Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا مرحلہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا عراقی فوج کو کوفہ سے لے کر مدائن تک جانا اور وہاں سے مقدمۃ الجیش (جسے شرطۃ الخمیس کہا جاتا تھا) کو قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کی قیادت میں آگے مقام ’’مسکن‘‘ تک بھیجنا، ابن سعدؒ نے ’’الطبقات‘‘ میں شعبی کے طریق سے جو روایت نقل کی ہے وہ اسی جانب اشارہ کرتی ہے کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بعد اہل عراق نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کی، پھر آپ سے کہا: ان لوگوں پر چڑھائی کیجیے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے، گناہِ عظیم کا ارتکاب کیا ہے، لوگوں پر ظلم و زیادتی کی ہے، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں مغلوب کر دے گا، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اہل شام پر چڑھائی کر دی، اور بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل مقدمۃ الجیش کا قائد قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کو مقرر کیا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 319، 321، اس کی سند لاباس بہ ہے۔)

مذکورہ روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ عراق نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اہل شام سے جنگ کے لیے نکلنے پر زبردستی آمادہ کیا، ابن کثیر رحمۃاللہ نے اسی جانب اپنے اس قول میں اشارہ کیا ہے:

’’سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی کسی سے بھی جنگ کی نیت نہیں تھی، لیکن ان لوگوں نے آپ کو اپنی رائے ترک کرنے پر زبردستی آمادہ کیا، چنانچہ انھوں نے ایک بہت بڑا اجتماع کیا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل مقدمۃالجیش کا امیر قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، اور انھیں پہلے بھیجا، انھی کے پیچھے بلاد شام پر چڑھائی کرنے کے لیے فوجوں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے، جب مدائن پہنچے تو وہاں پڑاؤ کیا اور مقدمۃ الجیش کو آگے بھیج دیا۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 132)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی ہوشیاری کا ثبوت دیا جس سے آپ کی ذہنی وسعت، تدبیر اور بصیرت کا پتہ چلتا ہے، وہ ہوشیاری یہ تھی کہ شروع ہی سے اہل عراق پر یہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتے تھے کہ آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت اور خلافت انھی کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں، اس لیے کہ آپ بغیر سوچے سمجھے ان کے کسی معاملے میں دخل انداز ہونے سے واقف تھے، چنانچہ آپ نے چاہا کہ انھی کے تصرفات سے ان کے بارے میں اپنی رائے کی سچائی اور اپنی نیت و ارادے کی صحت پر دلیل فراہم کر دیں، اس لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے کوچ کرنے پر ان کی موافقت کی اور فوج کو تیار کیا۔

(العالم الاسلامی فی العصرالاموی: دیکھیے۔ عبد الشافی محمد: صفحہ 101)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ سے مدائن کی جانب کوچ ڈاکٹر خالد الغیث کی ترجیح کے مطابق صفر 41ھ میں انجام پایا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 130)