Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانچواں شبہ

  علی محمد الصلابی

یہ کہ ’’جب عائشہ رضی اللہ عنہا کا لشکر بصرہ پہنچا تو انھوں نے بیت المال کو لوٹ لیا اور وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نمائندے عثمان بن حنیف انصاری (عثمان بن حنیف بن واہب ابو عمرو انصاری اوسی رضی اللہ عنہ ایک قول کے مطابق وہ بدری صحابی ہیں۔ لیکن جمہور کے نزدیک پہلی بار وہ احد میں حاضر ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرے پر غلبہ پانے سے پہلے انھیں بصرہ کا والی بنایا لیکن اس سے پہلے بصرہ پر طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما غالب آ گئے اور جنگ جمل کے حوالے سے ان کا قصہ مشہور و معروف ہے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں فوت ہوئے۔

(الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 316۔

الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 449۔) رضی اللہ عنہ کو ذلیل و رسوا کر کے شہر بدر کر دیا۔ حالانکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی تھا۔‘‘

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز دہلوی: 269)

شبہے کا جواب:

اس شبہے کا جواب دو وجوہ سے دیا جائے گا:

وجہ نمبر 1: حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ پیش آیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ تو اس کا علم تھا اور نہ وہ اس پر خوش ہوئیں۔ بلکہ جب لوگ اسے قصر شاہی سے ذلیل کر کے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس لائے تو ان دونوں نے اسے جرم عظیم کہا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر دی، تب عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہے جانے دیا جائے۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 468۔

البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 438)

شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمہ اللہ نے لکھا:

یہ معاملات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رضامندی سے پیش نہیں آئے اور نہ ہی انھیں ان کا علم ہوا۔ بلکہ جب انھیں عثمان بن حنیف کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی کا علم ہوا تو ان کے سامنے اپنی لاعلمی کا عذر پیش کیا اور ان کو منا لیا۔

(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ: 269)

وجہ نمبر 2: یہ کہ جب آدمی کسی عمل سے اپنی برأت کا اعلان کر دے تو اس عمل کو اس کی طرف منسوب کرنا قطعاً جائز نہیں، بلکہ اس عمل کی اس آدمی کی طرف نسبت کرنا اس پر ایسا بہتان لگانے کے مترادف ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ انھیں اسلام کی طرف دعوت دیں چنانچہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انھیں اسلام کی دعوت پہنچائی وہ ’’اَسْلَمْنَا‘‘ کہ ’’ہم اسلام لائے‘‘ اچھی طرح نہ کہہ سکے اور کہنے لگے ’’صَبَأْنَا صَبَأْنَا‘

(صبأ فلان: جب کوئی شخص ایک دین سے نکل کر دوسرے دین کو اختیار کر لے۔

(النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 3۔) اس لفظ کا ظاہری معنیٰ یہ ہے کہ ہم بے دین ہو گئے ہم بے دین ہو گئے۔

سیدنا خالد نے انھیں قتل کرنے اور قیدی بنانے کا حکم دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: ’’اے اللہ میں تیرے سامنے خالد کے عمل سے اپنی برأت کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4339۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔)

تو کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد کو اس کا حکم دیا تھا اسی طرح زیر بحث مسئلہ میں بھی کہا جائے گا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس حکم دیا۔