پانچواں شبہ
علی محمد الصلابیروافض کہتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا ہاتھ کاٹے جانے کی بددعا دی۔‘‘
اس کی صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بددعا دیتے تھے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک قیدی لائے، میں اس سے غافل ہو گئی۔ وہ چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: میں عورتوں کے ساتھ مل کر اس سے غافل ہو گئی اور وہ چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تیرا ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھ کاٹ دے تو تجھے کیا فرق پڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور لوگوں کو اطلاع کی وہ سب اسے تلاش کرنے لگے اور اسے ڈھونڈ لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تو پاگل ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: آپ نے مجھے بددعا دی، اس لیے میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ رہی ہوں کہ ان دونوں میں سے کون سا کاٹا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر پھیلا لیے اور یوں دعا کی:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ بَشَرٌ، اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَاَیُّمَا مُوْمِنٍ اَوْ مَوْمِنَۃٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ، فَاجْعَلْہُ لَہٗ زَکَاۃً وَ طَہُوْرًا
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52، حدیث نمبر 24304۔ سنن الکبری للبیہقی: جلد 9 صفحہ 89 حدیث نمبر: 18611 علامہ ذہبی نے ’’مہذب‘‘ میں اس کی سند کو جید کہا۔ جلد 7 صفحہ 3618)
’’اے اللہ! بے شک میں بشر ہوں میں اسی طرح غصہ میں آ جاتا ہوں جس طرح ہر بشر غصے میں آ جاتا ہے۔ تو جس مرد و زن مومن کو میں بددعا دوں تو تو اسے اس کے لیے تزکیہ اور گناہوں سے طہارت کا باعث بنا دے۔‘‘
درج بالا شبہے کا ازالہ:
شیعوں کی عادت ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق صحیح روایات میں کمی بیشی کر لیتے ہیں، وہ ابتدائے حدیث نقل کر دیتے ہیں لیکن حدیث کا اختتام نقل نہیں کرتے۔ جس سے ہر منصف مزاج انسان کے لیے حدیث میں دعا کا معنیٰ واضح ہوسکے۔ اسی معنیٰ کی دوسری حدیث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے یوں ہے کہ وہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے تو مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس چیز کے بارے میں گفتگو کی۔ ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر لعنت کی اور انھیں سخت برا کہا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو بھلائی اور نیکی ان دونوں نے کما لی ان سے پہلے کسی کو وہ لینے کی توفیق نہ ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس سے تمہاری کیا مراد ہے؟ بقول عائشہ! میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر لعنت کی اور انھیں ڈانٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں، میں نے اس پر اپنے رب کے آگے کیا شرط رکھی؟ میں نے کہا: اے اللہ! بے شک میں بھی ایک بشر ہوں، جس مسلمان پر میں لعنت کروں اور اسے برا کہوں تو تو اسے اس کے لیے باعث تزکیہ و اجر بنا دے۔
(صحیح مسلم: 2600)
لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت میں بددعا مراد نہ تھی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد واقعی حقیقی بددعا ہوتی تو ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر کیوں ہماری امی جان! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں صحیح ہاتھوں کے ساتھ فوت ہوئیں اور انھیں ذرہّ برابر کسی بیماری نے نہ چھوا؟