ساتواں شبہ
علی محمد الصلابیاہل تشیع کہتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس (سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے واویلا اور چیخ و پکار کی اور اپنا چہرہ پیٹا۔‘‘
اس شبہے کا ازالہ:
علماء کے نزدیک یہ روایت منکر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایسی کوئی بات بھی ثابت نہیں، ہاں! یہ موجود ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’میری گود اور میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے۔ اس گھر میں میں نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تو وہ میری گود میں تھے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تکیہ پر رکھ دیا اور اپنی حماقت اور کم عمری کے سبب میں عورتوں کے ساتھ پیٹنے میں شامل ہو گئی اور اپنے چہرے پر مارنے لگی۔‘‘
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 274، حدیث نمبر: 26391۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 63، حدیث نمبر: 4586۔ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل: جلد 7 صفحہ 86 پر اور شعیب ارناؤط نے تحقیق مسند احمد: جلد 6 صفحہ 274 پر اسے حسن کہا۔
اس روایت کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کچھ ثابت ہے اس کے مخالف و معارض ہے کہ آپ پر بین و نوحہ نہیں کیا گیا۔
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہنے لگے: اے بیٹو! تم مجھ سے کچھ سیکھ لو۔ کیونکہ تم جس سے بھی کچھ سیکھو گے وہ تمہارے لیے مجھ سے زیادہ خیر خواہ نہیں ہو گا۔ تم مجھ پر بین نہ کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بین نہیں کیا گیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بین سے روکتے ہوئے سنا ہے۔
(الادب المفرد للبخاری: حدیث نمبر: 953۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 18 صفحہ 339، حدیث نمبر: 870۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 3 صفحہ 207، حدیث نمبر: 3336۔ ابن حبان نے الثقات: جلد 6 صفحہ 320 پر کہا: اس میں ایک راوی زیاد بن ابی زیادہ جصاص ہے وہ اکثر اوقات وہم کرتا تھا اور مزی نے اسے تہذیب الکمال: جلد 15 صفحہ 324 میں حسن کہا۔ مجمع الزوائد میں ہیثمی نے جلد 3 صفحہ 108 پر حسن کہا۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط اور المعجم الکبیر میں روایت کیا، مگر اختصار کے ساتھ اور اس میں ایک راوی زیاد الخصاص ہے۔ اس میں علماء جرح و تعدیل نے کچھ کلام کیا اور کچھ علماء نے اسے ثقہ قرار دیا۔ اتحاف الخیرۃ المہرۃ: جلد 2 صفحہ 418 میں بوصیری نے اسے ضعیف کہا اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح الادب المفرد: حدیث نمبر: 953 میں اسے صحیح لغیرہ کہا)
اس اثر میں محل الشاہد صحابی کا یہ کہنا ہے:
’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس چیز میں مخالفت کرتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْحُدُوْدَ وَشَقَّ الْجَیُوْبَ وَ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ
’’وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی طرح کی آوازیں لگائے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1294۔ یہ متن بخاری کا ہے۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 103)
اگر یہ روایت ثابت بھی ہو جائے تو ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معصومۂ عن الخطا نہیں تھیں اور نہ ہم ان کے معصوم ہونے کے دعوے دار ہیں اور نہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کے معصوم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار اور اعتراف کیا کہ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ خطا ہے۔ جس کی علت انھوں نے یہ بیان کی کہ وہ نو عمر تھیں اور بلاشک حادثہ بہت بڑا تھا اور مصیبت بہت بھاری تھی، جو نبی الامت صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے محبوب خاوند کی وفات کی وجہ سے ان پر آئی تھی۔
نیز ان کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی اس غلطی سے توبہ کر لی تھی۔ اس لیے یہ ثابت نہیں کہ ان سے یہ فعل دوبارہ کبھی سرزد ہوا، جب ان کے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یا ان کا کوئی اور قریبی فوت ہوا تو کس طرح اس عمل پر ان کا مواخذہ کیا جائے گا، جس سے وہ توبہ کر چکی ہوں۔