تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

ترجمہ: ’’یقیناً جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔‘‘

تو تقویٰ کی شرط معصوم عن الخطا ہونا نہیں اور نہ ہی کبیرہ گناہ سے پرہیز تقویٰ کی شرط ہے۔ کیونکہ کبیرہ گناہ سے بندے کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے۔ بلکہ متقی آدمی سے بھی کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ (حاطب بن ابی بلتعہ لخمی رضی اللہ عنہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقوقس کی طرف دعوت نامہ دے کر بھیجا۔ قریش کے مشہور شہسوار تھے۔ جاہلیت کے عظیم شاعر تھے۔ 30 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 93۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 4۔)رضی اللہ عنہ سے کبیرہ گناہ سرزد ہو گیا۔ لیکن اس گناہ سے پہلے اور اس گناہ کے بعد ان کی نیکیاں اسے مٹانے کا موجب بن گئیں۔ اگرچہ وہ بہت بڑا تھا۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دیانت و امانت، ورع و زہد، حسن کردار و اخلاق، اللہ کے ساتھ مضبوط رابطے، بکثرت روزے رکھنے اور جود و سخا میں دریا دلی کے کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھیں۔ اسی طرح ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا صوامہ و قوامہ تھیں اور ان کے گواہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ امام حاکم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے کہا:

رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّہَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَ اِنَّہَا زَوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ

(شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 12 صفحہ 27۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 1 صفحہ 54، حدیث نمبر 151۔ اسے حاکم نے جلد 4 صفحہ 17 پر روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 393 پر کہا ہے کہ اس کی سند میں متعدد راویوں کو میں نہیں جانتا اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع: حدیث نمبر 4351 میں حسن کہا اور یہ حدیث عمار بن یاسر سے صفحہ 262 پر گزر چکی ہے۔

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کو منا لیں کیونکہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والی اور بکثرت قیام اللیل کرنے والی اور جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بھی ہیں۔‘‘

ابو العباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے ان دونوں زوجات مطہرات کو توبہ کی طرف توجہ دلائی۔ اس لیے ان کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جائے گا کہ انھوں نے توبہ نہیں کی۔ باوجودیکہ ان دونوں کے بلند درجات کے ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ وہ دونوں جنت میں ہمارے نبی کی بیویاں ہوں گی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی زندگی، اس کی عیش و عشرت اور اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر سے ان کو کوئی ایک چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا تو ان سب نے اللہ، اس کے رسول اور دار آخرت کو منتخب کیا اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام کر دیا کہ ان بیویوں کے بدلے آپ کوئی اور کر لیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام کر دیا کہ ان بیویوں کے بعد کسی اور عورت سے شادی کریں اور اس آیت خیار اور تحریم کے بعد کی مدت میں اختلاف ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کرنے کی اجازت تھی یا نہیں۔ قرآنی نصوص کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ سب امہات المؤمنین کے لقب سے معمور تھیں۔ پھر قرآن میں یہ وضاحت آ چکی تھی کہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور توبہ سے گناہوں کی معافی ہو جاتی ہے اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور مصائب پر صبر کرنے سے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 314)

یہی اوصاف امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے شایانِ شان ہیں جو تمام مؤمنوں کی مائیں ہیں۔ ان کا فضل و شرف اور ان کی صلاحیتیں یقینی ہیں اور اہل السنہ کے علاوہ اولیاء اللہ کی کما حقہ توقیر کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ہمیشہ عادلانہ فیصلے کرتے ہیں اور معاملات کو انصاف کے ترازو میں تولتے ہیں۔ چونکہ ان میں غلو کرنے والوں کا ظلم بھی نہیں اور نہ ہی افتراء پردازوں جیسی جرأت ہے۔

مذکورہ بالا شبہ کے جواب کا خلاصہ

مذکورہ بالا شبہ کے جواب کا خلاصہ ہم دو نکات میں بیان کر سکتے ہیں:

1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں نہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے فرمایا: ’’تم کسی کو نہ بتانا اور ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو حلال کیا ہے کیا آپ اسے حرام کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اس کے قریب بھی نہیں جاؤں گا۔ بقول راوی جب تک حفصہ نے عائشہ کو خبر نہ کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام ابراہیم کے قریب نہیں گئے۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:

قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌  (سورة التحریم آیت 2)

ترجمہ: اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے

(الاحادیث المختارۃ لضیاء المقدسی حدیث نمبر: 189۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صحیح ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 186) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہی : اس کے متعدد طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ (فتح الباری: جلد 8 صفحہ 525)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور صحاح ستہ میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ حافظ ضیاء مقدسی نے اسے اپنی مستخرج میں نقل کیا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 159) 

بقول مصنف (سیرۃ عائشہ) اصل حدیث صحیحین میں ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4913۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 3765)

صفحہ 5 از 6