مطاعن فاروقی
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 396: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وفاتِ رسولﷺ کا انکار کر کے دھمکی کیوں دی؟
جواب: وفات کے شدید غم اور صدمہ سے حواس بجا نہ رہے جیسے کبھی صدمہ کی خبر سننے سے بے ہوشی ہو جاتی ہے چونکہ اسی خبر سے بے قابو ہوئے تو سننے کی تاب نہ تھی لہٰذا دھمکی دی۔
سوال نمبر 397: اگر فرطِ غم کا نتیجہ تھا تو تکفین و تدفین سے غیر حاضری کیوں ہوئی؟
جواب: یہ ناپاک بہتان ہے بار ہا تردید ہو چکی ہے اور یہ حالت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جھڑکنے اور خطبہ دینے سے جاتی رہی یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب خلافِ واقعہ بات کہتے اور دھمکی دیتے تھے تو حضرت علی المرتضیٰؓ شیرِ خدا نے ان کو کیوں نہ روکا۔ اگر وہ بھی بے خود تھے تو سیدنا عمرؓ پر اعتراض نہ رہا۔ اگر حضرت عمرؓ کو کنٹرول نہ کر سکتے تھے اور کوئی بھی نہ کر رہا تھا۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے ہی آ کر کیا تو حضرت صدیقِ اکبرؓ کی بزرگی، بہادری اور تدبّر نے ان کو ہی خلافتِ عظمیٰ کا حق دار ترین بنا دیا۔
سوال نمبر 398: ازالۃ الخفاء میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ؟
جواب: اہلِ سنّت کے ہاں خلافت نبوت کی طرح عہدہ نہیں ہے کہ خود بھی ایمان لانا ضروری ہو بلکہ یہ تقویٰ اور ولایت کی طرح ہے۔ ولی و متقی اپنے آپ کو متقی اور ولی نہ جانے تو اچھا ہے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کمال تواضع، خدا خوفی اور کسرِ نفسی سے اپنے آپ کو کامل خلیفہ نہیں جانتے بلکہ بادشاہت کا فکر کھاتے ہیں تو یہ ان کے کمال کی دلیل ہے۔ جیسے شیعہ کی اصول کافی جلد 2 صفحہ 425 میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت حضورﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی ہمیں اپنے اوپر نفاق کا ڈر لگتا ہے حضور اقدسﷺ نے فرمایا: واقعی ایسا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا جی ہاں تو فرمایا:
اممنه لصریح الایمان
ترجمہ: یہ تو عین ایمان کی دلیل ہے۔
چور اور ڈاکو سے وہی ڈرتا ہے جس کے پاس دولت ہوتی ہے۔ مشتاق سائل تقویٰ کی تعریف میں خود لکھتا ہے: جس قدر خدا کی محبت و عظمت نگاہوں میں زیادہ ہو گی اتنا ہی اپنے افعال کی کوتاہیوں کا اندیشہ زیادہ ہو گا بس یہی تقویٰ ہے۔ (فروعِ دین: صفحہ، 55)
سوال نمبر 399: حضرت عمرؓ کو سب سے پہلے امیر المؤمنین کس نے کہا؟
جواب: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول اللہﷺ کہا جاتا تھا۔ اب مجھے خلیفہ خلیفہ رسول اللہﷺ کہا جائے تو لمبا ہو جائے گا۔ حضرت مغیرہؓ نے کہا آپؓ امیر ہیں اور ہم مؤمنین ہیں تو آپؓ امیر المؤمنین ہوئے۔
ریاض النضرہ صفحہ 279 کی دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عدی بن حاتم اور لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے عراق سے آ کر کہا کہ اے سیدنا عمرو بن العاصؓ، امیر المؤمنین سے ہمیں ملائیں۔ تو یہ لقب سب کو پسند آ گیا اور اس دن سے لکھا جانے لگا۔
سوال نمبر 400: روضۃ الاحباب میں ہے کہ آپؓ کو فاروق کا لقب اہلِ کتاب میں دیا۔ کیا زمانہ رسولِ مقبولﷺ یا دورِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ میں آپؓ کو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا؟
جواب: روضۃ الاحباب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اہلِ کتاب نے اپنی کتاب سے پڑھ کر بتایا ہو گا کہ حضرت عمرؓ کا لقب فاروق ہے کیونکہ تورات وغیرہ میں آپؓ کے فضائل بہت لکھے ہیں جبکہ قرآن شریف کی گواہی ہے: مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ چنانچہ کعب احبار (سابق یہود کے بڑے عالم) کہتے ہیں کہ وہ شام میں سیدنا عمرؓ سے ملے تو کہا ان کی کتابوں میں لکھا ہے۔ یہ ممالک جن کے باشندے بنی اسرائیل ہیں۔ ایک نیک آدمی کے ہاتھ پر فتح ہوں گے جو مومنوں پر مہربان ہو گا، کافروں پر سخت ہو گا اس کا باطن ظاہر کی طرح (پاک و صاف) ہو گا اس کی بات عمل کے مخالف نہ ہو گی۔ فیصلے میں اپنا بیگانہ اس کے ہاں برابر ہو گا۔ اس کے تابع دار رات کے عبادت گزار اور دن میں (کفار سے لڑ کر) شیر ہوں گے، آپس میں مہربان صلہ رحمی کرنے والے ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تُو سچ کہتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اللہ کی قسم جو میری بات سن رہا ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا سب تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں عزت، بزرگی، شرافت اور رحمت ہمارے نبی کریمﷺ کی بدولت عطا فرمائی۔ اللہ کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔ (ریاض النظرہ: جلد، 2 صفحہ، 8)
صالح بن کیسان کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ یہودیوں نے کہا ہم انبیاء علیہم السلام کی احادیث میں یہ پڑھتے ہیں کہ حجاز کے یہودیوں کو ایک شخص جلا وطن کرے گا جس کی صفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے والی صفات ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ نے ان کو جلا وطن کیا۔ زہری نے تخریج کی ہے۔ (ریاض النضرۃ: جلد، 2 صفحہ، 85)
لقب فاروق آپؓ کو رسول خداﷺ نے دیا ہے۔ (اہلِ کتاب نے تو اپنی کتابوں سے دیکھ کر اس کی تائید ہی کی ہے۔)
سیدنا ایوبؒ بن موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے حق کو سیدنا عمر فاروقؓ کے قلب و زبان پر رکھ دیا ہے اور وہ فاروق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے سے حق و باطل میں فرق کر دیا۔
سیدنا ابی عمر بن زکوانؒ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام فاروق کس نے رکھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 69)
اور عہدِ نبوت (و صدیق) میں بھی شیخین رضی اللہ عنہما کو القابِ خاصہ سے یاد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب رجال کشی صفحہ 20 سیدنا عمار بن یاسرؓ کے حالات میں ہے کہ جب حضورﷺ نے تین شخصوں کے مشتاقِ جنت ہونے کا ذکر فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا، یا ابابکر انت الصدیق و انت ثانی اثنین اذھما فی الغار ہمیں نبی کریمﷺ سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ تین کون ہیں؟ پھر سیدنا عمر فاروقؓ سے لوگوں نے کہا: انت الفاروق الذی ینطق الملک علی لسانک آپ وہ فاروق ہیں کہ فرشتہ آپؓ کی زبان سے بولتا ہے۔ ان تین شخصوں کا نام پوچھ کر بتائیں۔ الخ
سوال نمبر 401: مشکوٰۃ میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تورات حضور اکرمﷺ کے سامنے پڑھی تو آپﷺ کو ناگوار گزرا فرمایا: لو کان موسیٰ حیّا لما وسعه الا اتباعی (اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری ہی پیروی کرتے۔)
جواب: یہ چیز قابلِ طعن تب ہوتی کہ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہوتا پہلے صریح منع تو نہ تھا۔ اتنی بات مشہور تھی کہ ان کی کتب محرف ہیں۔ نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو، سیدنا عمر فاروقؓ علم کے انتہائی شوقین تھے چاہا کہ تورات پڑھ کر حضورﷺ سے صحیح باتوں کی تصدیق کرائیں تو علم میں اضافہ ہو جیسے قرآن بھی اپنا وصف مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِىۡۤ (پہلی کتابوں کو سچا بتانے والا) بیان کرتا ہے مگر ان غیر نصابی کتاب میں لگنے سے اپنی نصابی کتاب قرآن کے حقوق پر زد پڑ سکتی تھی اس لیے آپﷺ نے ٹوک دیا اور استاد کو یہ حق ہے کہ غیر نصابی کتب سے طلبہ کو منع کرے خواہ وہ کتنے اچھے جذبے سے مطالعہ کریں۔
سوال نمبر 402: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خدمتِ رسولﷺ میں قلم دوات کیوں پیش نہ کرنے دیا؟
جواب: کسی کو منع نہیں کیا صرف حضورﷺ کے آرام کی خاطر مشورہ دیا کہ آپﷺ کو تکلیف نہ دو ہمیں کتاب اللہ کافی ہے۔ بعض علماء اس طلبِ نبویﷺ کو امتحانی سوال بتاتے ہیں حضرت عمر فاروقؓ نے ٹھیک جواب دیا اور حضور اکرمﷺ نے نہ لکھوا کر عملی تائید کی۔
سوال نمبر 403: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کے متعلق ہذیان والا جملہ کیوں کہا؟
جواب: بکواسِ محض ہے یہ استفہامیہ جملہ دوسروں نے کہا: اھجر رسول اللہ کیا حضورﷺ ہم سے رخصت ہو چلے ہیں۔ آپ سے پوچھ لو۔ تفصیل تحفہ امامیہ سوال 9 میں دیکھیں۔ لفظ ہجر ہجرت اور جدائی سے بنا ہے اسے بکواس بنانا شیعوں کا عمل ہے۔