Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا شبہ

  علی محمد الصلابی

 ’’انھوں نے اپنے سفر میں بنو حوأب کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر بھی واپس نہ ہوئیں۔‘‘

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر پر چل پڑی تو بنو عامر کے چشموں کے پاس سے ان کا قافلہ گزرا۔ اس نے رات کے وقت انھیں جگایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کتوں کی بھونک سنائی دی۔ انھوں نے دریافت کیا: یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حوأب کا چشمہ ہے۔ انھوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی۔ لوگوں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے۔ ذرا صبر کریں، آپ آگے بڑھیں گی مسلمان آپ کو دیکھیں گے، یقیناً اللہ آپ کے ذریعے صلح کروا دے گا۔ انھوں نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں لوٹ جاؤں گی۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

کَیْفَ بِاِحٖدَاکُنَّ تَنْبَحُ عَلَیْہَا کِلَابُ الْحَوَابِ۔

 (مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52۔ حدیث نمبر: 24299۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 282، حدیث نمبر: 4868 صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 126، حدیث نمبر: 6732۔ مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 129۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 177 میں ذہبی نے اس کی اسناد کو صحیح کہا اور ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 217 پر لکھا اس کی اسناد صحیحین کی شرط پر ہیں۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 237 پر لکھا: مسند احمد کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 847 پر لکھا ہے کہ اس کی اسناد بہت ہی صحیح ہے اس کے تمام راوی کتب ستہ کے ثقات و اثبات ہیں۔

’’(اے میری بیویو!) کیا حال ہو گا تم میں سے اس کا؟ جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔‘‘

جواب شبہ:

اس شبہ کا جواب دو وجوہ سے دیا جائے گا:

وجہ نمبر 1: اس حدیث کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔ حفاظ کی ایک جماعت جیسے یحییٰ بن سعید القطان (یحییٰ بن سعید بن فروخ ابو سعید تمیمی القطان، حافظ، امیر المؤمنین فی الحدیث۔ 120 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم و عمل کے پہاڑ تھے۔ انھوں نے ہی اہل عراق میں علم حدیث کو رائج کیا۔ تمام ائمہ ان کو حجت مانتے تھے۔ 198 ہجری میں وفات پائی۔

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 175۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 138) 

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 200)

ابن طاہر المقدسی (محمد بن طاہر بن علی ابو الفضل مقدسی المعروف بابن القسیرانی۔ 448 ہجری میں پیدا ہوئے۔ امام، حافظ، کثیر السفر، سلفی العقیدۃ، ظاہری المذہب، ان کی تصنیفات میں سے ’’الموتلف و المختلف‘‘ و ’’الجمع بین رجال الصحیحین‘‘ ہیں۔ 507 ہجری میں وفات پائی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 19 صفحہ 361۔ و تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 35 صفحہ 169۔)

(ذخیرۃ الحفاظ: جلد 4 صفحہ 1922)

ابن الجوزی(العلل المتناہیۃ: جلد 2 صفحہ 362)

ابن العربی (العواصم من القواصم: 128) نے اسے ضعیف کہا ہے، اگر تو اسے ضعیف مانا جائے تو شبہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے اور اگر حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا جائے جو کچھ متاخرین کی اس میں مختلف آراء ہیں۔

وجہ نمبر 2:   متن حدیث میں دلیل موجود ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوٹ جانا چاہتی تھیں اور اس کا انھوں نے دو بار تذکرہ کیا۔ لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: آپ واپس جا رہی ہیں اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے؟ تو وہ سفر پر آگے بڑھنے لگیں اور واپس نہیں لوٹیں۔

پھر یہ کہ حدیث میں سفر سے صراحتاً نہیں روکا گیا جو اجتہاد کے منافی ہوتا۔ لہٰذا اگر نہی موجود بھی ہوتی تو بھی حرام کا ارتکاب نہیں ہوا، کیونکہ انھوں نے اجتہاد کیا اور سفر پر وہ تب روانہ ہوئیں جب انھیں یقین ہو گیا کہ ان کے راستے میں مقام معہود نہیں آتا۔

اگر وہ واپسی کا ارادہ کر بھی لیتیں پھر بھی ان کے لیے واپس ہونا ممکن نہ ہوتا کیونکہ کوئی ہم سفر ان کی تائید نہ کرتا اور اس حدیث میں مذکورہ نہی کے بعد کچھ کرنے کا حکم نہیں ہے۔ تو اس میں کوئی شک نہیں وہ سفر پر اس لیے چل پڑیں کہ انھوں نے روٹھے ہوؤں کو منانے کا ارادہ کیا ہوا تھا اور جس کا حکم اسلام نے دیا ہے۔

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز دہلوی: 269)

نیز صدوق نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے والے جب ایک چشمے کے پاس سے گزرے جسے حوأب کا چشمہ کہا جاتا تھا تو وہاں کے کتے بھونکنے لگے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ کون سا پانی ہے؟ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یہ حوأب کا چشمہ ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور کہا: تم مجھے واپس لے جاؤ۔ تم مجھے واپس لے جاؤ۔ یہی چشمہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا: ’’تم وہ نہ ہو جانا جس پر حوأب کے کتے بھونکیں۔‘‘ تو ان کے پاس چند لوگوں نے آ کر گواہی دی، انھوں نے حلفاً کہا کہ یہ حوأب کا چشمہ نہیں ہے۔

(من لا یحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 44۔ مسعودی جو معتزلی شیعہ ہے اس نے اپنی کتاب مروج الذہب، جلد 2 صفحہ 395 میں لکھا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں تقریباً چھ سو سوار تھے جو بصرہ کی طرف جا رہے تھے تو رات کے وقت بنو کلاب کے ایک چشمے پر وہ پہنچ گئے۔ جسے حوأب کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اس پر بنو کلاب کے کچھ لوگوں کا بسیرا تھا۔ ان کے کتے قافلے والوں پر بھونکنے لگے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اس جگہ کا نام کیا ہے؟ ان کا اونٹ ہانکنے والے نے کہا: اس جگہ کا نام حوأب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور لوگوں کو بتایا جو کچھ اس پانی کے بارے میں انھیں کہا گیا تھا۔ چنانچہ وہ کہنے لگیں : تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم (مدینہ) میں لوٹا دو۔ مجھے اس سفر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ جگہ حوأب نہیں اور آپ کو جس نے بتایا اس نے غلط بتایا اور طلحہؓ اگلے لوگوں میں تھے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پچاس آدمیوں کے ہمراہ آئے اور سب نے حلفاً کہا: یہ جگہ حوأب نہیں۔ بقول مصنف: اسلام میں یہ پہلی جھوٹی گواہی دی گئی۔ ابن العربی رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں لکھا: البتہ تم (شیعوں ) نے حوأب کے پانی کے بارے میں جس گواہی کا تذکرہ کیا ہے درحقیقت تم نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو کچھ تم نے کہا وہ سب جھوٹ ہے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

ابن العربی رحمہ اللہ نے حوأب والی حدیث کی پرزور طریقے سے تردید کی ہے اور کلی طور اس کی صحت سے انکار کیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے لکھا اور ہم اگرچہ اس کے مذکورہ گواہی کے انکار میں اس کے حامی اور موید ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو جن گناہوں سے محفوظ کر دیا ہے ان میں سے ایک جھوٹی گواہی بھی ہے۔ خصوصاً ان میں سے وہ دس جنھیں جنت کی بشارت بزبان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں مل گئی۔ جیسے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما۔ اسی طرح ہم ابن العربی رحمہ اللہ کے اس قول کا بھی انکار کرتے ہیں ’’اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی۔‘‘ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟ جبکہ محدثین کے ہاں متعدد معروف کتب ستہ میں یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔

(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی: جلد 1 صفحہ 849۔)

رافضیوں کے امام اکبر ’’مفید‘‘ کی کتاب کی اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس کینے سے برأت کی دلیل ہے۔ جس کی نسبت سے رافضی ام المؤمنین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں تو کیا جو عورت اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء پر اس قدر جرأت کا مظاہرہ کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت توڑ ڈالے اور مردوں کے جلوس میں بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر نکلے اور اس نے عزم مصمم و موکد کر رکھا ہو کہ وہ علی کے ساتھ ضرور مڈبھیڑ کرے گی اور قتل علی کے ذریعے اپنے سینے میں بھری ہوئی بھاری دشمنی کو ٹھنڈا کرے گی اور لوگوں کو علی رضی اللہ عنہ کی دشمنی پر ابھارنا ....!!

اہل روافض نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی جو تصویر کشی کر رکھی ہے کیا وہ تصویران کی اپنی کتابوں میں موجود، ان کے اپنے اماموں سے مروی اس روایت سے ذرہ بھر بھی میل کھاتی ہے۔ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رب العالمین کے خوف کی دلیل ہے اور سفر پر ان کے اظہار ندامت کا اعلان اور جب انھیں مقام معہود یعنی حوأب کے چشمے کا علم ہوا تو ان کا انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھنا ان کے افسوس کا اظہار ہے۔ کیا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان تھیں؟ اور اللہ انھیں اس الزام سے اپنی پناہ میں رکھے۔ کیا وہ قتال کا عزم صمیم رکھتی تھیں؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو دیوار پر پھینکنے والی تھیں جو کہ حدود اللہ کو پامال کرنے کی جرأت کرنے والی تھیں؟ جیسا کہ روافض نے افتراء ات اور جھوٹ کے طومار باندھے ہیں۔ 

وہ تو رافضیوں کی اپنی من گھڑت جھوٹی روایت کے مطابق افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔ نادم ہیں۔ انا للہ پڑھ رہی ہیں۔ نرم دل، اللہ سے خشوع کرنے والی، اس کی طرف رجوع کرنے والی ہیں۔

رافضیوں پر لازم ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ بولنے کے لیے موکد اور مغلظ قسمیں اٹھائیں کہ یہ حوأب کا چشمہ نہ تھا تاکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سفر سے لوٹنے کا ڈر اور سارے پروگرام کو چھوڑ دینے کی روایت روافض کے موافق ہو جائے، تو پھر وہ لوگوں کی کیسی قائد تھیں اور ان کے سامنے ان کی شان و شوکت کا کیا بنا؟ اور علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بغض کی کیا دلیل ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے کب نکلیں اور ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خون بہانے والا وہ بھڑکتا ہوا عزم کہاں گیا۔ بلکہ ان کی ولایت سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار!۔۔۔ اس کا کیا بنے گا؟