حضرت ابوسفیانؓ
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندحضرت ابوسفیانؓ
آپ کا پورا نام صخر بن حرب تھا، عمر میں سرکارِ دوعالمﷺ سے دس سال بڑے تھے، فتحِ مکہ کے بعد اسلام لائے، اس سے پہلے اسلام کے سخت ترین دشمن تھے، فتحِ مکہ کے دن سرکارِ دوعالمﷺ نے اعلان فرمایا تھا کہ جو ابوسفیانؓ کے گھر میں داخل ہو جائے اسے بھی امان ہے، حنین، طائف اور یرموک وغیره میں شریک ہوئے، سرکارِ دوعالمﷺ نے آپ کو ”نجران“ کا عامل مقرر فرمایا تھا، زمانہ جاہلیت سے ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، مشہور مؤرخ واقدی نے آپ کو زمانہ جاہلیت میں لکھنے والوں میں شمار کیا ہے۔ اسلام لانے کے بعد آپ کو دربارِ رسالت مآبﷺ میں بھی لکھنے کا شرف حاصل ہوا، عراقی، ابن سید الناس، ابن مِسکویہ اور انصاری نے اس کی صراحت کی ہے۔ (حوالہ کے لیے دیکھیے: شرح الفیه عراقی 346، عیون الأثر جلد2 صفحہ316، تجارب الامم جلد1 صفحہ291، المصباح المضئی جلد1 صفحہ25٫28 بحواله نقوش جلد7 صفحہ139) حضرت ابو سفیانؓ کی وفات تقریباً 90 سال کی عمر میں ہوئی، یہ حضرت عثمان بن عفانؓ کی خلافت کا زمانہ تھا، بعض نے 30 ہجری، بعض نے 31ھ اور بعض مؤرخین نے 34ھ میں آپ کی وفات لکھی ہے۔