Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قیس رضی اللہ عنہ کا قول

  علی محمد الصلابی

إِنَّالَا نَعُوْدُ فِیْ شَیْئٍ أَعْطَیْنَاہُ۔

’’جو ہم دے دیتے ہیں واپس نہیں لیتے ہیں۔ ‘‘

موسیٰ بن ابوعیسیٰ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے تیس ہزار قرض لیا، جب واپس کرنے لگا تو نہیں لیا اور کہا:

إِنَّا لَا نَعُوْدُ فِیْ شَیْئٍ أَعْطَیْنَاہُ۔ 

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1291)

’’جو ہم دے دیتے ہیں واپس نہیں لیتے ہیں۔‘‘

قیس رضی اللہ عنہ کا قول:

لَقَدْ سَأَلْتَ فَأَحْسَنْتَ۔

’’تو نے طلب کر کے اچھا کیا۔‘‘

ایک بوڑھی عورت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئی جسے آپ پہچانتے تھے، چنانچہ اس سے خیریت دریافت کی: کہا تم کیسی ہو؟ کہا: اللہ کا شکر ہے، میرے گھر میں ایک بھی چوہیا نہیں جو ادھر ادھر کودے، آپ نے کہا: تم نے طلب کر کے اچھا کیا، میں یقیناً تمھارے گھر کو چوہوں سے بھر دوں گا، چنانچہ آپ نے بہت سارا آٹا، تیل اور ضرورت کی دوسری چیزیں دینے کا حکم دیا اور وہ چلی گئی۔

(تاریخ دمشق: جلد 52 صفحہ 286)

یہ واقعہ ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مشہور قصہ ہے اور صحیح ہے۔

 (الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1292)