چوتھا شبہ
علی محمد الصلابیروافض کہتے ہیں کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نو عمر لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کروا کے ان کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔‘‘
روافض کا کہنا کہ’’بے شک عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کو بناؤ سنگھار کروایا اور اس کے ساتھ طواف کیا اور کہنے لگیں شاید ہم اس کے ذریعے قریش کے نوجوانوں کا شکار کریں۔ ان کی مراد وہ برا معنیٰ ہے
جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حرف ہے اور جسے لکھنے یا بیان کرنے کی سکت نہیں۔‘‘
ان کا یہ شبہ مصنف ابن ابی شیبہ کی اس حدیث سے پیدا ہوا ہے جو اس نے اپنی سند کے ساتھ عمار بن عمران کے واسطے سے جو بنی زید اللہ کا ایک فرد ہے اپنے خاندان کی ایک عورت کے واسطے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اس نے ایک لڑکی کو مزین (شوفت: یعنی بناؤ سنگھار کیا۔ شَوَّفَ، شَیَّفَ تَشَوَّفَ ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں۔ یعنی تزین اور تَشَوَّفَ لِشَیْئٍ۔ یعنی اس کی طرف نگاہیں جما دیں۔ (غریب الحدیث للحربی: جلد 2 صفحہ 817۔ الدلائل فی غریب الحدیث لقاسم السرقسطی: جلد 3 صفحہ 1129۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 509۔) کیا اور اس کے ساتھ گھومنے گئے اور کہا: شاید ہم اس طریقے سے قریشی نوجوان کا شکار کریں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 4 صفحہ 410۔ ابن قطان نے احکام النظر: 402 پر کہا یہ صحیح نہیں۔
درج بالا شبہے کا جواب:
یہ کہ اس روایت کا دار و مدار ایک مجہول راوی پر ہے اور وہ ایک عورت ہے جس نے یہ مصیبت کھڑی کی ہے اور محدثین کے نزدیک یہ سند سب سے کمزور ہے۔
نیز عمار بن عمران کے متعلق ذہبیؒ نے کہا اس کی حدیث صحیح نہیں۔ بخاری نے اسے ضعفاء میں شمار کیا۔
(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 3 صفحہ 166)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں اس کی تائید کی۔
(لسان المیزان لابن حجر: جلد 4 صفحہ 272)
گویا اس روایت میں ایک راوی مجہول اور ایک ضعیف ہے، لہٰذا اسے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تو رہا روایت اور درایت کے اعتبار سے۔