چھٹا شبہ
علی محمد الصلابیرافضہ کہتے ہیں کہ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک کیا اور اس نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو گالی دی۔‘‘
رافضی دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک کیا اور انھوں نے اس جھوٹی کہانی اور خطرناک افتراء کے لیے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:
’’ایک دن ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت ناراض ہوئیں اور آپﷺ کو یوں مخاطب کیا: آپ ہی وہ شخص ہیں جو کہتے ہیں کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔‘‘
(وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ لمحمد بن الحسن الحر عاملی، مقدمۃ التحقیق: جلد 1 صفحہ 33)
اصل حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرا سامان کم تھا اور میرا اونٹ تیز چلتا تھا، جبکہ صفیہ کا سامان زیادہ تھا اور اس کا اونٹ بوجھل ہونے کی وجہ سے آہستہ چلتا تھا۔ وہ قافلے سے پیچھے رہ جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عائشہ رضی اللہ عنہا کا سامان صفیہ کے اونٹ پر اور صفیہ کا سامان عائشہ کے اونٹ پر منتقل کر دو تاکہ قافلہ چلتا رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندو! یہ یہودن ہماری نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب آ گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ام عبداللہ! بے شک تیرا سامان خفیف ہے اور صفیہ کا سامان وزنی ہے، اس وجہ سے قافلہ آہستہ ہو گیا۔ اس لیے ہم نے اس کا سامان تمہارے اونٹ پر اور تمہارا سامان اس کے اونٹ پر تبدیل کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ،میں نے کہا: ’’کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور فرمایا: اے ام عبداللہ! کیا تجھے کوئی شک ہے؟ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا : میں نے کہا: کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ کاش! آپ انصاف کرتے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری یہ بات سن لی اور وہ غصیلے تھے، پھر وہ میری طرف آئے اور میرے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! صبر کرو۔ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں اس نے کیا کہا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’غیرت کی ماری گھاٹی کے اوپر سے گھاٹی کے نیچے نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
(مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 129، حدیث نمبر: 4670۔ الامثال لابی الشیخ: 56)
اس شبہ کا ازالہ:
اس شبہ کا ازالہ متعدد طریقوں سے کیا جاسکتا ہے:
اولًا: یہ روایت مسند ابی یعلیٰ میں ہے، لیکن صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کی سند میں دو علتیں ہیں:
(مسند ابی یعلیٰ: 4670)
’’محمد بن اسحاق مدلس ہے اور اس کی یہ روایت معنعن ہے۔‘‘
(الضعفاء و المتروکین لابن الجوزی: جلد 3 صفحہ 41۔ التبیین لاسماء المدلسین لابی الوفا الحلبی: جلد 1 صفحہ 171)
سلمہ بن فضل کے بارے میں امام بخاریؒ فرماتے ہیں : ’’اس کے پاس منکر روایات ہیں۔‘‘
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ’’صدوق بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔‘‘
(تہذیب الکمال للمزی: جلد 11 صفحہ 306۔ تقریب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 248)
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’میں کہتا ہوں، یہ سند ضعیف ہے اور اس میں دو علتیں ہیں:
1۔ ابن اسحق کا عنعنہ اور اس کی تدلیس
2۔سلمہ بن فضل کا ضعف مشہور ہے۔‘‘
حافظ نے کہا: ’’یہ صدوق اور کثیر الخطاء ہے۔‘‘
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: حدیث نمبر: )4985
اس حدیث کا متن بھی ظاہری طور پر منکر ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ نیز اسے بوصیری نے ضعیف کہا۔
(الاتحاف المہرۃ: حدیث نمبر: 3190)
ثانیاً: اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو اس میں یہ وضاحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ایسے جملوں سے چشم پوشی کیا کرتے تھے۔ جن کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوتا کہ اس جملے کے ظاہری الفاظ اس کا مقصد نہیں اور یہ کہ وہ صرف شدید محبت اور غیرت ازدواجی کی وجہ سے کہے گئے ہیں۔ پھر یہ بھی قابل غور ہے کہ ہر جگہ ’’زعم‘‘ شک کے معانی میں نہیں آتا۔ اس کے معانی کہنا اور یاد کرنا یا تذکرہ کرنا بھی ہیں۔ جیسے کہ ابن منظور (محمد بن مکرم بن علی ابو الفضل الرویفعی لغت میں امام شمار ہوتا ہے۔ 630 ہجری میں پیدا ہوا۔ قاہرہ میں اہم عہدے پر فائز رہا۔ پھر طرابلس کا قاضی بن گیا۔ ادب کی طویل کتابوں کو مختصر کرنے کا اسے بہت شوق تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’لسان العرب‘‘ و ’’نثار الازہار‘‘ مشہور ہیں۔ 711 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 108۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل باشا: جلد 3 صفحہ 159۔) نے ابن بری (عبداللہ بن بری بن عبدالجبار ابو محمد المقدسی اشافعی، اپنے وقت کا مشہور نحوی تھا۔ 499 ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی تصنیف ’’جواب المسائل العشر‘‘ مشہور و متداول ہے۔ 582 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 21 صفحہ 135۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 7 صفحہ 122) سے روایت کی کہ کلام عرب میں ’’زعم‘‘ کے چار معانی آتے ہیں اور قول و تذکرہ کے معانی میں بھی ہوتا ہے۔
(لسان العرب لابن منظور: جلد 12 صفحہ 264)
امام بخاریؒ نے جو روایت ابن جریج سے نقل کی ہے وہ بھی اس کی تائید کرتی ہے، کہ عطاء کہتے ہیں کہ انھوں نے عبید بن عمیر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش کے پاس ٹھہرتے تھے۔ طویل حدیث ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6691۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 14747 )
دوسری روایت میں جو ابن شہاب سے مروی کہ عطاء نے کہا، جابر بن عبداللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ ہو جائے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 855۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 564)
ابو یعلیٰ نے بنو خثعم کے ایک آدمی سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپﷺ اپنے چند اصحابؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! بقول راوی: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے نزدیک کون سا عمل محبوب ترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان لانا۔ طویل حدیث ہے۔
(مسند ابی یعلیٰ: جلد 12 صفحہ 229، حدیث نمبر: 6839۔ منذری نے ترغیب و ترہیب: جلد 3 صفحہ 304۔ پر اور دمیاطی نے المتبحر الرابح: جلد 2 صفحہ 251 میں اور ہیثمی مکی نے الزواجر: جلد 2 صفحہ 81۔ پر اس کی سند کو جید کہا اور ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 154 پر کہا نافع بن خالد کے علاوہ اس کے سب راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور وہ بھی ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب و الترہیب، حدیث نمبر: 2522 پر اسے صحیح کہا ہے۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔ حالانکہ اصولی قاعدہ ہے کہ وضاحت کو ضرورت کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہیں اور اگر اس صحابی کی بات میں کوئی منکر بات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انکار ضرور کرتے۔ چنانچہ خلاصۂ تحقیق یہ ہوا کہ شیعہ اس شبہ کے لیے جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ دراصل ضعیف ہے اور اگر بفرض محال یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو پھر بھی اس میں ایسے الفاظ موجود ہی نہیں جن کی بنا پر ام المؤمنین، عفیفۂ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نشانہ بنایا جائے۔ و الحمد للّٰہ
ثالثاً: یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی روایت ہے گویا وہ اعتراف کر رہی ہیں کہ یہ غلطی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کر لی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور اگر جس طرح روافض کہتے ہیں اس طرح ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود ہی اس حدیث کو کیوں روایت کرتیں؟
افضل یہ ہے کہ اگر حدیث صحیح ہو جائے تو اسے سدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت میں شمار کیا جائے۔ کیونکہ انھوں نے ہی اسے روایت کیا اور شریعت کی حفاظت اور اسے دوسروں تک منتقل کرنا ان کے نزدیک دیگر تمام کاموں سے زیادہ افضل و اولیٰ ہے۔ حتیٰ کہ اگر خود ان کی ذات ہی ہو۔
رابعاً: یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی طرف سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ غیرت کھانے والی کو وادی کی بالائی جانب سے اس کے زیریں جانب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
خامساً: یہ کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کی بات پر سزا دے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کا دفاع کیا۔ تو ان (رافضی) لوگوں کو مداخلت کا اختیار کس نے دیا؟ وہ کون ہوتے ہیں اس معاملے کے بیچ آنے والے؟