ساتواں شبہ
علی محمد الصلابییہ کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کہا کرتی تھیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا اور میں چاہتی ہوں کہ کاش! میں بھولی بسری بن جاؤں۔‘‘
(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز دہلوی: 269)
اس کی دو توجیہات ہو سکتی ہیں:
توجیہ نمبر 1: یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں اور اگر صحیح بھی ہو پھر بھی اس میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس کی بنیاد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کی جائے اور جو روایت صحیح ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’وہ جنگ جمل کے دن کو یاد کرتیں تو اس قدر روتیں کہ اپنی اوڑھنی کو آنسوؤں سے تر کر لیتیں۔‘‘
(سابقہ حوالہ: 270)
صحیح بخاری میں ہے کہ جب ان کے آخری لمحات میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگیں: ’’میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہو جاؤں۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
توجیہ نمبر 2: بے شک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ثابت ہے: ’’اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں آج (جنگ جمل) سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔‘‘
(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 57۔ الکامل فی التاریخ لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 611)
لیکن کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ کی بنا پر مطعون نہیں کیا۔