سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

د: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں انصار کو متہم کرنا۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اتہام درست نہیں ہے اس لیے کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ دفاع کرنے والے انصار تھے، چنانچہ ابن سعدؒ نے صحیح سند سے نقل کیا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جب کہ وہ محصور تھے آئے اور کہا: دروازے پر موجود انصار کہہ رہے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم دوبارہ انصار اللہ بننے کے لیے تیار ہیں، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جواباً آپ نے فرمایا: رہا لڑائی کا معاملہ تو لڑائی مت کرو۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 70، اس کی سند صحیح ہے۔)

ھ: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک جھوٹا خط تیار کرنا:

یہ ایسا جھوٹ ہے جس کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صادر ہونا غیرمعقول ہے، اس لیے کہ عرب جھوٹ کو سب سے قبیح صفت سمجھتے تھے جس سے شریف لوگ بہت دور رہا کرتے تھے، امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا قصہ جب کہ وہ مشرک تھے نقل کیا ہے کہ جب ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا: اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ جھوٹ کو نقل کر دیں گے تو آپ کے بارے میں جھوٹ بول دیتا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7)

عربوں کے نزدیک جھوٹ ایک قبیح صفت تھی، اور مسلمانوں کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ قبیح صفت ہے۔

کوئی کہنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک چال تھی، اور جنگ چال ہی کا نام ہے، اس لیے کہ چال کے معنیٰ جھوٹ نہیں ہیں جیسا کہ کلام عرب میں معلوم ہے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذہانت ایسا کرنے میں مانع تھی۔

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 214)

و: اس تسلسل اور باریکی کے ساتھ سیدنا علی، معاویہ اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہم کے مابین بہت سارے خطوط کی روایت قاری کو شک میں مبتلا کر دیتی ہے اس لیے کہ ان خطوط سے آگاہی رکھنے والے اور ان کو نقل کرنے والے مجہول ہیں۔

ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ کہتے ہیں: امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر پر قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی گورنری متفق علیہ ہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 201، فتوح مصر: صفحہ 274، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 12)

قیس رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی لکھنے والوں نے ان تفصیلات کو ذکر نہیں کیا ہے

(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 52، تاریخ بغداد: جلد 1 صفحہ 177، سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 102)

جنھیں ابومخنف نے اپنی روایات میں ذکر کیا ہے، یہاں تک کہ مصر کے معتبر مؤرخوں نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ 

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 97، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 251)

ابن الاثیرؒ، ابن کثیرؒ، ابن خلدونؒ اور ابن تغری بردیؒ نے ابومخنف کی روایت کو طبری سے حذف و اختصار کے بعد نقل کیا ہے۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 210)

کندی نے عبدالکریم حارث سے بھی روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قیس رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ بھاری لگنے لگا تو مدینہ میں بنی امیہ کے بعض لوگوں کو لکھا: اللہ تعالیٰ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے اور اسے راز میں رکھنا، مجھے خوف ہے کہ اگر ان کے اور ہمارے موافقین کے مابین جو تعلقات ہیں ان کی خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچ گئی تو علی رضی اللہ عنہ انھیں معزول کردیں گے، چنانچہ یہ خبر جب علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو ان کے ساتھ موجود اہل عراق و اہل مدینہ کے سرداروں نے کہا: قیس(رضی اللہ عنہ) بدل چکے ہیں(یعنی اپنی وفاداری بدل لی ہے) جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تمھارا ناس ہو، انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، اس لیے مجھ سے کچھ نہ کہو، ان لوگوں نے کہا: آپ ضرور انھیں معزول کریں بلاشبہ وہ بدل چکے ہیں، وہ اس پر مصر رہے تاآنکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے آپ کی قربت کی ضرورت ہے، اس لیے کسی کو اپنا نائب بنا کر چلے آؤ۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 45، 46، اس میں مدائنی ہیں جو صدوق ہیں، بقیہ راوی ثقہ ہیں، مگر یہ روایت مرسل ہے۔)

ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ اپنی کتاب ’’مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری‘‘ میں اس روایت کو راجح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:

  • یہ ایک ثقہ مصری کی روایت ہے جو اپنے ملک کو دوسرے سے زیادہ جانتا ہے۔
  • اس کو ایک مصری مؤرخ نے نقل کیا ہے۔
  •  یہ غرابت سے خالی ہے۔
  • اس کا متن ان لوگوں کی سیرت سے میل کھاتا ہے۔
  •  اس روایت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیس رضی اللہ عنہ کو معزول نہیں کر رہے تھے، تاآنکہ لوگوں نے ان سے اصرار کے ساتھ مطالبہ کیا، پھر انھیں اپنے پاس باقی رکھا، اس طرح ایک کامیاب قائد پریشانیوں کے وقت ذہین قیادتوں کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 210)

بعض لوگوں نے علی اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کے تعلقات کو خراب کرنا چاہا تاکہ وہ انھیں معزول کر دیں، آخر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض مشیروں نے ان سے قیس رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کا مطالبہ کر دیا، اور ان سے متعلق پھیلائی گئی افواہوں کی تصدیق کرتے ہوئے معزول کرنے پر اصرار کیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا: ’’مجھے تمھاری کی قربت کی ضرورت ہے، تم کسی کو نائب بنا کر چلے آؤ۔‘‘

(ولاۃ مصر: صفحہ 45، 46)

یہ خط مصر کی گورنری سے قیس رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کے قائم مقام تھا، اکثر اقوال کے مطابق ان کی جگہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اشتر نخعی کو مقرر کیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 229، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 12)

مصر جانے سے پہلے اشتر نخعی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی، اہل مصر کی باتوں اور خبروں سے آگاہ کیا، اور فرمایا: وہاں کے لیے تم ہی مناسب ہو، اگر میں تمھیں وصیت نہ بھی کروں تو میں تمھاری رائے پر اکتفا کر سکتا ہوں، اپنے پیش آمدہ مسائل میں اللہ سے مدد طلب کرو، سختی اور نرمی دونوں استعمال کرو، جب تک نرمی مؤثر ہو نرمی کرو، اور جب سختی کے بغیر کام نہ چلے تو سختی کرو۔

صفحہ 3 از 4