سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 103)

اشتر اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مصر کے لیے روانہ ہوا، بحرقلزم (بحر احمر) کے قریب پہنچا تو مصر میں داخل ہونے سے پہلے انتقال کر گیا۔ دوسری روایت کے مطابق اسے زہر ملایا ہوا شہد کا شربت پلایا گیا جس کی وجہ سے وہ وفات پا گیا، خراج دینے والے کچھ لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی ہے کہ انھی کے اکسانے پر ان لوگوں نے زہر دیا تھا۔

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 104، سیر أعلان النبلاء: جلد 4 صفحہ 34)

اشتر کو زہر دے کر قتل کرنے سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگائی گئی تہمت کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، ابن کثیر (البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 303)

 و ابن خلدون(تاریخ ابن خلدون: جلد 4 صفحہ 112)

رحمۃ

اللہ علیہ نے اس کا انکار کیا ہے، ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ (مروایات أبی مخنف: صفحہ 224)

بھی انھی کی رائے سے متفق ہیں، میرا بھی یہی رجحان ہے۔ اشتر مصر میں اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنے سے پہلے انتقال کر گیا، پھر بھی تاریخی مصادر اس کا تذکرہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر کے ایک گورنر کی حیثیت سے کرتے ہیں، اس کے بعد محمد بن ابوبکر مصر کے گورنر بنائے گئے، 

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 106)

وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر میں رہ چکے تھے، روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے چلے جانے سے پہلے ہی وہ مصر پہنچ گئے تھے، دونوں کے مابین گفتگو ہوئی جس میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے محمد کو بہت ساری نصیحتیں کیں، بالخصوص ان لوگوں کے بارے میں جو قتلِ عثمان سے ناراض تھے، اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت نہیں کی تھی، قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالقاسم! تم امیر المؤمنین کی جانب سے آئے ہو، مجھے ان کا معزول کر دینا تمھاری اور ان کی خیرخواہی سے مانع نہیں، مجھے تمھارے اس معاملے کی اچھی طرح واقفیت ہے، انھیں اور ان کے ساتھیوں کو (یعنی جن لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کے لیے بیعت نہیں کی ہے) ان کی حالت پر چھوڑ دو، اگر تمھارے پاس آئیں تو انھیں قبول کرو، اگر نہ آئیں تو ان کے پیچھے نہ پڑو، لوگوں کو حسبِ مراتب عزت دو، اگر تم مریضوں کی بیمار پرسی اور جنازوں میں شرکت کرسکو تو کرو، اس میں تمھارا کوئی نقصان نہیں۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 22 صفحہ 181)

پھر قیس رضی اللہ عنہ مدینہ لوٹ آئے، پھر کوفہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، ان کے ساتھ معرکۂ صفین میں شریک ہوئے، وہی صفین کے دن ان اشعار کے کہنے والے ہیں:

ہذا اللواء الذی کنا نحفّ بہ مع النبی و جبریل لنا مدد

’’یہ علمِ جہاد جسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھیرے میں لیے رہتے تھے اور جبریل علیہ السلام ہماری مدد کرتے تھے۔‘‘

ما ضر من کانت الأنصار عیبتہ أن لا یکون لہ من غیرہم أحد

’’جس کے راز دار انصار ہوں، اس کے لیے یہ چیز مضر نہیں کہ ان کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا نہ ہو۔‘‘

قوم إذا حاربوا طالت أکفہم بالمشرفیۃ حتی یفتح البلد

’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ جنگ میں جب تلوار اٹھاتے ہیں تو شہروں کو فتح کر لیتے ہیں۔‘‘

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک انھی کے ساتھ رہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گئے، ان کے وفد کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی تو قیس رضی اللہ عنہ بھی ان کی بیعت میں داخل ہو گئے،

(أسد الغابۃ: جلد 4 صفحہ 452)

اور مدینہ لوٹ کر عبادت الہٰی میں مشغول ہو گئے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1290)


صفحہ 4 از 4