سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 11

یَا ابْنَ آدَمَ عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا، وَ ارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا، وَ أَحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَ صَاحِبِ النَّاسَ بِمِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا، إِنَّہُ کَانَ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ قَوْمٌ یَجْمَعُوْنَ کَثِیْرًا وَ یَبْنُوْنَ مَشِیْدًا وَ یَأْمُلُوْنَ بَعِیْدًا، اَصْبَحَ جَمْعُہُمْ بُوْرًا وَ عَمَلُہُمْ غَرُوْرًا وَ مَسَاکِنُہُمْ قُبُوْرًا، یَاابْنِ آدَمَ إِنَّکَ لَمْ تَزَلْ فِیْ ہَدْمِ عُمُرِکَ مَنْذُ سَقَطْتَّ مِنْ بَطْنِ أُمِّکَ، فَجُدَّ بِمَا فِیْ یَدِکَ لِمَا بَیْنَ یَدَیْکَ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یَتَزَوَّدُ وَ الْکَافِرُ یَتَمَتَّعُ وَ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: 

(نور الأبصار للشبلنجی: صفحہ 121، الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’اے ابن آدم! اللہ کی حرام کردہ چیزو ں سے بچ جا، عابد ہو جائے گا، اللہ نے تیرے لیے جو کچھ مقدر کر دیا ہے اس پر راضی ہو جا غنی ہو جائے گا، پڑوسیوں کے لیے اچھا پڑوسی بن جا مسلمان ہو جائے گا، لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں تو عادل بن جاؤ گے، تم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو زیادہ سے زیادہ مال جمع کرتے تھے، مضبوط و پختہ عمارات بناتے تھے، ان کی آرزوئیں دراز ہوتی تھیں، ان کا جمع کردہ مال تباہ ہوگیا، ان کے اعمال برباد ہوگئے، ان کی عمارات قبروں میں تبدیل ہوگئیں، اے ابن آدم! تیرے پیدا ہونے کے بعد ہی سے تیری عمر گھٹ رہی ہے، اس لیے جو کچھ تیرے پاس ہے آخرت کے لیے خرچ کر، بلاشبہ مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى)(توشۂ آخرت جمع کرو سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے)‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خطبے کی مختصر شرح

ا: یَا ابْنَ آدَمَ عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا۔

(نور الابصار: صفحہ 121)

’’اے ابن آدم! اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ، عابد ہوجائے گا۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے اس قول میں لوگوں کو حرام چیزوں سے بچنے کی تلقین کر رہے ہیں، اور حرام چیزوں سے بچنے والے کو وہ عابد سمجھتے ہیں، محرمات کا ارتکاب انسان کو غافل اور اللہ کے غیظ و غضب اور سزا کا مستحق بنا دیتا ہے، اسی طرح محرمات کا ارتکاب اور اطاعت الہٰی سے غفلت دونوں دنیا و آخرت کے بہت سارے نقصانات و مفاسد کے دو سبب ہیں۔ ابن القیم رحمۃاللہ کا قول ہے:

’’قلت توفیق، فسادِ رائے، حق کا عدم ظہور، دل کا فساد، گمنامی، وقت اور چہرے کی ترو تازگی کا ضیاع، رب اور بندے کے مابین وحشت، دعاؤں کی عدم قبولیت، دل کی سختی، رزق و عمر کی بے برکتی، علم سے محرومی، ذلت، منجانب عدو رسوائی، سینے کی تنگی، دل اور وقت کو خراب کرنے والے برے ساتھیوں سے پالا پڑنا، طویل ہموم و غموم، زندگی کی تنگی اور پراگندہ حالی یہ تمام چیزیں ذکر الہٰی سے غفلت اور معصیت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں، جس طرح کھیتی کا وجود پانی سے اور جلنے کا وجود آگ سے ہے، نیز ان مذکورہ چیزوں کی متضاد چیزیں اطاعت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔‘‘

(الفوائد: صفحہ 32)

معلوم ہوا کہ محرمات سے دوری اطاعتوں کی راہ ہے اور اسی سے مسلمان عابد ہوجاتا ہے، اسی بنا پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا ’’عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا‘‘ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ جا، عابد ہو جائے گا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: صفحہ 121)

ب: و َارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’اللہ نے تیرے لیے جو کچھ مقرر کر دیا ہے اس پر راضی ہوجا، غنی ہو جائے گا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ منجانب اللہ بندے کے لیے مقدر چیزوں پر راضی ہونے اور اس کے استغناء کا باعث ہونے سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں، اللہ سے رضا مندی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کے قضا و قدر کو ناپسند نہ کرے۔

(المفردات للراغب: صفحہ 197)

اس کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ الہٰی قضا و قدر کے خیر و شر پر دل خوش اور نفس مطمئن رہے، قضا و قدر پر ایمان، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اس قسم کی رضا مندی ایمانیات کا اعلیٰ درجہ ہے، اس لیے کہ اس نے دینی مدارج کی اصل کو تھام لیا ہے، یہی ان کی روح و حیات ہے، یہی رضا مندی توکل اور اس کی حقیقت، یقین، محبت اور شکر کی روح، نیز سچی محبت اور شکر کی دلیل ہے،

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 218)

اسی سے اللہ اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق کا دروازہ کھلتا ہے، بلاشبہ حسنِ خلق اللہ کے قضا و قدر پر رضامندی اور سوء خلق عدم رضا مندی کا نتیجہ ہیں، بلکہ بعض علماء نے رضا کی تعریف اللہ کے ساتھ حسنِ خلق سے کی ہے، نیز تعریف کی علت بیان کرتے ہوئے کہا ہے:

’’ایسا اس لیے کہ وہ رضا مندی بندے پر لازم قرار دیتی ہے کہ اللہ کی بادشاہت میں اعتراض نہ کرے، نیز ایسی فضول گفتگو سے بچے جو حسنِ خلق کے منافی ہو، چنانچہ وہ اللہ کے قضا و قدر کو کوئی مذموم نام نہیں دیتا، اس لیے کہ وہ رضا کے منافی ہے۔‘‘

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 220)

بنا بریں قرآن نے اس رضا پر کافی توجہ دیتے ہوئے اس کے بارے میں کئی آیتوں میں گفتگو کی ہے۔ چنانچہ اللہ کا فرمان ہے:

 رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ۞ (سورۃ التوبة آیت 100)

ترجمہ: ’’اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔‘‘

صفحہ 2 از 11