سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے باغی امت کے اچھے لوگ تھے، اور انھی لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے اس منکر بات کا خاتمہ کر دیا، جب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس اعتراض سے بالکل بری ہیں اور یہ یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین اوباش لوگ تھے اور آپ کا قتل سراسر ظلم اور جرم تھا، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اقوال ان باتوں پر دلالت کرتے ہیں، ان اقوال میں سے بعض درج ذیل ہیں:

ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کبھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرتے ہوئے نہیں سنا۔

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: اے اللہ! میں تیرے حضور عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، قتل کے دن میں حواس باختہ ہو گیا تھا، میں اپنے آپ کو نہیں پہچان پا رہا تھا، لوگ میرے پاس بیعت کرنے آئے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں اللہ سے شرمندہ ہوں کہ ایسے لوگوں سے بیعت لوں جنھوں نے ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

أَلَا أَسْتَحْیِیْ مِمَّنْ تَسْتَحْیِیْ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ۔

’’کیا میں اس شخص سے شرم نہ کروں جن سے فرشتے شرم کرتے ہیں۔‘‘

میں اللہ سے شرمندہ ہوں کہ میں بیعت لوں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مقتول پڑے ہیں، اب تک ان کی تدفین نہیں ہوئی ہے، چنانچہ وہ سب لوٹ گئے، جب تدفین ہو گئی تو پھر آئے اور بیعت لینے کا مطالبہ کرنے لگے، میں نے کہا: اے اللہ! جو میں کرنے جا رہا ہوں اس سے میں ڈر رہا ہوں، پھر ہمت بندھی اور بیعت لی، جب لوگوں نے امیر المؤمنین کہہ کر پکارا تو ایسا لگاکہ دل پھٹ گیا ہو اور خون کے آنسو جاری ہو گئے ہوں۔

المستدرک: جلد 2 صفحہ 355)

آپ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے بھیجا تھا، اس سلسلے میں آپ کے اقوال بہت سارے ہیں۔

(مرویات أبی مخنف: دیکھیے یحیی الیحیی: صفحہ 211)

 میں نے انھیں اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ أمیر المؤمنین عثمان بن عفان‘‘

(عثمان بن عفان: للصلابی: صفحہ 407، 409)

میں جمع کیا ہے۔

ب: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا قول:

أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا بَایَعْنَا خَیْرَ مَا نَعْلَمُ بَعْدَ نَبِیِّنَا صلي الله عليه وسلم ۔

’’لوگو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل شخص سے بیعت کر رہے ہیں۔‘‘

یہ قول سراسر مردود و مرفوض ہے، اس لیے کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ اور بقیہ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ اس کی صراحت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کی ہے، اس میں اس زمانے کے کسی صحابی یا غیرصحابی کو شک نہیں تھا، اس لیے اس قول کی نسبت قیس بن سعد رضی اللہ عنہما یا کسی دوسرے صحابی کی جانب صحیح نہیں ہے، یہ قول صرف بعد کے شیعوں کے یہاں مشہور ہوا ہے۔ 

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 211)

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

’’متقدم شیعہ سب کے سب سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو افضل قرار دینے پر متفق ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 111)

سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تفضیل کی بہت ساری دلیلیں ہیں، انھی میں سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جس میں کہتے ہیں:

کُنَّا نُخَیِّرُ بَیْنَ النَّاسِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صلي الله عليه وسلم فَنُخَیِّرُ أَبَابَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3697)

’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کے مابین موازنہ کرتے تھے تو ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو افضل قرار دیتے تھے۔‘‘

اس سلسلے کی حدیثیں بکثرت اور مشہور و معروف ہیں۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 212)

صحیح روایتوں کے مطابق حقیقت واقعہ یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو انھیں سونپ دیں اور امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے اس کو اہمیت نہیں دی۔

ج: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط اور اس میں ان کا اس جانب اشارہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں فریق تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایسا اشارہ درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس سلسلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی برأت (جیسا کہ گزر چکا ہے) بالکل واضح تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس سے ناواقف نہیں تھے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ان کے لیے اسے ثابت کرتے ہیں، محمد بن سیرین رحمۃاللہ (جو کبار تابعین میں سے تھے اور انھیں وہ زمانہ ملا تھا) کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے، اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو ان کے قتل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو متہم کرتا ہو۔

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 212، تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

نیز وہی کہتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ہوا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا، انھی میں عبداللہ بن عمر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی گردن میں تلوار لٹکائے موجود تھے، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ وہ لڑائی نہ کریں۔

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 350)

ابن ابی شیبہ نے صحیح سند سے محمد بن حنفیہ کی روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: میدان، پہاڑ، خشکی اور تری ہر جگہ اللہ تعالیٰ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ملعون قرار دے۔

(المصنف: جلد 15، صفحہ 268)

اس معنیٰ کے صحیح نصوص بہت سارے ہیں 

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

 جو بالتاکید ثابت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی مشہور تھی۔

(مرویات أبی مخنف: فی تاریخ الطبری: صفحہ 214)

صفحہ 2 از 4