کس نے افشاء کیا؟ ان کے اصل مفسر قمی اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ راز ابوبکر کی ولایت اور ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہما کی ولایت پر مشتمل تھا۔ ہماری امی جان رضی اللہ عنہا نے یہ راز افشاء کیا۔

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 375، 376۔ تفسیر صافی للکاشانی: جلد 2 صفحہ 716، 717۔ الانوار النعمانیۃ للجزائری: جلد 4 صفحہ 337)

جبکہ دوسرے مفسرین جیسے فیض کاشانی،(محسن بن مرتضی بن فیض اللہ محمود الکاشی اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام محسن بن محمد ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا نا محمد بن محسن ہے اسی طرح اس کی نسبت کاشانی اور قاشانی لکھی جاتا ہے۔ فرقہ امامیہ کے علماء میں ایک مفسر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ 1008 ہجری میں پیدا ہوا۔ ابو حامد غزالی صوفی کی کتابیں پڑھ کر اس سے متاثر ہو گیا اور اپنے منہج میں زیادہ تر اسی کے منہج کو قبول کیا۔ اس کی تصنیفات میں سے تفسیر الصافی ہے۔ 1090 ہجری کو فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 290۔)

نور اللہ تستری اور صدر الدین شیرازی الحسینی(علی بن احمد بن محمد الحسینی جو علی خان بن میرزا احمد کے نام سے مشہور ہے اور اس کا لقب ابن معصوم پڑ گیا۔ اس کا اصل وطن شیراز ہے۔ ادب، شعر اور احوال رواۃ کا عالم تھا۔ فرقہ امامیہ کا شیعہ تھا۔ حجاز میں 1052 ہجری میں پیدا ہوا اور طویل مدت تک ہندوستان میں قیام کیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’سلافۃ العصر فی محاسن اعیان العصر و الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الامامیۃ من الشیعۃمشہور ہیں۔ شیراز میں 1119 ہجری کو فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 279) اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ راز علی کے وصی ہونے پر مشتمل تھا اور جس نے یہ افشاء کیا وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

(علم الیقین للکاشانی: جلد 2 صفحہ 637، 639۔ احقاق الحق للتستری: صفحہ 307۔ الدرجات الرفیعۃ للشیرازی: صفحہ 296، 298)

روافض اس بہتان کی اس طرح تکمیل کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو اس راز کے بارے میں معلوم ہوا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ساتھ ملا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلا کر قتل کر دیا۔

(تفسیر العیاشی: جلد 1 صفحہ 200۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 8 صفحہ 6۔ تفسیر الصافی للکاشانی: جلد 1 صفحہ 305۔ وغیرہا)

نیز اہل تشیع کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 4)

ترجمہ: (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

دلالت کرتا ہے کہ تم دونوں کے دل ایمان سے خالی ہو کر کفر سے بھر گئے اور بیاضی کے بقول (ابو محمد علی بن محمد بن یونس البیاضی العاملی النباطی العنفجوری۔ اہل نبط سے امامی شیعہ تھا جو کوہ عامل میں 791 ہجری میں پیدا ہوا اس کی مشہور تالیفات ’’الصراط المستقیم الی مستحقی التقدیم‘‘ جس کا موضوع ان کے بارہ اماموں کی امامت کا ثبوت ہے۔ ’’منتہی السول فی شرح الفصول‘‘ 877 ہجری میں فوت ہوا۔ (معجم اعلام جبل عامل لعلی داود جابر: جلد 3 صفحہ 320۔ و الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 34۔ انھوں نے یہ روایت حسین بن علوان اور دیلمی کے واسطے سے صادق علیہم السلام سے بیان کی، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ (سورة التحریم: آیت 3)

ترجمہ: ’’اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی۔‘‘ وہ حفصہ تھیں۔

صادق علیہ السلام نے کہا، 

اس نے اپنے اس قول کے ذریعے کفر کیا:

مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَا ’’تجھے یہ کس نے بتایا؟‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کی بہن کے بارے میں فرمایا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا یعنی زاغت اور زیغ سے مراد کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو بتایا کہ اس کا باپ اور ابوبکر معاملے کو سنبھالیں گے۔ اس نے یہ راز عائشہ کو بتا دیا۔ اس نے اپنے باپ کو بتا دیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو بتا دیا۔ وہ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ وہ اس میں جلدی کریں گے وہ دونوں (بیٹیاں ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر پلائیں گی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے کرتوت کے بارے میں بتایا تو آپ نے ان دونوں کے قتل کا ارادہ کیا تب ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حلف اٹھائے (الصراط المستقیم للبیاضی جعفر صادق رحمہ اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے، جلد 3 صفحہ 168) کہ انھوں نے ایسے نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡيَوۡمَ‌ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ۞ (سورۃ التحريم آیت 7)

ترجمہ: اے کفر اختیار کرنے والو! آج معذرتیں پیش مت کرو، تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

صفحہ 2 از 6