چھٹا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چھٹا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ابو یعلیٰ نے بنو خثعم کے ایک آدمی سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپﷺ اپنے چند اصحابؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! بقول راوی: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے نزدیک کون سا عمل محبوب ترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان لانا۔ طویل حدیث ہے۔

(مسند ابی یعلیٰ: جلد 12 صفحہ 229، حدیث نمبر: 6839۔ منذری نے ترغیب و ترہیب: جلد 3 صفحہ 304۔ پر اور دمیاطی نے المتبحر الرابح: جلد 2 صفحہ 251 میں اور ہیثمی مکی نے الزواجر: جلد 2 صفحہ 81۔ پر اس کی سند کو جید کہا اور ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 154 پر کہا نافع بن خالد کے علاوہ اس کے سب راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور وہ بھی ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب و الترہیب، حدیث نمبر: 2522 پر اسے صحیح کہا ہے۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔ حالانکہ اصولی قاعدہ ہے کہ وضاحت کو ضرورت کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہیں اور اگر اس صحابی کی بات میں کوئی منکر بات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انکار ضرور کرتے۔ چنانچہ خلاصۂ تحقیق یہ ہوا کہ شیعہ اس شبہ کے لیے جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ دراصل ضعیف ہے اور اگر بفرض محال یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو پھر بھی اس میں ایسے الفاظ موجود ہی نہیں جن کی بنا پر ام المؤمنین، عفیفۂ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نشانہ بنایا جائے۔ و الحمد للّٰہ

ثالثاً: یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی روایت ہے گویا وہ اعتراف کر رہی ہیں کہ یہ غلطی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کر لی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور اگر جس طرح روافض کہتے ہیں اس طرح ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود ہی اس حدیث کو کیوں روایت کرتیں؟

افضل یہ ہے کہ اگر حدیث صحیح ہو جائے تو اسے سدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت میں شمار کیا جائے۔ کیونکہ انھوں نے ہی اسے روایت کیا اور شریعت کی حفاظت اور اسے دوسروں تک منتقل کرنا ان کے نزدیک دیگر تمام کاموں سے زیادہ افضل و اولیٰ ہے۔ حتیٰ کہ اگر خود ان کی ذات ہی ہو۔

رابعاً: یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی طرف سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ غیرت کھانے والی کو وادی کی بالائی جانب سے اس کے زیریں جانب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

خامساً: یہ کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کی بات پر سزا دے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کا دفاع کیا۔ تو ان (رافضی) لوگوں کو مداخلت کا اختیار کس نے دیا؟ وہ کون ہوتے ہیں اس معاملے کے بیچ آنے والے؟


صفحہ 2 از 2