ساتواں شبہ
علی محمد الصلابی’’بڑی عمر میں رضاعت کا مسئلہ اور اس مسئلہ میں روافض کے مکر و فریب کے بارے میں تنبیہات۔‘‘
بڑی عمر میں رضاعت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی اختلاف واقع ہوا اور ان کے بعد سلف اور خلف امت میں بھی یہی اختلاف جاری ہے۔ فریقین کے دلائل و مفاہیم میں طویل تنازع برپا ہے اس میں سے کئی فروعی مسائل اخذ ہوتے ہیں جن پر بحث و تحقیق مفید ہے لیکن ہمارا مقصد یہاں تمام مسئلہ کی تحقیق او راجح نکالنا نہیں۔ تاہم ہم نے اسے مستقل مسئلے کے طور پر اس لیے اہمیت دی ہے تاکہ روافض کی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوچی سمجھی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ تو ہم پہلے روافض کی آراء کا خلاصہ تحریر کریں گے اس کے بعد ان کے مکر و فریب کے تانے بانے کو ادھیڑیں گے۔
مرتضیٰ عسکری رافضی نے اپنی کتاب ’’احادیث ام المومنین عائشہ‘‘ میں رضاعت کبیر کے مسئلہ پر طویل کلام کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کا تذکرہ بھی کیا ہے، چنانچہ ہمیں بھی اسی سے غرض ہے ہم امی جان عائشہ کی رائے کی ایسی توجیہ پیش کریں گے جسے ہر عقل سلیم اور منصف مزاج بسر و چشم قبول کرے گا۔
(احادیث ام المومنین عائشۃ لمرتضی العسکری: جلد 1 صفحہ 345، 359)
مرتضیٰ عسکری لکھتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سوال کرنے والوں سے ملاقات کی محتاج تھیں اور گھمبیر سیاسی مسائل میں گھر گئی تھی۔ شاید یہ دو اسباب تھے جن کی وجہ سے اس نے سالم مولی ابی حذیفہ (سالم بن معقل ابو عبداللہ مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ سابقین اولین میں سے تھے۔ کبار قراء صحابہؓ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ 12 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 169۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 13۔) کی رضاعت والی حدیث کی تاویل کر لی اور یہ کہ سیدہ عائشہ کی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات کی احادیث کے خلاف ہے۔
(آئندہ صفحات میں اس بہتان کی تردید ہے کیونکہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کی تائید و حمایت کی ہے)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مشکل کا حل اس طرح نکالا کہ ایک آیت نکالی جو اس کی رائے کی تائید کرتی ہے اور فتویٰ دے دیا کہ حرمت رضاعت پانچ بار دودھ پلانے سے ثابت ہو جاتی ہے اور جس آیت میں دس بار دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہونے کی بات ہے اس کا جواب یہ دیا کہ آیت رجم اور دس بار رضاعت سے حرمت والی آیت اتری اور وہ صحیفہ میرے بستر کے نیچے تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ان کی وفات کی وجہ سے ہماری توجہ ادھر ہوئی تو پالتو بکرا آیا اور وہ صحیفہ کھا گیا۔
یہ نہایت خطرناک تدلیس اور سازش کی تخطیط ہے اس کی آڑ میں وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یوں ہیں:
1۔ یہ کہ اپنی رائے کو راجح بنانے کا مأخذ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیاسی مأخذ ہے۔
2۔ یہ کہ اس وجہ سے اس نے روایات اور احادیث وضع کیں اور ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی تاکہ اسے اپنی رائے کی حمایت مل جائے جس طرح کہ ابو ریہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہی تہمت لگائی۔
(عجیب بات ہے کہ ابو ریہ نے اس مرتضیٰ عسکری کی کتاب کی تقریظ لکھی ہے اور ابو ہریرہ و عائشہ رضی اللہ عنہما کثرت سے روایت کرنے والوں میں سے ہیں اور اس طرح کی تہمتوں کا ان دونوں کو نشانہ بنانے سے اسلام کی اکثر احادیث ضائع ہو جائیں گی۔ لیکن علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے علماء و عامۃ المسلمین کی طرف سے یہ قرض چکا دیا اور ابو ریہ کا بھرپور رد کیا۔ اب مرتضی کے جھوٹ کا پول کھولنا باقی ہے جو اس نے ام المؤمنینؓ پر بہتانات لگائے ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ علماء اور طلاب علم کو اس کی توفیق دے۔
3۔ یہ کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مخالف قول، اس کے بقول، کی تاویل کرتی ہیں۔
4۔ یہ کہ وہ سنت کی محافظ نہیں۔
یہ تمام بہتانات ہیں ہر زمانے کے صالحین نے ان بہتانات کا جواب دیا ہے اور امہات المؤمنین کو حق پر ثابت کیا اور آئندہ صفحات میں مرتضی کی موشگافیوں کا ردّ کیا جائے گا۔
اول: مرتضیٰ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ رائے فتنہ (قتل عثمان رضی اللہ عنہ ) کے بعد قائم کی۔ یہ سراسر غلط بات ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف اس سے پہلے بھی موجود تھا۔ جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف رائے منسوب کی جاتی ہے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 7 صفحہ 458 میں آراء الصحابہ و التابعین کامطالعہ کریں)
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ظاہر ہوئی۔ اس طرح مرتضیٰ نے جو توجیہ پیش کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سوال کرنے والوں سے ملاقات کی ضرورت تھی یا پیش آنے والے فتنوں کا اس کی رائے پر اثر تھا۔ درج بالا بحث سے اس کی یہ رائے اور توجیہ ختم ہو گئی۔
دوم: پانچ بار رضاعت سے حرمت کے ثبوت والی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں صحیح مسلم میں موجود ہے۔ قرآن میں دس بار رضاعت سے حرمت کا ثبوت نازل ہوا تھا۔ پھر ان میں سے پانچ بار رضاعت منسوخ ہو گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو قرآن میں ان کی تلاوت کی جاتی تھی۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1452۔)
یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے۔ جہاں تک بکری یا بکرے کے آنے اور صحیفہ کھانے کا کا قصہ ہے اس پر گفتگو آئندہ صفحات میں ہو گی۔
سوم: اگر یہ بھی کہا جائے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے مرجوح ہے تو کہا جائے گا کہ وہ سالم والی نص حدیث پر عمل پیرا ہے اور خاص ہونے کی دلیل چاہیے اور مجتہد سے کبھی کبھی نص مخصوص مخفی ہو جاتی ہے یہ مشکل تمام ابواب علم میں پیش آتی ہے۔ لہٰذا اس مقام پر ملامت کی کوئی گنجائش نہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کسی نے بھی نص مخصوص واجب نہیں کی۔ اسی لیے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کر رہی تھی اور وہ کہتی تھی کہ سالم والا واقعہ سالم کے ساتھ خاص ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کہتی تھیں کیا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر نمونہ نہیں۔ تب ام سلمہ رضی اللہ عنہا لاجواب ہو گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کو پسند کیا اور اسے اپنا لیا یا اس کے پاس اپنی رائے کی کوئی دلیل نہ رہی۔
(زاد المعاد لابن قیم: جلد 5 صفحہ 517، 518۔ معمولی ردّ و بدل کے ساتھ)
چہارم: یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی اس رائے میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے متعدد افراد نے یہی رائے اختیار کی۔
(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 34 صفحہ 60۔ زاد المعاد لابن القیم: جلد 5 صفحہ 514)
جیسا کہ یہ رائے صحابہ میں سے حفصہ، علی، ابو موسیٰ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
(تفسیر القرطبی: جلد 3 صفحہ 163۔ سلمان ابن ربیعہ کی صحبت میں اختلاف ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو موسیٰ نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ یہ قابل غور ہے۔ و اللہ اعلم۔ اور دیکھیں: المسائل الفقہیہ التی حکی فیہا رجوع الصحابۃ لخالد بابطین: صفحہ 643۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری: جلد 9 صفحہ 149 اور زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 514 حافظ ابن حجر علی رضی اللہ عنہ سے اس رائے کے ورود کو ضعیف لکھا ہے کیونکہ اس سے حارث بن اعور نے روایت کی ہے جو المحلی لابن حزم میں ہے۔ لیکن بقول محقق المحلی کی روایت جو حارث الاعور نے علی رضی اللہ عنہ سے کی ہم اس پر تبصرہ نہیں کرتے بلکہ ہمارے پیش نظر وہ روایت ہے جو مصنف عبدالرزاق میں ہے اور اس کی تخریج آگے آ رہی ہے۔
اور یہ رائے عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر سے بھی منقول ہے اور یہی رائے عطاء، قاسم بن محمد اور لیث بن سعد کی بھی ہے۔
پنجم: یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر یہ قول اختیار کرنے کی وجہ سے طعن و تشنیع کرنے والوں کی رسوائی اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ متعدد علماء نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس قول کو ترجیح دینے کی دو وجوہات ذکر کی ہیں، ان دو میں سے ہم طوالت کے خوف سے صرف ایک رائے کو مختصر طور پر تحریر کرتے ہیں۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اس قول کے دلائل تحریر کرتے ہیں جس کے مطابق رضاعت کبیر سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ہم اللہ کے نام پر گواہی دیتے ہیں جس پر ہمیں قطعی یقین ہے کہ ہم قیامت کے دن اس سے ملاقات کریں گے۔ یہ کہ ام المؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کو اس شخص کے لیے مباح نہیں کرنا چاہتیں جس کے لیے آپ کا ستر کھولنا مباح نہ ہو اور نہ ہی اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کو صدیقہ کائنات کے ہاتھوں حلال کروانا چاہا جس کی برأت ساتویں آسمان سے نازل کی۔ بے شک اللہ سبحانہ نے اس معزز ہستی اور محفوظ و محیط چراگاہ اور بلند شان کی حفاظت مکمل طور پر کی ہے اور اس کی حفاظت و حمایت اور دفاع اپنی وحی اور اپنے کلام کے ذریعے کیا ہے۔
(زاد المعاد لابن القیم: جلد 5 صفحہ 519)
میں کہتا ہوں علم اصول میں امر خارجی کے ذریعے ترجیح معروف ہے اور اس قول کی ترجیح کے دلائل سو کے قریب ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دو میں سے ایک خبر کا تقاضا ہے کہ منصب صحابہؓ سے چشم پوشی کی جانی چاہیے۔
(المستصفی فی علم الاصول للغزالی: صفحہ 368)
بقول مصنف من جملہ یہ مسئلہ بھی اس اصول میں شامل ہے۔
ششم: یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان کا ایسا ہی فتویٰ حافظ عبدالرزاق نے اپنی ’’مصنف‘‘ میں اور اس کی سند کے ساتھ علامہ ابن حزم نے ’’المحلی‘‘ میں درج کیا ہے۔
(مصنف عبدالرزاق:جلد 7 صفحہ 461 اور ابن حزم نے اسے صحیح کہا۔ الاعراب عن الحیرۃ و الالتباس: جلد 2 صفحہ 831، المحلی: جلد 10 صفحہ 187۔)
اس بنیاد پر یا تو یہ رائے درست ہے کیونکہ روافض کے عقائد کے مطابق یہ امام معصوم علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ یا یہ قول غلط ہے یہ کہنے سے شیعوں کا ائمہ کو معصوم کہنے کا عقیدہ باطل ہو جائے گا اور ان کا عظیم اصول کھوکھلا ہو جائے گا۔ تو ان کے لیے ان دو اقوال سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور وہ داخل ہونے والا نہیں۔
ہفتم: بکری کے کھانے والا اضافہ ابن ماجہ نے محمد بن اسحق، بواسطہ عبداللہ بن ابی بکر، بواسطہ عمرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 1944)
ابن اسحاق نے اپنی روایت میں اس اضافے کے ذریعے متعدد ثقات کی مخالفت کی جیسے مالک اور یحییٰ بن سعید وغیرہ۔ لہٰذا یہ اضافہ منکر ہے۔
حافظ جورقانی (حسین بن ابراہیم بن حسین ابو عبداللہ جورقانی، امام، حافظ، ناقد، علم حدیث میں متعدد کتب تصنیف کیں۔ اس کی مشہور تصنیف ’’الموضوعات من الاحادیث المرفوعات‘‘ ہے۔ 543 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 177۔ الاعلام للزرکلی: جلد 2 صفحہ 230۔) نے ابن ماجہ کی سند کے ساتھ اپنی کتاب ’’الاباطیل و المناکیر‘‘ میں روایت کی اور کہا یہ روایت باطل ہے اس سند میں محمد بن اسحق متفرد ہے اور وہ ضعیف الحدیث اور اس سند میں اضطراب بھی ہے۔
(الاباطیل و المناکیر للجورقانی: جلد 2 صفحہ 184۔ اور محمد بن اسحاق ضعف کے درجے تک بھی نہیں پہنچتا اس کے حالات میں اس پر جرح ملاحظہ کریں۔
بقول مصنف (سیرۃ عائشہ رضی اللہ عنہا ) اس اضطراب کی طرف حافظ ابو الحسن دارقطنی نے کتاب ’’العلل‘‘ میں اشارہ کیا ہے۔
(العلل للدارقطنی: جلد 15 صفحہ 153)
جبکہ حافظ ابو محمد بن حزم رحمہ اللہ تو اس سے بھی آگے نکل گئے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’کچھ لوگوں نے شدید غلطی کی اور ایسی روایات لائے جو ملحدین اور کاذبین نے وضع کیں۔ ان میں سے پالتو بکرا وہ صحیفہ کھا گیا جس میں پڑھی جانے والی آیت تھی اور وہ پوری ضائع ہو گئی۔ اس شخص نے امہات المؤمنین کی بری تعریف کی اور انھیں اس جرم کا مجرم ٹھہرایا کہ ان کے گھروں میں جن آیات کی تلاوت کی جاتی تھی وہ اس کی حفاظت نہ کر سکیں۔ یہاں تک کہ بکری نے کھا کر تلف کر دی۔ حالانکہ یہ ظاہری جھوٹ اور محال و ناممکن ہے، واضح ہو گیا کہ بکرے کے کھانے والی حدیث بہتان، کذب اور تہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو اس روایت کو جائز قرار دے گا اور جو اس کی تصدیق کرے گا۔‘‘
(الاحکام لابن حزم: جلد 4 صفحہ 77، 78)
بقول مصنّف: میں کہتا ہوں کہ فرض کر لیں یہ روایت اگر صحیح بھی ہو تو اس مفروضہ پر ابن قتیبہ نے ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘ میں بحث کی ہے اور ہم نے طوالت کے اندیشے سے اسے ترک کیا ہے۔
(تاویل مختلف الاحادیث لابن قتیبہ: صفحہ 439)