تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

اور علامہ ضیا ء المقدسی نے ’’الاحادیث المختارۃ‘‘ (حدیث نمبر 189) میں مسند ہیثم بن کلیب سے، پھر جریر بن حازم کی سند سے بواسطہ ایوب، نافع، ابن عمر سے روایت کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے کہا: تو کسی کو نہ بتانا کہ ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ بقول راوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب نہیں گئے حتیٰ کہ حفصہ نے عائشہ کو بتا دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا:

قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞ سورة التحريم آیت 2

ترجمہ: ’’بے شک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمھارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ ‘‘اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

پھر مصنف نے سب طرق جمع کیے اور اپنی تحقیق اس طرح ختم کی کہ یہ سب اسناد ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں، لہٰذا احتمال یہی ہے کہ آیت دونوں اسباب میں ایک ساتھ نازل ہوئی ہو۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 657 مختصرًا)

تو یہ روای اصل معاملہ واضح کرتی ہیں، رافضیوں کی من گھڑت ضلالتوں کے شائبہ تک سے پاک ہیں۔ علاوہ ازیں ان سے وضاحت ہوتی ہے کہ ان سب عبارات اور جملوں اور افعال کے پیچھے بیوی کی اپنے خاوند کے معاملے میں غیرت ہے۔ جیسا کہ تمام عورتوں کی باہمی فطرت ہے۔ حتیٰ کہ عورت سے ایسے اقوال و افعال سرزد ہوتے ہیں جو اس کے لائق نہیں ہوتے اور جنھیں چھوڑنا بہتر ہوتا ہے۔ بہرحال وہ دونوں بیویاں تھیں، انھیں اپنے خاوند کے معاملہ میں غیرت نے دبوچ لیا اور ان دونوں کے درمیان اتفاق ہو گیا کہ ان میں سے جس کسی کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ آپ سے استفہامیہ انداز میں کہے گی کہ آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر () کھائی ہے؟

تب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو نصیحت کرنے کے انداز میں یہ آیات نازل فرمائیں، تاکہ انھیں اپنے فعل پر ندامت ہو اور اس فعل پر انھیں توبہ کی رغبت دلائی۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا فعل نہیں کرنا چاہیے۔ چونکہ ان دونوں رضی اللہ عنہما کے دل اس بات کی طرف مائل ہو گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھنا ترک کر دیں۔

امام بغوی رحمہ اللہ اس آیت ﴿ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ﴾ (التحریم: 4) کی تفسیر میں لکھتے ہیں: 

’’یہ خطاب سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کو کیا گیا ہے اور اس میں ضمیر غائب سے یک دم ضمیر مخاطب کی طرف اس لیے تبدیل کی گئی ہے تاکہ ان دونوں کے عتاب میں تاکید نظر آئے۔ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ’’تم دونوں سے ایسا فعل سرزد ہو چکا ہے جس سے توبہ کرنا واجب ہے۔ چونکہ تم دونوں کے اوپر واجب تھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خلوص دل (المغافیر: ایک درخت عرفط کی میٹھی گوند ہے جس کی بو نامناسب ہوتی ہے۔ (لسان العرب لابن منظورجلد 7 صفحہ 350) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ نفاست پسند اور سب سے زیادہ پاکیزگی اور صفائی پسند تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کی بیویوں کو آپ سے ناگوار بو آئے) سے پیش آؤ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کریں تم بھی وہی پسند کرو اور جس سے وہ نفرت کریں تم بھی اس سے نفرت کرو۔‘‘

(انوار التنزیل و اسرار التاویل للبیضاوی: جلد 5 صفحہ 224)

امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

 اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ (سورة التحریم آیت 4) یہاں سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی تم دونوں کو اللہ کے سامنے توبہ کرنی چاہیے کیونکہ تم دونوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ واجب ہو جاتی ہے اور ﴿ صَغَتْ ﴾ کا معنی حق سے پھرنا اور تبدیلی کرنا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ان دونوں نے اس چیز کو پسند کر لیا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفرت کرتے تھے اور وہ افشائے راز ہے اور یہ معنی بھی کیا گیا: ’’تمھیں چاہیے کہ اللہ کے سامنے توبہ کر لو کیونکہ تم دونوں کے دل توبہ کی طرف مائل ہیں۔‘‘

(فتح القدیر للشوکانی: جلد 5 صفحہ 298، 299)

علامہ محمد امین شنقیطی (شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ۔ محمد امین بن محمد مختار بن عبدالقادر الجکنی الشنقیطی۔ اپنے وقت کے عالم ربانی، ماہر اصول، مفسر اور علوم لغت کا سمندر تھا۔ 1325 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی، پھر ریاض چلے گئے اور بالآخر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ ان کی مشہور تصانیف ’’اضواء البیان‘‘ اور ’’دفع ایہام الاضطراب بمن آسي الکتاب‘‘ ہیں۔ 1393 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 45) رحمہ اللہ نے لکھا: صغت کا معنی ’’مالت و رضیت و احبت‘‘ یعنی ان کے دل مائل ہو گئے، خوش ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ناپسند تھا انھوں نے وہ پسند کر لیا۔

(اضواء البیان للشنقیطي: جلد 8 صفحہ 220)

یہ خطا ان سے محبت میں شدت کی وجہ سے سرزد ہوئی نہ کہ ان کی نیت خراب تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ابراہیم کے پاس نہ جانے کا عزم ظاہر کیا تو ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا اتنی خوش ہوئیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز رکھنے کے حکم کو فراموش کر دیا۔ تاہم وہ معصوم نہیں ہیں اور نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معصوم ہیں اور حسب مقولہ ’’بڑوں کی غلطیاں ان کی صلاحیتوں میں کمی نہیں لاتیں اور نہ ان کے فضائل کم ہوتے ہیں۔‘‘ البتہ توبہ کے ذریعے سے دلوں کو نئی زندگی ملتی ہے اور شارع کی مخالفت میں پڑنے سے پہلے وہ نہایت نرم مزاج اور بلند مقام ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ ۞

(الاعراف: آیت  201)

صفحہ 4 از 6