تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 6

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے راز افشاء کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں، اور اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں۔ طاہر بن عاشور نے کہا: اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو راز دیا تھا اور جسے انھوں نے بتایا تھا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

( التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 28 صفحہ 351)

شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی (شاہ عبدالعزیز بن ولی اللہ بن عبدالرحیم العمری الدہلوی، اپنے وقت کے ہندوستان میں بہت بڑے عالم تھے۔ مفسر، محدث اور کتب شیعہ پر ان کو عبور حاصل تھا۔ علم کا وسیع سمندر تھے۔ 1159 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’فتح العزیز‘‘ و ’’مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ فی الکلام علی مذہب الشیعۃ‘‘ ہیں اور ثانی الذکر کی پہلے کوئی مثال نہیں۔ 1239 ہجری میں وفات پائی۔ (’’مقدمۃ مختصر التحفۃ‘‘ و الاعلام للزرکلی: نے جلد 4 صفحہ 14) نے اس بات پر مفسرین کا اجماع نقل کیا وہ کہتے ہیں: ’’مفسرین کا اجماع ہے کہ راز کا افشاء سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا کسی اور سے نہیں۔‘‘

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ: رقم: 269)

یہ بات شیعہ کی تفاسیر میں بھی ثابت ہے، جیسے ’’مجمع البیان للطبرسی‘‘ میں مذکور ہے۔

(مجمع البیان للطبرسی: جلد 10 صفحہ 56، 58۔ مصنف نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مختصر التحفۃ اثنی عشریہ: رقم: 270)

طبرسی کا شمار شیعہ کے ان علماء میں ہوتا ہے جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علو شان کے معترف ہیں۔ زین العابدینؒ کو رانی نے کہا: اسی طرح ان کے علماء میں سے طبرسی نے بھی اپنی تصانیف میں صحابہؓ کی علو شان کا اعتراف کیا ہے۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔

اس نے مذکورہ آیات کو صحابہ کی عمومی اور خصوصی ثنا شمار کیا ہے بلکہ اس نے مزید آیات بھی اس ضمن میں درج کی ہیں۔

(الیمانیات المسلولۃ علی رقاب الرافضۃ المخذولۃ: صفحہ 246)

2۔ چلو یہی فرض کر لیتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشاء کیا تھا تو زیادہ سے زیادہ کیا کہا جائے گا کہ اس نے نافرمانی کا ارتکاب کیا، پھر اس سے توبہ کر ل ۔ چنانچہ جنت میں جانے والوں کے لیے گناہوں سے معصوم ہونا شرط نہیں بلکہ مومن بھی گناہ کرتے ہیں پھر وہ توبہ کر لیتے ہیں اور بعض اوقات توبہ کے بغیر دیگر اسباب سے ان کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو صغیرہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ یہ جمہور اہل سنت کی رائے ہے۔ بلکہ ایسے گناہ ان نیک اعمال کی وجہ سے مٹا دیے جاتے ہیں جو برائیوں سے درجے میں بہت بڑے ہوتے ہیں اور اکثر اہل سنت کے نزدیک مصائب کے نزول کے وقت صبر سے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے امت مسلمہ پر کس قدر احسانات ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی زندگی میں بھی اطاعت گزاری کی اور ان دونوں کے لیے یہی شرف کافی ہے کہ ان دونوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دنیا اور اس کی زینت پر ترجیح دی۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 310، 314)


صفحہ 6 از 6