حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 197: حضرت علی المرتضیٰؓ نے تہجد سے انکار کیا، رسول اللہﷺ کو دکھ پہنچایا، ایسا شخص مسلم ہے یا غیرمسلم؟ (بخاری)
جواب: اسے کہتے ہیں پرائے شگون کی خاطر اپنی ناک کٹوانا۔ اب سیدنا علیؓ کی فرضی برائیاں ہماری کتب سے نقل کی جا رہی ہیں تاکہ شیعوں کو مناظرہ میں غلبہ ہو حالانکہ ان کو ڈوب مرنا چاہیے تھا اور یہ دشمنِ سیدنا علی المرتضیٰؓ سائل روایت نقل کرنے میں اپنے باپ سے خیانت و غداری کرنے میں بھی نہیں چوکا۔ آخر یہ لفظ کسی عربی لفظ کا ترجمہ ہیں: خدا کی قسم میں ہرگز نماز نہیں پڑھوں گا مگر جو کچھ اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے۔ یہ بہتانِ محض ہے جو امام بخاریؒ کو بدنام کرنے کی نیت سے حضرت علی المرتضیٰؓ پر باندھا گیا۔
روایت کے الفاظ یہ ہیں: کہ امام زہری حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ سے وہ حضرت حسینؓ بن سیدنا علیؓ سے وہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب سے خبر دیتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ میرے اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا بنت النبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کیا تم نماز نہیں پڑھا کرتے؟ تو میں نے کہا: یا رسول اللہﷺ ہمارے نفوس خدا کے ہاتھ میں ہیں پس وہ جب اٹھانا چاہے تو ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ الخ
اس میں نہ نماز کے انکار کا ذکر ہے، نہ اس سے حضرت علیؓ کے غیر مسلم ہو جانے کا سوال ہے۔ مفہوم صرف یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے حقیقتِ واقعہ ذکر کی کہ جب خدا اٹھا دیتا ہے تو تہجد پڑھ لیتے ہیں، نہیں اٹھاتا تو نہیں پڑھتے۔ بجائے خاموشی یا معذرت کے حضورﷺ کے طبع سلیم پر یہ فوراً منطقی جواب گراں گزرا۔ تب آپﷺ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَىۡءٍ جَدَلًا پڑھتے ہوئے واپس ہوئے: کہ انسان سب سے بڑا دلیل باز ہے۔
یہ حدیث تو سلسلة الذہب اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی سند سے ہے۔ شیعہ کو مان لینی چاہیے تھی مگر شیعہ کے ہاں اہلِ سنت بہر صورت مجرم ہیں خواہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت کریں یا اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے حقائق بیان کریں۔ (اللّٰهُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُرُورِهِمْ)