Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کا حکم

  علی محمد الصلابی

درج ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے صلح کا حکم دیا ہے:

يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ‌ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ‌ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنفال: آیت 1)

ترجمہ: (اے پیغمبر) لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مال غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مومن ہو۔

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ فَاِنۡ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞(سورۃ الحجرات آیت 9، 10)

ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔  

اللہ کے بندوں کے مابین رشتۂ اخوت ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ انھیں باہمی صلح اور میل ملاپ کا حکم دیتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں صراحت سے بیان کیا ہے:

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌۞ (سورۃ الحجرات آیت 10)

ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ،

اس آیت نے مسلمانوں کے مابین صلح کرانے کے حکم کی علت کو صیغۂ حصر میں بیان کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ بھائی چارگی کی صفت تو مؤمنوں ہی کی ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو باہمی صلح کرانے کے حکم کو بتاکید ثابت کیا جائے اس لیے کہ ان کے مابین ایسا مضبوط ایمانی رشتہ ہے جس کا مقصد جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنا ہے، اس طرح (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ)کا جملہ مسلمانوں کے مابین صلح کرانے کے وجوب کو بتاتا ہے۔

ان قرآنی احکام سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے مابین صلح کرانا کوئی نفلی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھنے والوں کو اس کا مکلف بناتا ہے، تاکہ مسلمانوں کے مابین اخوت ایمانی کے رشتے کمزور نہ ہوں، ساتھ ہی ساتھ یہ بر و تقویٰ کے لیے باہمی تعاون اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے، جن کا اللہ تعالیٰ نے بہت ساری آیتوں میں حکم دیا ہے، نیز مسلمانوں کے معاشرتی تعلقات سے متعلق شرعاً یہ ایسی واجب چیز ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں مکلف بنایا ہے۔

یہ تمام باتیں مسلمانوں بلکہ عام لوگوں کے مابین صلح کرانے کو ایک مسلمان پر واجب و لازم قرار دیتی ہیں تاکہ معاشرتی زندگی میں محبت و بھائی چارگی کا دور دورہ ہو۔ 

(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 971)

انھی باتوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو صلح کی کوشش پر آمادہ کیا۔