تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

اس طرح رافضیوں نے ہماری امی جان رضی اللہ عنہا سے ایمان چھن جانے کا دعویٰ کیا اور ان پر کفر غلیظ کی پھبتی کسی، اور اس ضمن میں اس روایت کا سہارا لیا جس کی کوئی سند نہیں اور اہل علم کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے سے یہ امر مخفی نہیں ہو سکتا۔ صحیح احادیث سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ صنف نازک کی فطرت کے مطابق عورت جب اپنے خاوند سے محبت کرتی ہے تو اس کے دل میں اس کے بارے میں غیرت غالب آ جاتی ہے اور وہ غیرت اسے اس بات کی طرف لے جاتی ہے کہ جس کا مستحق اس کے علاوہ کوئی اور ہوتا ہے۔ خصوصاً جب معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو کہ جن کا وقار اور اکرام واجب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کی رعایت کرنا اعلیٰ قسم کی رعایت ہے اور ہر اس بات سے دور رہنا ضروری ہوتا ہے جس سے ان کی عصمت پر حرف آنے کا اندیشہ ہو۔

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث روایت کی ہے جس میں مذکورہ راز کا قصہ بیان ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں: بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد پیتے تھے۔ چنانچہ میں نے حفصہ کے ساتھ مشورہ کیا کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہمیں یہی کہنا ہو گا کہ مجھے آپ سے مغافیر (گوند) کی بدبو آ رہی ہے۔ کیا آپﷺ نے مغافیر کھائی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو اس نے آپﷺ سے یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور میں اب کبھی نہیں پیوں گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡ بَعۡضٍ‌ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورۃ التحريم آیت 1، 2، 3، 4 )

ترجمہ: اے نبی ! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔ اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔(اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

ان آیات میں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو خاص نصیحت کی گئی ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اور اس آیت کے شان نزول کے ضمن میں شہد والے واقعے سے زیادہ مشہور ایک اور واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ سے استمتاع نہ کرنے کی قسم اٹھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ راز ہماری امی جان حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا۔ وہ بہت زیادہ خوش ہوئیں اور خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت بھول گئیں اور ہماری دوسری امی جان سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کر دیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں سے علیحدہ ہونے کے ضمن میں لکھتے ہیں اور آیات کے شان نزول کے بارے میں علماء مفسرین کے اقوال نقل کر کے راجح کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ان سب اقوال میں سے راجح ترین قول ماریہ قبطیہ والا قصہ ہے کیونکہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا خصوصی طور پر اس قصے میں تذکرہ ہے۔ جبکہ شہد والے واقعہ میں سب بیویوں کا اشتراک تھا۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 9 صفحہ 290)

دوسرے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اوپر شہد پینے کو حرام کرنے کا واقعہ جو ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بدبو نہ آئے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا۔ :’’سعید بن منصور کے ہاں مسروق تک صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کو قسم دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لونڈی کے قریب نہیں جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھ پر حرام ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے کفارہ کے لیے آیت نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ جو چیز آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہے آپ اسے حرام نہ کریں۔

(اسے بیہقی نے سعید بن منصور کی سند سے جلد 7 صفحہ 353 پر حدیث نمبر: 15474 میں روایت کیا۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 8 صفحہ 525 پر کہا: اس کی سند صحیح ہے اور یہ قصہ ابن اسحاق کے ہاں عمر کی حدیث جو ابن عباس سے مروی ہے اس میں اضافی طور پر درج ہے۔

صفحہ 3 از 6