Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قصہ قرطاس کا مختتم فیصلہ

  حضرت مولانا علامہ محمد عبدالشکور فاروقی لکھنؤیؒ

حَامِدًا وَّ مُصلِيًّا

(حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ) 

واقعہ قرطاس یوں منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی آخری بیماری میں وفات سے پانچ دن پہلے فرمایا کہ کاغذ، قلم، دوات لاؤ ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو اس وقت بیماری کی تکلیف زیادہ ہے اور ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے لوگوں نے کہا هجر استفہموہ یعنی کیا جدائی کا وقت قریب آ گیا آپﷺ سے دریافت تو کر لو۔

شیعہ کہتے ہیں کہ لفظ "ھجر" کے معنیٰ یہاں "ہذیان" کے ہیں اور یہ لفظ حضرت عمرؓ ہی نے رسول اللہﷺ کی شان میں استعمال کیا ہے۔

اس قصہ قرطاس میں تین الزام حضرت عمرؓ پر قائم کیے جاتے ہیں۔ 

اول یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ہذیان بکنے والا کہا اور سخت توہینِ رسولﷺ کی ہے۔ 

دوم یہ کہ انہوں نے ایسی ضروری تحریر نہ لکھنے دی جو امت کو گمراہی سے بچاتی۔

سوم یہ کہ کتاب اللہ کو کافی کہہ کہ انہوں نے حدیثِ رسولﷺ کا لغو اور بےکار ہونا ظاہر کیا ہے۔

جواب پہلے الزام کا یہ ہے کہ اول تو لفظ "ھجر" حضرت عمرؓ کا مقولہ نہیں، صحیح بخاری میں سات جگہ یہ روایت ہے مگر کہیں بھی یہ لفظ حضرت عمرؓ سے منقول نہیں بلکہ "قالوا" بصیغہ جمع ہے یعنی لوگوں نے کہا۔

اب یہ کہنے والے کون لوگ تھے؟ ان کا نام معلوم نہیں شارحین نے اپنے قیاس سے کام لیا ہے، کسی نے کہا ہے یہ قول اس جماعت کا ہے جو لکھوانے کی مؤید تھی اور کسی نے کہا کہ کچھ لوگ نومسلم تھے یہ ان کا مقولہ ہے۔ غرض یہ کہ حضرت عمرؓ کی طرف اس قول کو منسوب کرنا بالکل بےاصل اور بےبنیاد ہے، حدیث کی کسی کتاب میں کوئی صحیح معتبر روایت اس مضمون کی نہیں ہے کہ یہ لفظ حضرت عمرؓ نے کہا

سہیل والوں نے بڑا زور لگایا اور ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ تقریباً ایک سو برس سے مجتہدین شیعہ اس تلاش میں سرگرداں ہیں کہ کوئی روایت مل جائے جس میں یہ لفظ حضرت عمرؓ کا مقولہ ہو مگر نہیں ملی، سہیل والوں نے اس مطالبہ سے سراسیمہ ہو کر جیسی جیسی لطیف باتیں ارشاد کی ہیں وہ عجائب روزگار سے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ لفظ "ہجر" کے معنیٰ یہاں "ہذیان" نہیں ہیں بلکہ بمعنیٰ "جدائی" کے ہیں، رسول اللہﷺ نے جب بیماری کی حالت میں ایسی تحریر کے لکھوانے کا ارادہ ظاہر کیا جو آخری وقت میں ہوتی ہے تو صحابہ کرامؓ کے قلوب پر ایک بجلی سی گری اور ان میں سے کسی نے کہا "اھجر استفہموہ"

کیا جدائی کا وقت آ گیا پوچھو تو؟

یہ پوچھنے کا مضمون صاف قرینہ اس امر کا ہے کہ "ھجر" معنیٰ "ہذیان" نہیں جس کو ہذیان ہو گیا ہو اب اس سے پوچھنا کیا؟ یہ لفظ بمعنیٰ جدائی قرآن مجید میں بھی مستعمل ہے۔

قال اللہ تعالیٰ وَاهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرًا جَمِيۡلًا (سورۃ المزمل آیت: 10)

تیسری بات یہ ہے کہ لفظ ہمزہ استفہام کے ساتھ مروی ہے چنانچہ بخاری کی چھ روایتوں میں ہمزہ کے ساتھ ہے صرف ایک میں بے ہمزہ ہے، لہٰذا حسبِ قاعدہ اصولِ حدیث جو روایت بےہمزہ کے ہے اس میں بھی ہمزہ مانا جائے گا پس یہ لفظ اگر بمعنیٰ ہذیان ہو تو بھی استفہام انکاری ہے۔

المختصر رسول اللہﷺ کو ہذیان گو کہنے کا الزام حضرت عمرؓ تو کیا کسی پر بھی قائم نہیں ہوتا۔

جواب دوسرے الزام کا یہ ہے کہ تحریر نہ لکھوانے کا الزام حضرت عمرؓ پر ہرگز نہیں آ سکتا، اگر وہ تحریر ایسی ہی ضروری تھی تو اس واقعہ کے بعد پانچ دن حضورﷺ اس دنیا میں رہے اس مدت میں جب حضرت عمرؓ نہ ہوتے حضورﷺ کو چاہیے تھا کہ لکھوا دیتے یا حضرت علیؓ پر لازم تھا کہ وہ لکھوا لیتے اور حضرت عمرؓ اگر اس تحریر کو روک بھی رہے تھے تو ان کا روکنا چیز ہی کیا تھا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمرؓ سے جناب رسالت مآبﷺ ڈرتے تھے اور مارے ڈر کے ان کے خلاف نہ کر سکتے تھے تو نبوت ایک کھیل ہو جائے گی اور سارا دین ناقابلِ اعتبار ہو جائے گا، یہ بات کس کی عقل میں آ سکتی ہے کہ وہ رسول اللہﷺ جس نے مکہ میں کفارِ مکہ سے کچھ خوف نہ کھایا توحید کا اعلان کیا شرک کا ابطال کیا وہ حضرت عمرؓ سے اس قدر ڈر جائے کہ اپنی امت کے لیے ایک ایسی ضروری تحریر نہ لکھوائے اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ 

اس مقام پر ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس واقعہ قرطاس سے بہت پہلے ہی یہ آیتِ قرآن نازل ہو چکی تهى:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ 

ترجمہ: یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔

 اگر واقعی کوئی ایسی ضروری تحریر باقی تھی تو بغیر اس کے دین ہرگز کامل نہیں ہو سکتا لہٰذا آیتِ قرانی غلط ہو جاتی ہے۔

اس بات پر غور کرنے سے اور اس کے ساتھ جب اس پر نظر پڑتی ہے کہ طبقہ صحابہؓ میں سوا ابنِ عباسؓ کے اور کوئی متنفس اس واقعہ کو روایت نہیں کرتا عقلِ سلیم اس نتیجہ پر پہنتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سرے سے غلط ہے۔

 آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کی تکذیب کے لیے کسی دشمنِ قرآن نے گھڑا ہے یا خود حضرت ابنِ عباسؓ کو کچھ دھوکا ہو گیا ہے یا رسول اللہﷺ نے محض امتحان کے طور پر تحریر لکھوانے کو فرمایا کہ دیکھیں صحابہ کرامؓ کا قرآنِ کریم پر یقین کیسا ہے، اگر کہیں اکابر صحابہؓ تحریر کو لکھوانے پر مستعد ہو جاتے تو فوراً آپﷺ فرماتے کہ آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کے بعد بھی تم ایسی تحریر کی احتیاج سمجھتے ہو؟

اس قسم کے امتحانات اپنے صحابہ کرامؓ کے آپﷺ اکثر لیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس کے باوجود یہ کہ پانچ دن تک آپﷺ رہے اور کوئی تحریر نہ لکھوائی۔

جواب تیسرے الزام کا یہ ہے کہ "حسبنا کتاب اللہ" کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ حدیثِ رسولﷺ کی ضرورت نہیں ورنہ آیتِ قرآنی حَسۡبُنَا اللّٰهُ کا یہ مطلب ہونا چاہیے کہ رسول کی ضرورت نہیں۔ 

ضمیمہ: صحابہؓ کو لوگوں نے کہا کہ مکہ والے پوری طاقت جمع کر کے تمہارے مقابلے میں آ گئے انہوں نے کہا:

"حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ"

اللہ کافی ہے اور وہ خوب کارساز ہے۔ 

اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًا وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ (سورۃ آل عمران آیت: 173) 

ترجمہ: کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حَسۡبُنَا اللّٰهُ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ ہمیں رسولﷺ کی ضرورت نہیں پھر"حسبنا کتاب اللہ" کا یہ مطلب لینا کہ ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں کسی شقی القلب کی سوچ ہو سکتا ہے کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس میں قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہو۔

يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا‌ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ (سورۃ النساء آیت: 176) 

ترجمہ: بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

قرآن اپنے عالی مضامین اور عمدہ احکام اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم کہیں گمراہ نہ ہو جاؤ یہی لفظ "اَنۡ تَضِلُّوۡا‌" روایت زیرِ بحث میں "لن تضلوا بعدہ" کی صورت میں موجود ہیں تو "حسبنا کتاب اللہ" میں کیا قرآن کی اس یقین دہانی کی طرف اشارہ نہیں؟

حضرت عمرؓ اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور کتاب اللہ کے دلائے ہوئے یقین کو فوراً دہرایا "حسبنا کتاب اللہ" کہا اور حضورﷺ نے اس کی تردید نہ فرمائی

اور اگر یہ خلافت کا فیصلہ کرنا تھا تو حضورﷺ نے رضائے الٰہی پر اطلاع پانے کے بعد کہ (اللہ تعالیٰ اور مؤمنین سیدنا ابوبکرؓ کے سوا کسی کو آگے نہ کریں گے) اس کے لکھنے کا پھر حکم نہ فرمایا 

"حسبنا کتاب اللہ" میں حضرت عمرؓ نے صرف اپنی طرف سے جواب نہ دیا تھا سب مسلمانوں کی طرف سے یہ گذارش کی تھی اس میں آپ سب کے نمائندے تھے ان حاضرین میں حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔