سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے اور محمد بن ابی حذیفہ مصر کی گورنری پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے تھے، کیوں کہ سیدنا عثمان غنیؓ نے انھیں وہاں کا گورنر نہیں مقرر کیا تھا، سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑے وقت کے لیے مصر کا گورنر مقرر کیا، اس لیے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر مصر کے نواحی علاقے میں بھیجا جس نے محمد بن ابی حذیفہ کو پکڑ کر قید کر دیا پھر قتل کر دیا۔

(ولاۃ مصر للکندی: صفحہ 42، 43، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 9)

اس بات کا بھی تذکرہ آتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی انھیں مصر کا گورنر نہیں مقرر کیا تھا، بلکہ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا تھا، جب قتل کردیے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44، النجوم الزاھرۃ: جلد 1 صفحہ 94)

 چنانچہ ان سے کہا: مصر چلے جاؤ، میں نے تمھیں وہاں کا گورنر بنا دیا ہے، اپنے معتمدین اور جنھیں تم اپنے ساتھ پسند کرو انھیں اکٹھا کر کے لے جاؤ، جب تم وہاں لشکر لے کر پہنچو گے تو یہ تمھارے دشمن کو زیادہ مرعوب کرنے والی اور تمھارے حاکم کی زیادہ عزت افزائی والی بات ہوگی، جب تم اللہ کی مشیت سے وہاں پہنچ جاؤ تو بھلے لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو، اور غلط لوگوں پر سختی کرو، عام اور خاص لوگوں کے ساتھ نرمی برتو، بلاشبہ نرمی باعث برکت ہوتی ہے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 354)

بہت سارے معاملات میں قیس رضی اللہ عنہ کی ذہانت اور حسن تدبیر کا ثبوت ملتا ہے، جب وہ مصر جا رہے تھے تو وہاں ایک گروہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے ناراض تھا، اور دوسرا گروہ ان کے قتل میں شریک تھا، مصر میں داخل ہونے سے پہلے سعد رضی اللہ عنہ سے چند گھڑ سواروں کی ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکست خوردہ فوج کے سپاہی ہیں، ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جن کے یہاں ہم پناہ لیں، پھر ان کے تعاون سے اللہ کے لیے بدلہ لیں، انھوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ آپ نے کہا: قیس بن سعد، انھوں نے کہا: جاؤ، چنانچہ آپ چل پڑے اور مصر میں داخل ہوگئے۔

قیس رضی اللہ عنہ اپنی اس تدبیر سے مصر میں داخل ہو سکے، پھر اس کے بعد اعلان کیا کہ وہ گورنر ہیں، اگر آپ نے ان گھڑ سواروں کو بتا دیا ہوتا کہ آپ گورنر ہیں تو وہ حضرت قیسؓ کو مصر میں داخل ہی نہ ہونے دیتے، جیسا کہ ان کے ساتھ پیش آیا جن کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شام کا گورنر بنا کر بھیجا تھا، شام کی فوجوں کو جب معلوم ہوگیا کہ انھیں گورنر بناکر بھیجا گیا ہے تو شام میں داخل ہونے سے روک دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 10، نقلا عن نھایۃ الأرب فی تاریخ العرب للنویری)

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے فسطاط پہنچ کر منبر پر اہل مصر کو خطاب کیا، انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سنایا اور ان کے لیے بیعت کا مطالبہ کیا۔

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 39)

اس موقع پر اہل مصر دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کر لی، دوسرے گروہ نے بیعت نہیں کی اور الگ ہو گیا، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے دونوں گروہوں کے ساتھ بڑی حکمت سے کام لیا، بیعت نہ کرنے والوں کو مجبور نہیں کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44)

 بلکہ ان کو اپنی حالت پر نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ ان کے پاس عطیات و تحائف بھیجے، ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان کے ساتھ اکرام و احسان کا سلوک کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44)

اس اچھے سلوک نے ان کے ٹکراؤ کو ٹال دیا، اس سے مصر کے حالات کو پُرسکون کرنے میں آپ کو مدد ملی، آپ نے وہاں کے امور کو منظم کیا، مختلف شعبوں کے ذمہ داران کو ادھر ادھر بھیجا، ٹیکس کے امور کو مرتب کیا، پولیس افسران کی تعیین کی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

اس طرح وہ مصر کی گورنری کو منظم کرکے تمام گروہوں کو راضی کر سکے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

اب شام میں سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی سیاسی گرفت اور فوجی اہمیت کا احساس کرنے لگے، چوں کہ مصر شام سے قریب تھا، اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے وہاں کے امور کو منظم و مرتب کر لیا تھا، اور ان کی دوراندیشی و معاملہ فہمی مشہور تھی، ان باتوں کو دیکھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خوف لاحق ہوگیا کہ وہ مصر سے نکل کر ان کے خلاف فوجی کارروائیاں نہ کریں، اس بنا پر مصر میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت شروع کر دی، انھیں دھمکی دیتے، ساتھ ہی ساتھ اپنے ساتھ ہو جانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ان خطوط کا بڑی ہوشیاری سے جواب دیتے، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے رجحان اور یہ کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اس کا پتہ نہ چل سکا، جب کہ ان کے مابین متعدد خطوط آئے گئے۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 355، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

کتب تاریخ میں ابومخنف کی ذکر کردہ سیدنا معاویہ و قیس رضی اللہ عنہما کے مابین خطوط سے متعلق شیعی روایتیں عام لوگوں میں پھیل گئیں، جب کہ وہ سراسر غلط اور باطل ہیں۔ ان کو تنہا ابومخنف نے ذکر کیا ہے جسے اصحاب جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، نیز ان روایتوں کی متن میں بہت ساری عجیب وغریب باتیں ہیں۔ ان میں سے نمایاں باتیں درج ذیل ہیں:

أ۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کے ساتھ مصر والوں کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو خط بھیجا تھا اس میں یہ بات مذکور ہے:

’’پھر ان دونوں(ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کے بعد وہ (عثمان رضی اللہ عنہ) خلیفہ مقرر کیے گئے، امت کو ان کی بعض باتوں پر اعتراض ہوا، پھر لوگ اس بات سے ناراض ہو گئے اور اس منکر بات کا خاتمہ کر دیا۔‘‘

صفحہ 1 از 4