Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ سے چند سوالات

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

ہم شیعہ سے چند سوالات کرتے ہیں امید ہے کہ کوئی صاحب جواب باصواب سے مطلع کریں گے اور اگر جواب نہ دے سکیں اور ہرگز نہیں دے سکتے تو خدارا راہِ راست پر آ جائیں اور اصحابِ رسول اللہﷺ کی بد گوئی سے باز آ جائیں۔

1: پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اصحابِ ثلاثہؓ معاذاللہ منافق و کافر تھے ان کو اہلِ بیتؓ سے بغض و عداوت تھی تو جناب امیرؓ اور ان کے اہلِ بیتؓ نے اپنی اولاد کے نام ان کے ناموں پر کیوں رکھے؟

2: اگر نعوذ باللہ وہ کافر و منافق تھے تو رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹیوں کے رشتے ان کو کیوں دیے اور ان کی بیٹیاں اپنی زوجیت میں کیوں لیں؟ حالانکہ قرآن نے اس سے صریح ممانعت کر دی ہے کہ کفار کو ناطے دیے جائیں یا ان سے لیے جائیں۔

3: اگر معاذ اللہ وہ کافر و منافق تھے تو جناب امیرؓ نے اپنی بیٹی امِ کلثوم کیوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو نکاح کر دی اگر کہا جائے کہ انہوں نے جبراً چھین لی تو آپ کی شجاعت و غیرت پر حرف آتا ہے اگر رضامندی سے دی تو ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

4: اگر وہ منافق و کافر تھے تو جناب رسول اللہﷺ نے اور حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑائی کیوں نہ کی حالانکہ قرآن کا حکم ہے:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡـكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 73)

ترجمہ: اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجیے۔

اور فرمایا: وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 193)

ترجمہ: اور ان سے قتال کیجیے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ کے لیے ہو جائے۔

5: جب بقول شیعہ اصحابِ ثلاثہ نے جناب امیرؓ سے خلافت چھین لی فدک دبا لیا سیدہ فاطمہؓ کی سخت ہتک کی سیدنا امیر علیؓ نے کیوں تلوار نہ اٹھائی اگر کہو کہ صبر کیا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کیوں جنگ کر کے صدہا مسلمانوں کی جانیں تلف کر آئیں اور پھر صبر کا حکم تھا تو حضرت حسینؓ نے کیوں یزید سے لڑ کر اپنی اور معصوم بچوں کی جانیں قربان کیں؟

7: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 60)

ترجمہ: منافق لوگ نبی کی ہمسا نگت میں زیادہ عرصہ تک نہیں ٹھہر سکیں گے۔

حالانکہ اصحابِ ثلاثہؓ زندگی میں ہمیشہ رسول اللہﷺ کے مصاحب خاص رہے اور بعد وفات بھی ان کو ایسی مجاورت (ہم نشینی) حاصل ہے کہ دو یار آپﷺ کے پہلو بہ پہلو سوئے ہوئے ہیں ایسا کیوں ہوا؟

7: قرآن میں ہے:

لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّىۡ وَعَدُوَّكُمۡ اَوۡلِيَآءَ الخ۔

(سورۃ الممتحنہ: آیت 1)

ترجمہ: میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

تو جب بقول شیعہ اصحابِ ثلاثہؓ رسول اللہﷺ اور جناب امیرؓ کے دشمن تھے تو کیوں رسول اللہﷺ نے ان کو دوست بنائے رکھا حتیٰ کہ سفر و حضر میں آپﷺ کے رفیق رہے اور پھر بعد وفاتِ رسول اللہﷺ سیدنا علیؓ کیوں اُن اُن سے یارانہ گانٹھے رہے؟ اگر کہو کہ بے بس تھے تو پھر وہاں سے ہجرت کیوں نہ کی جو ایسے مواقع پر فرض ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ فَاُولٰٓئِكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا 

(سورۃ النساء: آیت 97)

اس آیت کے تحت شیعوں کی مشہور تفسیر صافی میں یوں لکھا ہے: اقول وفی الآية دلالة على وجوب الهجرة من موضع لايتمكن فيه اقامة دينه (مظہر حسین غفر له)

8: قرآن میں ہے:

اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا الخ۔

(سورۃ غافر: آیت 51)

ترجمہ: ہم اپنے رسولوں اور مومنوں کو نصرت بخشا کرتے ہیں۔

اگر اصحابِ ثلاثہؓ مؤمن نہ تھے تو کیوں نصرت الٰہی ان کے شامل حال رہی قیصر و کسریٰ کی حکومت الٹ دی ملک بھر میں اسلامی سلطنت قائم ہوگئی ہر ایک معرکہ میں مظفر و منصور ہوئے حتیٰ کہ خلافت بھی انہی کو ملی۔

9: اگر خلافت اصحابِ ثلاثہؓ حق نہ تھی تو حضرت شہر بانو بنتِ یزدجر دخترِ شاہِ فارس جو غنیمت میں مقید ہو کر آئی تھی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسینؓ کو دے دی آپ نے کیوں قبول کی؟ جبکہ یہ غنیمت درست اور حلال ہی نہ تھی تو امام معصوم نے کیوں عطیہ نا جائز اور نادرست میں تصرف کیا جو منافی عصمت ہے۔

10: جب متعہ اتنا بڑا ثواب کا کام ہے کہ متعی مرد اور ممتوعہ عورت جب غسل کرتے ہیں تو ہر ایک قطرہ سے ستر ستر فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو ان کے لیے قیامت تک استغفار کیا کرتے ہیں تو ائمہ اہلِ بیتؓ کیوں اس کارِ ثواب سے محروم رہے کتبِ شیعہ سے ثابت ہے کہ کسی امام نے متعہ نہیں کیا۔

11: کتبِ شیعہ سے ثابت ہے کہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تین فرزند جن کا نام ابوبکر، عمر، عثمان تھا وہ بھی سیدنا حسینؓ کے ساتھ معرکہ کربلا میں شہید ہوئے مرثیوں میں ان کا نام کیوں ذکر نہیں کیا گیا جب کہ وہ علی المرتضیٰؓ ہی کے فرزند تھے اور اپنے بھائی سیدنا حسینؓ پر انہوں نے بھی جانیں قربان کر دی تھیں۔

12: کتبِ شیعہ میں تصریح ہے کہ جناب امیرؓ نے قرآن جمع کر کے اصحاب کو دکھلایا تھا انہوں نے قبول نہ کیا تو آپ نے کہا اب تم لوگ اس قرآن کو تا قیامت نہ دیکھو گے وہ قرآن اس وقت کہاں ہے؟ اگر وہ ہدایت خلق کے لیے تھا تو اس کے اتنا عرصہ گم رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ اور ایسے قرآن سے مسلمانان عالم کو کیا فائدہ ہے؟ اگر امام غائب نے اس کو چھپا رکھا ہے تو کیا وہ کتاب ہدایت چھپا رکھنے کے مجرم نہیں ہیں؟ 

کافی کلینی میں تصریح ہے کہ رسول اللہﷺ کے فوت ہوتے ہی تمام اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے تین چار کے اسلام سے پھر گئے پھر بعثتِ رسول اللہﷺ اور نزولِ قرآن سے فائدہ ہوا کیا خدا نے ان تین چار آدمیوں کے لیے اتنا بڑا سامان کیا اور پھر سوال یہ ہے کہ جناب امیرؓ صرف ان ہی تین چار بزرگوں کے اجتماع سے خلیفہ ہوئے تو آپ امیر المؤمنینؓ نہیں کہلا سکتے بلکہ آپ تو صرف تین چار کے امیر ہوئے۔

کیا کوئی شیعہ بزرگ ان چند سوالات کا کوئی معقول جواب دیں گے؟ ہمیں تو امید نہیں ہے۔

عاشق ہوئے ہیں یار کے ہم کس اُمید پر 

جز آہے نارسا کوئی اُمید ہی نہیں

اصحابِ ثلاثہؓ کے متعلق کافی بحث ہو چکی اب ہم ام المؤمنینؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ ہی کا تذکرہ کرتے ہیں۔