چوتھا شبہ
علی محمد الصلابیروافض کہتے ہیں کہ ’’ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عدل کریں۔‘‘
اس بات پر انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا جو قاسم بن محمد نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کچھ ان بن تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے اور اپنے درمیان کس کو حکم (فیصل) بنانا چاہتی ہو؟ کیا تو ابو عبیدہ بن جراح پر خوش ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ وہ نرم مزاج آدمی ہے، وہ آپ کے حق میں اور میرے خلاف فیصلہ کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم عمر بن خطاب پر خوش ہو؟ میں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں عمر سے بہت ڈرتی ہوں۔
(الفرق: خوف، گھبراہٹ (غریب الحدیث و الاثر لابن اثیر: جلد 3 صفحہ 438)
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان بھی عمر سے ڈرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ابوبکر کو فیصل بنانے پر خوش ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف قاصد بھیجا۔ وہ آ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں (فیصلہ کروں )؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات شروع کی۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے رسول اللہ! آپ انصاف کریں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔ جس سے میری ناک اور دونوں نتھنوں سے خون بہنے لگا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں مر جائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف نہیں کریں گے تو پھر اور کون کرے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم یہ نہیں چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے ہاتھ سے میرے چہرے اور کپڑوں سے خون صاف کیا۔
(تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 11 صفحہ 239)
اس شبہے کا ازالہ:
متعدد اسباب کی بنا پر یہ حدیث ضعیف ہے، جو کہ درج ذیل ہیں:
1۔ مبارک بن فضالہ بن ابی امیہ قرشی عدوی، ابو فضالہ بصری ضعیف ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا۔ عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے ابن معین سے مبارک بن فضالہ کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کہا: اس کی روایت ضعیف ہے، وہ ضعف میں ربیع بن صبیح کی طرح ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا۔ امام احمدؒ نے کہا وہ جو روایت حسن سے کرے وہ حجت ہے۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ حسن کے علاوہ سے جب کوئی روایت کرے تو وہ ضعیف ہے اور طیالسی فرماتے ہیں اس کی تدلیس شدید ہے۔
(تہذیب التہذیب لابن حجر؛ جلد 10 صفحہ 29)
اس روایت میں اس نے تحدیث کی صراحت نہیں کی، اس لیے اس کی حدیث قبول نہیں کی گئی۔ نیز اس میں کچھ منکر الفاظ بھی موجود ہیں۔