شیعہ سے ایک سوال - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے ایک سوال

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ حضرات برائے مہربانی یہ بتائیں کہ ان برائے نام مسلمانوں نے (جنہیں تم معاذ اللہ کافر و مرتد کہتے ہو) اسلام کی وہ خدمات انجام دیں کہ ملک کے ملک فتح کر کے زیرِ نگیں اسلام کیے، لاکھوں کروڑوں انسانوں کو مسلمان کیا، کلمہ توحید پڑھایا، ہزاروں مساجد تعمیر کیں، قرآن کی جمع و ترتیب میں اہتمام کیا، اصلی قرآن کو یکجا جمع کر کے سورتوں، رکوعوں اور آیات کو مرتب کیا، اعراب لگائے، سینکڑوں حفاظ تیار کیے گئے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن تمہارے ان مخلص مسلمانوں ابوذرؓ، مقدادؓ اور سلمان فارسیؓ نے کون سی خدمات انجام دیں؟ کن کفار کو مسلمان کیا؟ کون سے ملک فتح کیے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ بتایا جائے کہ انہوں نے جنابِ امیرؓ کی کون سی امداد کی؟ کیا اس نازک وقت میں ان کی مدد کو پہنچے جب بقول فاسد تمہارے گلے میں رسی ڈال کر بیعتِ ابوبکرؓ کے لیے لے جایا جا رہا تھا؟ کیا ان کی خلافت واپس دلائی؟ کیا فدک، جو بزعمِ تم حقِ سیدہ فاطمہؓ تھا، واپس دلایا؟

غرض کوئی ایسا کارنامہ پیش کیا جائے جس سے ان تین مسلمانوں کی قدر و منزلت ظاہر ہو سکے اگر ان امور میں سے ایک بھی انہوں نے انجام نہیں دیا تو ان کی مسلمانی سے اسلام اور علی المرتضیٰؓ کو کیا فائدہ پہنچا؟

ہم جہاں تک تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں، یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے زمانے میں مسلمانوں پر تلوار چلی، ہزاروں جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن میں سینکڑوں حفاظِ قرآن تھے، شہید ہوئے آپ کا زمانہ زیادہ تر خانہ جنگیوں میں گزرا خدمتِ قرآن کا حال یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن جمع کر کے کہیں ایسا مخفی کر دیا گیا کہ شیعوں کی نظر سے بھی اوجہل ہے۔

اگر ان برائے نام چند مسلمانوں (خلفائے ثلاثہؓ) کا وجود نہ ہوتا تو دنیا میں آج ایک بھی مسلمان کلمہ توحید پڑھنے والا نظر نہ آتا۔ دنیائے اسلام ان نفوسِ مقدسہ کی بدولت تا قیامت گرویدہ اسلام ہے جنہوں نے اپنی جانوں پر مصائب برداشت کر کے اسلام کو شرق سے غرب اور جنوب سے شمال تک پھیلا دیا تائیدِ ایزدی ان کے شاملِ حال تھی اور فتح و نصرت ان کے قدم چومتی تھی آؤ کچھ ہوش کرو کفرانِ نعمت نہ کرو اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو آج ایک بھی سید جو اولاد حضرت حسین رضی اللہ عنہ بطن شہر بانو سے پیدا ہوئے صفحہ دہر پر نہ ہوتے۔