فتوحات اہل کوفہ: آذربیجان 24 ہجری
اہلِ کوفہ کا مرکز جہاد رے اور آذر بیجان تھا، ان دونوں مقامات پر دس ہزار مجاہدین مرابط تھے۔ چھ ہزار آذربیجان میں اور چار ہزار رے میں، کوفی احتیاطی فوج چالیس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھی، ان میں سے ہر سال دس ہزار مجاہدینِ قتال کے لیے نکلتے، اس طرح ہر چار سال بعد ایک شخص کی جہاد میں شرکت کی باری آتی۔
جب امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو آذربیجان کے لوگوں نے معاہدہ توڑ دیا، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے جن باتوں پر مصالحت کی تھی اس سے مکر گئے، اور اپنے والی سیدنا عتبہ بن فرقدؓ کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس صورتِ حال میں سیدنا عثمانِ غنیؓ نے سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو فرمان جاری کیا کہ ان پر چڑھائی کرو، حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے جرنیل سیدنا سلمان بن ربیعہ باہلیؓ کو تیار کیا، اور مقدمۃ الجیش کے طور پر ایک فوجی دستہ کے ساتھ روانہ کیا، اور پھر سیدنا ولیدؓ خود مجاہدین کو لے کر نکلے، جب آذربیجان والوں کو اس نقل و حرکت کی اطلاع ملی تو وہ جلدی سے حضرت ولیدؓ سے آ کر ملے، اور انہی شروط پر مصالحت کی پیش کش کی جن پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کی تھی۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے اس پیش کش کو منظور کر لیا اور ان سے سمع و اطاعت کا عہد لیا۔ ان کے گرد و نواح میں فوجی دستے روانہ کیے اور ان پر حملے کیے، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن شبیل احمسیؓ کی قیادت میں چار ہزار مجاہدین کو موقان، ببر اور طیلسان کی طرف روانہ کیا، بہت سا مالِ غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے، لیکن وہ لوگ بچ گئے اور ان کی اچھی طرح گوشمالی نہ ہو سکی۔
پھر حضرت سلمان باہلیؓ کو بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ آرمینیہ روانہ کیا انہوں نے زیر کیا اور وہ بہت زیادہ مالِ غنیمت کے ساتھ واپس ہوئے۔ اس کے بعد پھر سیدنا ولید رضی اللہ عنہ کوفہ واپس ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 246)
آذربیجان کے لوگ بار بار بغاوت کرتے رہے، چنانچہ آذربیجان کے حاکم سیدنا اشعث بن قیسؓ نے حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو صورتِ حال سے مطلع کیا۔ سیدنا ولیدؓ نے کوفہ سے فوج روانہ کی اور حضرت اشعث نے باغیوں کا پیچھا کیا، اور ان کو شکستِ فاش دی۔ انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ سیدنا اشعثؓ نے ان سے پہلی صلح کی شرائط پر صلح کر لی۔ حضرت اشعثؓ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ لوگ پھر شرارت نہ کریں، لہٰذا انہوں نے عربوں پر مشتمل مستقل فوج مقرر کی، ان کے لیے وظائف جاری کیے اور دیوان میں ان کے نام رجسٹرڈ کیے اور ان کے ذمہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کی ذمہ داری سونپی۔ لیکن جب سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ حاکم مقرر ہوئے تو آذربیجان والوں نے پھر بغاوت کر دی، چنانچہ آپؓ نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو ان کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا، آپ نے انہیں شکست دی اور ان کے سرغنہ کو قتل کر دیا۔ بعد ازیں جب وہاں کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور قرآن سیکھ لیا تو وہاں امن و استقرار پیدا ہو گیا۔
کوفہ پر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی گورنری کے دور میں امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمان جاری کیا کہ وہ رے پر ان کی بغاوت کے پیشِ نظر چڑھائی کر دیں، چنانچہ آپؓ نے سیدنا قرظہ بن کعب انصاریؓ کو ان کی طرف روانہ کیا انہوں نے دوبارہ اسے فتح کر لیا۔
(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ، 224)