Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی کا جنازہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

کتبِ شیعہ میں لکھا ہے کہ اول تو سنی کا جنازہ نہ پڑھا جائے اگر بضرورت پڑھے تو بجائے دعا کے میت پر بددعا کرے چنانچہ تحفۃ العلوم: جلد 1، صفحہ 138 میں ہے اور اگر میت  (یہ عبارت پرانے مطبع کی تحفۃ العلوم ہے جو مصنف کے پاس موجود ہے جدید طبع میں لوگوں نے کچھ ترمیم کر دی ہے) سنی خلاف مذہب ہو 

(پرانے مطبع کی تحفۃ العلوم میں جو ہمارے پاس موجود ہے اس میں سنی میت یا خلاف مذہب ہے اگر میت شیعہ نہ ہو اور دشمن اہلِ بیتؓ ہو الخ۔ صفحہ 215 مطلب دونوں عبارتوں کا ایک ہے کیونکہ سنیوں کو جو شیعہ نہیں یہ لوگ معاذ اللہ دشمن اہلِ بیتؓ سمجھتے ہیں۔ یہ نوٹ لکھنے کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ پرانے مطبع کی کتاب نہ ملنے کی وجہ سے یہ لوگ دھوکہ دے سکتے ہیں کہ تحفۃ العلوم: صفحہ 138 میں یہ عبارت کہاں لکھی ہے؟ شیعہ کے مشہور مناظر مرزا احمد علی امرتسری نے جس کو علامہ حائری لاہوری کا نفسِ ناطقہ کہا جا سکتا ہے بمقدمہ مسجد پنڈدار نخان عدالت دیوان سیتا رام صاحب سینیئر جج جہلم میں اپنے حلفی بیان میں لکھا کہ جو شخص حضرت علیؓ کو گالیاں دے وہ بھی مسلمان ہے) 

اور بضرورت نماز پڑھنا پڑے تو بعد چوتھی تکبیر کے کہے: 

اللهم اخز عبدك فی عبادك وبلادك اللهم اصله حر ناريك اللهم اذقه اشد عذابك۔

ترجمہ: اے خدا اس بندے کی میت کو اپنے بندوں میں اور اپنے شہروں میں ذلیل و رسوا کر۔ اے خدا اس کو نار جہنم سے جلا۔ اے خدا اس کو سخت ترین عذاب دے۔ 

استغفر الله ربی من كل ذنب واتوب اليه۔

سنیو! جانتے ہو یہ لوگ تمہارے جنازے میں شامل ہو کر میتوں سے کیا سلوک کرتے ہیں تم اس بات کو گوارا کر سکتے ہو کہ ایک شخص تمہارے عزیز یا بزرگ کی میت کے جنازے پر کھڑا ہو کر اس کے لیے بددعائیں کرے کہ خدایا اسے جہنم میں داخل کر اور سخت سے سخت عذاب میں مبتلا کر۔

نہ آنے دیجو انہیں لاش پر خدا کے لیے 

نماز پڑھنے جو آئیں گے بددعا کے لیے

پھر عترتِ رسولﷺ میں سے آپﷺ کی تین بیٹیوں امِ کلثومؓ، رقیہؓ، زینبؓ کو اولادِ رسولﷺ سے ہی خارج کر دیتے ہیں یہ کس قدر توہین و ہتک عترتِ رسولﷺ ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا حسنین کریمینؓ سے اگرچہ بظاہر محبت کا ادعا ہے لیکن ان کی توہین و ہتک کا بھی کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ بوقتِ ضرورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی گلوچ دے لینا جائز کیا گیا ہے۔ چنانچہ اصولِ کافی: صفحہ 484 میں ہے 

ان علی عليه السلام قال علی المنبر كوفه يا ايها الناس ستدعون الى شیء فسبونی۔

ترجمہ: حضرت علیؓ نے کوفہ میں منبر پر بیٹھ کر فرمایا اے لوگو تمہیں میرے سب و شتم کی طرف بلایا جائے گا پس تم مجھے گالی گلوچ دے لینا۔

واہ بہت خوش! ان تقیہ بازوں کو خدا ہدایت دے جھوٹ میں بھی عبادت ہے۔

کیا جو جھوٹ کا شکوہ تو یہ جواب ملا 

تقیہ ہم نے کیا تھا ہمیں ثواب ملا 

پھر حضرت علی المرتضیٰؓ کی شان میں کس قدر افراط و تفریط سے کام لے کر ان کی ہجو ملیح ہتک صریح کرتے ہیں۔