روزہ افطار کا صحیح وقت
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓروزہ افطار کا صحیح وقت
قسط 1
احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ روزہ سورج غروب ہوتے ہی افطار فرمایا کرتے تھے۔
چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ افطار کے وقت کسی صحابی کو اونچی جگہ پر کھڑا کر دیتے تاکہ وہ سورج کو دیکھ کر اطلاع دے کہ آیا سورج غروب ہوچکا ہے یا نہیں۔ جب وہ اعلان کرتے کہ سورج ڈوب گیا ہے تو اسی وقت نبی کریم ﷺ افطار فرما لیتے تھے۔
(مستدرک حاکم)
اس روایت سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ افطار کے لیے سورج کے غروب ہونے کا انتظار کیا جاتا تھا، نہ کہ اندھیرا پھیل جانے کا۔
اسی طرح قرآنِ مجید میں روزے کے بارے میں جو الفاظ آئے ہیں:
﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾
تو یہاں لفظ «اِلَی اللَّیْل» استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے رات کی ابتداء تک۔
عربی زبان میں لفظ «اِلَی» اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی چیز کی حد مقرر کی جاتی ہے۔ اگر یہاں «فِی اللَّیْل» آتا تو اس کا مطلب ہوتا رات کے اندر، لیکن «اِلَی اللَّیْل» کا صاف مفہوم یہ ہے کہ جیسے ہی رات شروع ہو، روزہ مکمل ہو جاتا ہے۔
اور احادیث نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ رات کی شروعات سورج کے غروب ہوتے ہی ہو جاتی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سورج ڈوبتے ہی افطار فرمایا کرتے تھے۔
جب قرآن کی تشریح خود صاحبِ قرآن ﷺ نے اپنے عمل سے فرما دی، تو پھر کسی اور تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اب سوال یہ ہے کہ:
شیعہ حضرات سے پوچھا جائے کہ ان کے نزدیک رات کی شروعات کب ہوتی ہے؟
اگر سورج غروب ہونے سے نہیں، تو پھر قرآن اور سنت کے خلاف کس دلیل پر؟
روزہ افطار کا صحیح وقت