قیس رضی اللہ عنہ کا قول
علی محمد الصلابی’’تمھاری رائے میں عیادت کرنے والوں کی تعداد کم کیوں ہے۔‘‘
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے کوئی جائیداد نوے ہزار میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیچ دی، اہل مدینہ میں آپ نے منادی کرا دی: جسے قرض چاہیے وہ سعد کے گھر پہنچے، چنانچہ چالیس پچاس ہزار قرض دے دیا اور باقی لے لیا، ہر قرض لینے والے سے دستاویز لکھوائی، جب آپ بیمار ہوئے تو عیادت کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہتی تھی، آپ نے اپنی بیوی قریبہ (جو ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں) سے کہا: اے قریبہ! تمھاری رائے میں عیادت کرنے والوں کی تعداد کم کیوں ہے؟ جواب دیا: آپ کے قرض کی وجہ سے، چنانچہ آپ نے ہر قرض دار کے پاس اس کی دستاویز بھیج دی۔
(تاریخ دمشق: جلد 52 صفحہ 284)
دوسری روایت کے مطابق آپ بیمار ہوئے، عیادت کرنے والے نہیں آ رہے تھے، آپ کو بتایا گیا، لوگ آپ کے قرض کے باعث شرما رہے ہیں، چنانچہ آپ نے منادی کرا دی: جس پر بھی قیس کا قرض تھا وہ معاف ہے۔ یہ سن کر اس قدر لوگ آنے لگے کہ وہ سیڑھی منہدم ہوگئی، جس پر چڑھ کر لوگ آپ کے پاس پہنچتے تھے۔
( الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1293)