چوتھا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چوتھا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(من لا یحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 44۔ مسعودی جو معتزلی شیعہ ہے اس نے اپنی کتاب مروج الذہب، جلد 2 صفحہ 395 میں لکھا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں تقریباً چھ سو سوار تھے جو بصرہ کی طرف جا رہے تھے تو رات کے وقت بنو کلاب کے ایک چشمے پر وہ پہنچ گئے۔ جسے حوأب کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اس پر بنو کلاب کے کچھ لوگوں کا بسیرا تھا۔ ان کے کتے قافلے والوں پر بھونکنے لگے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اس جگہ کا نام کیا ہے؟ ان کا اونٹ ہانکنے والے نے کہا: اس جگہ کا نام حوأب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور لوگوں کو بتایا جو کچھ اس پانی کے بارے میں انھیں کہا گیا تھا۔ چنانچہ وہ کہنے لگیں : تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم (مدینہ) میں لوٹا دو۔ مجھے اس سفر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ جگہ حوأب نہیں اور آپ کو جس نے بتایا اس نے غلط بتایا اور طلحہؓ اگلے لوگوں میں تھے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پچاس آدمیوں کے ہمراہ آئے اور سب نے حلفاً کہا: یہ جگہ حوأب نہیں۔ بقول مصنف: اسلام میں یہ پہلی جھوٹی گواہی دی گئی۔ ابن العربی رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں لکھا: البتہ تم (شیعوں ) نے حوأب کے پانی کے بارے میں جس گواہی کا تذکرہ کیا ہے درحقیقت تم نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو کچھ تم نے کہا وہ سب جھوٹ ہے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

ابن العربی رحمہ اللہ نے حوأب والی حدیث کی پرزور طریقے سے تردید کی ہے اور کلی طور اس کی صحت سے انکار کیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے لکھا اور ہم اگرچہ اس کے مذکورہ گواہی کے انکار میں اس کے حامی اور موید ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو جن گناہوں سے محفوظ کر دیا ہے ان میں سے ایک جھوٹی گواہی بھی ہے۔ خصوصاً ان میں سے وہ دس جنھیں جنت کی بشارت بزبان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں مل گئی۔ جیسے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما۔ اسی طرح ہم ابن العربی رحمہ اللہ کے اس قول کا بھی انکار کرتے ہیں ’’اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی۔‘‘ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟ جبکہ محدثین کے ہاں متعدد معروف کتب ستہ میں یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔

(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی: جلد 1 صفحہ 849۔)

رافضیوں کے امام اکبر ’’مفید‘‘ کی کتاب کی اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس کینے سے برأت کی دلیل ہے۔ جس کی نسبت سے رافضی ام المؤمنین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں تو کیا جو عورت اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء پر اس قدر جرأت کا مظاہرہ کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت توڑ ڈالے اور مردوں کے جلوس میں بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر نکلے اور اس نے عزم مصمم و موکد کر رکھا ہو کہ وہ علی کے ساتھ ضرور مڈبھیڑ کرے گی اور قتل علی کے ذریعے اپنے سینے میں بھری ہوئی بھاری دشمنی کو ٹھنڈا کرے گی اور لوگوں کو علی رضی اللہ عنہ کی دشمنی پر ابھارنا ....!!

اہل روافض نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی جو تصویر کشی کر رکھی ہے کیا وہ تصویران کی اپنی کتابوں میں موجود، ان کے اپنے اماموں سے مروی اس روایت سے ذرہ بھر بھی میل کھاتی ہے۔ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رب العالمین کے خوف کی دلیل ہے اور سفر پر ان کے اظہار ندامت کا اعلان اور جب انھیں مقام معہود یعنی حوأب کے چشمے کا علم ہوا تو ان کا انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھنا ان کے افسوس کا اظہار ہے۔ کیا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان تھیں؟ اور اللہ انھیں اس الزام سے اپنی پناہ میں رکھے۔ کیا وہ قتال کا عزم صمیم رکھتی تھیں؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو دیوار پر پھینکنے والی تھیں جو کہ حدود اللہ کو پامال کرنے کی جرأت کرنے والی تھیں؟ جیسا کہ روافض نے افتراء ات اور جھوٹ کے طومار باندھے ہیں۔ 

وہ تو رافضیوں کی اپنی من گھڑت جھوٹی روایت کے مطابق افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔ نادم ہیں۔ انا للہ پڑھ رہی ہیں۔ نرم دل، اللہ سے خشوع کرنے والی، اس کی طرف رجوع کرنے والی ہیں۔

رافضیوں پر لازم ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ بولنے کے لیے موکد اور مغلظ قسمیں اٹھائیں کہ یہ حوأب کا چشمہ نہ تھا تاکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سفر سے لوٹنے کا ڈر اور سارے پروگرام کو چھوڑ دینے کی روایت روافض کے موافق ہو جائے، تو پھر وہ لوگوں کی کیسی قائد تھیں اور ان کے سامنے ان کی شان و شوکت کا کیا بنا؟ اور علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بغض کی کیا دلیل ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے کب نکلیں اور ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خون بہانے والا وہ بھڑکتا ہوا عزم کہاں گیا۔ بلکہ ان کی ولایت سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار!۔۔۔ اس کا کیا بنے گا؟


صفحہ 2 از 2