Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانچواں شبہ

  علی محمد الصلابی

یہ کہ ’’ابنۃ الجون اسماء بنت نعمان ( اور ملیکہ بنت کعب (ملیکہ بنت کعب کنانی رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی زوجیت میں لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ خلوت نہیں فرمائی۔ کچھ علماء کہتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فوت ہوئی اور کچھ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دی۔ یہ حسن و جمال کا پیکر تھی۔ (الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 123۔ سبل الہدی و الرشاد لمحمد بن یوسف صالحی: جلد 11 صفحہ 230۔) دونوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دھوکا اسماء بنت نعمان بن جون الکندیہ۔ علماء کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی جدائی کے قصے میں علماء کا اختلاف ہے اپنے زمانے کی حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ تقریبا 30 ہجری میں فوت ہوئی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 2 صفحہ 76۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 257) کیا۔ تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طلاق دے دی۔‘‘


روافض دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابنۃ الجون اسماء بنت نعمان کو دھوکا سے ورغلایا اور اس پر جھوٹ بولا۔ جب وہ رخصتی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لائی گئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں اور وہ کہے: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اور عائشہ رضی اللہ عنہا اس سازش کے ذریعے اسے طلاق دلوانا چاہتی تھیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ بات کہنے کی وجہ سے طلاق دے دی اور روافض کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا نے جس دوسری عورت سے دھوکا کیا وہ ملیکہ بنت کعب تھیں۔


ابن سعد نے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملیکہ بنت کعب کو اپنی زوجیت میں قبول کر لیا اور اس کے حسن و جمال کے چرچے چاروں طرف تھے اس کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اسے کہا: کیا تمھیں اپنے باپ کے قاتل کے ساتھ شادی کرنے سے شرم نہیں آتی، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ طلب کی۔


چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی، تو اس کی قوم والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کی طرف سے عذر پیش کرتے ہوئے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! وہ نوعمر ہے، اس کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔ نیز اس سے دھوکا کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے رجوع کر لیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 8 صفحہ 148)

اس شبہے کا جواب:

پہلی عورت کے معاملے کے بارے میں صحیح بخاری میں روایت ہے کہ بنت جون جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت میں پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب گئے تو اس نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا:

لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِیْمٍ اِلْحَقِیْ بِاَہْلِکِ

’’بے شک تو نے عظیم ہستی کی پناہ طلب کی ہے۔ تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5254)

تو وہ اضافی جملے جن کے ساتھ روافض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون کرتے ہیں وہ ابن سعد نے روایت کیے۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 145)

لیکن یہ اضافی جملے فضول اور بے وزن ہیں۔ مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہیں۔ اکثر علماء نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کا دار و مدار واقدی پر ہے اور وہ کذب میں مشہور ہے۔

پھر یہ کہ ابن سعد نے یہ روایت کرنے کے بعد کہا: محمد بن عمر نے کہا: اس حدیث کو ضعیف کرنے والی علتوں میں سے ایک یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: کیا تو شرماتی نہیں؟ جبکہ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھی ہی نہیں۔

ابن صلاح (عثمان بن عبدالرحمٰن بن عثمان ابو عمر شہرزوری شافعی۔ علم و دین کے اعتبار سے ائمہ مسلمین میں سے ایک امام ہیں۔ 577 ہجری میں پیدا ہوئے۔ مذہب شافعی پر عبور حاصل کیا۔ علوم حدیث، اصول فقہ اور تفسیر میں اتقان حاصل کیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’معرفۃ انواع علم الحدیث‘‘ مشہور ہے۔ 643 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 23 صفحہ 140۔ طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی: جلد 8 صفحہ 326۔) نے کہا: 

’’مجھے اس اضافے کی کوئی اصل ثابت نہیں ملی۔ اصل حدیث صحیح بخاری میں ہے لیکن ان بعید از عقل اضافوں کے بغیر ہے۔‘‘

(البدر المنیر لابن الملقن: جلد 7 صفحہ 413)

علامہ نووی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’اس اضافے کی کوئی اصل صحیح نہیں اور وہ اسناد کے لحاظ سے اور معنوی طور پر نہایت ضعیف ہے اور واقدی کے کاتب محمد بن سعد نے اپنی کتاب ’’الطبقات‘‘ میں اسے ضعیف اسناد کے ساتھ روایت کیا۔‘‘

(تہذیب الاسماء و اللغات للنووی: جلد 4 صفحہ 51)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا:

’’اس کی سند میں واقدی ہے جو ضعف کی وجہ سے معروف ہے۔‘‘

(التلخیص الحبیر لابن حجر: جلد 3 صفحہ 281، السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: 2244۔)

نیز اس میں ابو معشر المدنی بھی ہے۔ اسے ابن معین، نسائی، دار قطنی وغیرہم نے ضعیف کہا اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ’’منکر الحدیث‘‘ کہا۔ ابن معین نے کہا: اس کی حدیث کوئی چیز نہیں۔ نسائی نے کہا: یہ متروک الحدیث ہے۔ مزید برآں یہ مرسل بھی ہے۔

(الضعفاء و المتروکون للنسائی: صفحہ 92۔ الضعفاء و المتروکین لابن جوزی: جلد 3 صفحہ 175)

دوسری روایت: اس کی سند میں ہشام کلبی ہے جو شیعی کذاب ہے۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق من گھڑت افسانے بنانے میں مشہور ہے۔ اس کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے لکھا۔ 

’’یہ شب بیدار اور عالم انساب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کسی ایک نے حدیث لی ہو۔‘‘

ابن معین نے کہا: ’’یہ غیر ثقہ ہے اور اس جیسے سے حدیث روایت ہی نہیں کی جاتی۔‘‘

ابن عساکر نے کہا:’’رافضی ہے ثقہ نہیں ہے۔‘‘

دارقطنی وغیرہ نے کہا: ’’یہ متروک ہے۔‘

(لسان المیزان لابن حجر: جلد 6 صفحہ 196)