Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

شیعہ کی سیاسی تاریخ

شیعہ کی اسلام سے غداری، مسلم کشی اور کفار سے دوستی اور موالات کو ملاحظہ فرمائیں ۔
(1) ابو لؤلؤ مجوسی ایرانی نے شہزادہ ہرمزان کی سازش سے مرادِ نبوت ،فاتحِ اسلام، خسرِ رسولﷺ اور دامادِ علیؓ  سیدنا عمرؓ کو شہید کیا شیعہ اس دن عید مناتے ہیں اور قاتلِ عمر (رضی اللہ عنہ) فیروز مجوسی کو بابا شجاع کہہ کر فیروزہ نامی انگوٹھی کو متبرک جانتے ہیں۔        
(2)حضرت عثمان ؓ کو جن سبائی بلوائیوں نے شہید کیا ان کو اپنا پہلا شیعی گروہ اور متقی و صالح جانتے ہیں حالانکہ اسلام کا بڑا حادثہ یہی ہے۔
(3) جنگ جمل و صفین میں طلحہ و زبیر اور ستر ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا قاتل بھی یہی گروہ ہے ان اہم حادثات پر خوش ہیں کبھی ماتمی مجلس قائم نہیں کی ہے۔
(4) نہروان میں حضرت علیؓ سے جنگ کرنے والے خارجی اسی گروہ سے تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کے شرعی فیصلے کے برخلاف ان الحکم الا للہ۔ (حکومت صرف خدا کے مقرر کرنے سے ملتی ہے) کا نعرہ لگایا ، آج بھی شیعہ کا یہی نعرہ ہے کہ امامت و خلافت خدا کی نص اور مقرر کرنے سے ملتی ہے شوریٰ اور مسلمانوں کے انتخاب سے نہیں ملتی شیعہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تو خوب مذمت کرتے ہیں مگر ان محاربان علی (خارجیوں) کی نہیں کرتے آخر مذہبی برادری کے سوا اور کیا راز ہو سکتا ہے ؟؟؟
  (5) قاتلِ علی ابن ملجم کٹر شیعہ اور مصری بلوائی تھا، اس کے پہلے کسی عمل کی شیعہ مذمت نہیں کرتے اور نمازوں کے بعد اس پر لعنت نہیں کرتے جیسے معاذاللہ خلفاۓ ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کرتے ہیں۔ اس کا راز اس کا شیعہ بھائی ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ 

اہلِ بیت پر مظالم

شیعہ احتجاجِ طبرس، منتہی الآمال، جلاءالعیون وغیرہ کتب شیعہ میں صراحت ہے کہ جب حضرت حسن المجتبیٰؓ نے اپنے ناناﷺ کی پیشین  گوئی اور رضا کے مطابق حضرت معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت و مصالحت کرلی سب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے وہ سال عام الجماعہ کہلایا۔ تو اتحادِ ملّی کے دشمن شیعہ حضرت حسنؓ سے ناراض ہو گئے۔ آپ کو بہت کوسا  اور مطعون کیا۔ اس کی صدائے باز گشت آج بھی شیعہ ایوانوں  میں سے آ رہی ہے کہ حسنؓ صرف امامت در اولاد سے ہی محروم نہ ہوئے بلکہ ان کے کسی مخصوص کمال اور بزرگی پر نہ تو کوئی تقریب و مجلس منعقد ہوتی ہے نہ کوئی نام نہاد خطیب آلِ محمدؐ اس عظیم کارنامہ اتحاد پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ بس بعد از وفاتِ جنازہ پر ایک جھوٹا واقعہ مشہور کر کے غیروں کو خوب گالیاں دیتے ہیں۔ مگر جن شیعوں نے حضرت حسنؓ پر قاتلانہ حملہ کیا ، ران کاٹی، مال و اسباب لوٹا، ان کی مذمت میں مجلسِ عزا قائم نہیں کرتے؟
(7)حضرت امام حسینؓ کے ساتھ اس سبائی ٹولے کا سلوک شہرہ  آفاق ہے دہرانے کی حاجت نہیں۔ 
(8) قتلِ حسینؓ کے بعد یہ لوگ نادم اور تائب ہوئے تاریخ میں ان کا لقب توابین مشہور ہے۔  قاضی نور اللہ شوستری لکھتے ہیں (قاتلانِ حسینؓ) شیعہ ایک مدت کے  بعد بیدار ہوئے۔ افسوس کھایا۔ اپنے اوپر لعنت کی کہ دنیا و آخرت کا گھاٹا ہمارے نصیب ہوا۔ کیونکہ ہم نے امیر المؤمنین حسینؑ کو بلایا  پھر ان پر ہم نے تلوار کھینچی اور ہماری بے وفائی سے ہوا جو کچھ ہوا۔ 
اس جماعت کے سردار  5 اشخاص تھے۔ سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن  نخبہ فزاری، عبداللہ بن سعد ازدی، عبداللہ بن دال تمیمی، رفاعہ بن شداد۔ اور یہ پانچوں حضرت علیؑ کے خاص اور معروف شیعہ تھے*۔
(مجالس المؤمنین: صفحہ نمبر243 جلد 2) 
(9)ان توابین نے پھر جو ظلم و بربریت پھیلائی اور عامۃ الناس کا قتلِ عام کیا۔ ایک طویل بحث اسی مجالس المؤمنین میں موجود ہے۔
(10) چند سالوں کے بعد "انتقامِ حسینؓ کے بہانے بد ترین ظالم مختار بن عبید ثقفی اُٹھا
ستّر ہزار مسلمانوں کا قتلِ عام کر کے کوفہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ شرح دیوان  مرتضوی میں حسن عسکری کی روایت سے مقتولین کی تعداد 80301 ہے۔

(مجالس المؤمنین صفحہ نمبر 251جلد2) ۔
آج بھی شیعہ اسے ناصر آلِ حسین کَہہ کر قومی ہیرو مانتے ہیں۔ 
حالانکہ یہ حسن المجتبیٰؓ کو گرفتار کرکے دشمنوں کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔ لیکن چچا نے اسے ڈانٹ دیا۔ حضرت حسینؓ کے ساتھ غداری کی۔ پھر نبّوت کا دعویدار ہوا۔ محمد بن الحنیفہؒ کو اپنا امام بتایا۔ (حالانکہ مذہب شیعہ میں غیر امام کو امام کہنا بڑا کفر اور شرک ہے، ان کے نام سے دولت جمع کی۔ حضرت زین العابدینؒ اور محمد باقرؒ  نے اس پر پھٹکار کی اور اسے بے دین بتایا۔
(سب حوالہ جات "ہم سنّی کیوں ہیں؟" میں دیکھیے) 

لیکن شیعہ کو ہر سفاک سے پیار ہے۔ خواہ وہ بد عقیدہ اور ملعون ہو۔ یہ فتنہ حضرت مصعب بن زبیرؓ نے ختم کیا تھا۔
(11) حضرت زید شہید بن علی زین العابدینؒ جو فاضل سادات میں  سے تھے ۔ ظالم حکام کے  خلاف اٹھے چالیس ہزار کا لشکر تیار کیا۔ عین موقع پر ان کوفی شیعوں نے غداری کی اور کہا کہ تب ساتھ دیں گے جب سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما سے تبّرا کرو گے۔ حضرت زیدؒ نے فرمایا وہ تو میرے بزرگ آباء تھے میں ان سے کیسے تبّرا کروں؟ وہ سب ساتھ چھوڑ گئے۔ حضرت نے فرمایا : 

یٰقَوُمِ رفضتمونی

"اے میری  قوم  تم نے میری بیعت کر کے مجھے چھوڑ دیا۔" اسی وجہ سے شیعوں کا لقب رافضی مشہور ہوا۔
(مجالس المؤمنین صفحہ نمبر 256 جلد 2) 
حضرت زیدؒ چند افراد کے ساتھ تنہا لڑے اور شہید ہو گئے۔ اثناء عشری اور جعفری شیعوں کو آج بھی حضرت زیدؒ سے نفرت اور دشمنی ہے اور مختار سفاک سے محبت ہے۔ 
بے دینوں کا ساتھ دے کر قتلِ عام کرتے ہیں اور اہلِ بیتؒ کو بے یارو مددگار چھوڑ کر قتل کراتے ہیں۔ اور خود صحابہ کرامؓ کے تبّرا میں لعنتی بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بالکل بر حق ہے کہ شیعہ اسلام اور اہلِ بیت کے غدّار  دشمن ہیں۔ مختار اور خمینی جیسے ظالموں کے طرف دار ہیں۔ 
(12) بنو امیّہ کے خلاف جو ایرانیوں نے بنو عباس کے ساتھ مل کر تحریک چلائی اور پھر خونی انقلاب آیا۔ لاکھوں مسلمان تَہ تیغ ہوئے اور بعض عباسی بادشاہوں کا لقب بھی۔ سفاح، "بہت خون ریز" پڑ گیا۔ ان سب کا مشیر و وزیر اور درپردہ قاتل ابو مسلم خراسانی تھا جو کٹر شیعہ تھا اور بنو عباس سے اسی نے سب ظلم کرائے۔ شیعہ آج بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ شوستری نے اسے سلاطین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ 
(13) مفاد کی دوستی اور وقتی انتخابی اتفاق و اتحاد کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔ بنو امّیہ دشمنی میں تو یہ علوی عباسی اتحاد رہا مگر جب بنو عباس کو اقتدار مل گیا اور علویہ محروم رہے تو یہی مفسدانہ کاروائیاں علویوں نے بنو عباس کے ساتھ شروع کر دیں۔ 

شیعہ عالم شوستری لکھتا ہے علویوں نے کوفہ میں عباسیوں کے تمام گھروں کو لوٹ لیا۔ ان کا تمام مال و اسباب اور مکانات تباہ کر دیے اور بہت سے بچے کھچے (جو بھاگ نہ سکے) عباسیوں کو علویوں نے مار ڈالا۔ خانہ کعبہ کے خزانہ کو بنو عباس اور ان کے طرف داروں کے مالوں سمیت، اپنے قبضے میں لیا اور لشکر میں تقسیم کر دیا۔ جعفر صادقؒ کے پوتے موسیٰ کاظمؒ کے بیٹے زید نے عباسیوں اور بصریوں کے گھروں کو اتنی آگ لگائی کہ اس کا لقب "زید نار" پڑ گیا۔ (مجالس المؤمنین: صفحہ نمبر  404 جلد 2)
ذرا دیانت سے غور فرمائیں۔ یہ مظالم کسی اموی حاکم نے بھی کیے؟ 

بنو بویھہ کے مظالم

(14) ابو مسلم خراسانی عباسی دورمیں تقریبا سیاہ و سفید کا مالک ہوگیا .عباسی حکمران کٹھ پتلی بن کر رہ گئے اور بنو بویھہ  کا شیعی خاندان عملا برسرِ اقتدار آگیا ۔ بحیرہ احزر کے ساحل پر مچھیرے تھے۔ بویھہ کے تین بیٹے فوجی تربیت پاکر عباسیہ کے دشمن ہوگئے غنڈہ گردی اور قتل و غارت سے جنوبی ایران، شیراز پھر سب ایران پر قبضہ کر کےبغداد پر حملہ کر دیا۔ 
خلیفہ مستکفی باللّه نے دب کر اسے بغداد کا گورنربنا دیا  اور معزالدولہ کا لقب دیا ۔ انھوں نے بغداد میں اپنا راج اتنا چلایا کہ خلیفہ کو برسرعام ڈنڈے مار مار کر قید کر لیا۔ 
سات سال بعد وہ قید میں مر گیا ۔ اور پھر براۓ نام ایک شھزادے مطیع لدین اللّٰہ کو خلیفہ بنا دیا ۔اپنی من مانی کاروائیوں پر اس سے دستخط کرالیتے اور قتل عام کرتے ۔ 
ان کا احمد معزالدولہ ظلم وسفاکی میں سب کو مات دے گیا ۔اس نے جبراً عاشورہ محرم کی چھٹی کرائی جو پہلے کھبی نہ ہوتی تھی ۔ اہلسنت کی دکانیں بند کراکر تمام شیعہ مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ سیاہ لباس پہن کر روئیں، پیٹیں اور ماتم کریں ۔ 
بغداد کے تمام مساجد کے دروازوں پر سیدنا امیر معاویہؓ، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر لعنتیں کی اور تبرے لکھوا دیئے۔ اہلسنت مٹا دیتے تھے شیعہ پھر لکھ لیتے تھے 
چناچہ سنی  شیعہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ ہزاروں مسلمانانِ اہلسنت شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ 352 ہجری کا ہے ۔ شوستری لکھتا ہے: کہ یہ فتنہ اتنا بڑھ گیا کہ معزالدولہ دارالاسلام بغداد کے تمام سنی مسلمانوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگیا تو محمد بن مہلبی وزیر نے درخواست کی کہ حضرت معاویہؓ کے سوا لعنت کسی پر نہ کریں  اور شخصی لعنتوں کے بجاۓ یہ کلمات لکھیں : 

لعن اللّه الظالمین لآل محمد رسول اللّه

21 سال معزالدولہ خلیفۃ الخلفاء بنا رہا اور عباسی خلیفہ معزالدولہ کا تابعداربنا رہا (مجالس المؤمنین ص362) 

(15) آلِ حمدان سے ایک شیعہ بادشاہ سیف الدولہ ہوا ہے اس نے بھی تشیع کے نشہ میں شام کے شہر حلب میں یہی ظالمانہ کاروائی کی ( ایضا ص337ج2) جو اب الاسد رافضی کر رہا ہے۔

اسماعیلوں کے مظالم

(16)حضرت جعفر صادقؒ کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور موسی کاظمؒ صادقؒ نے امامت کی نص اسماعیل کی طرف کر دی مگر قضاءالٰہی سے وہ باپ کے عہد حیات میں فوت ہوگیا تو شیعوں کا ایک گروہ اسماعیل اور ان کی اولاد میں امامت کا قائل ہوگیا ۔
یہ آغاخانی اور اسماعیلیہ کہلاتے ہیں جن کا 51 امام عبدالکریم موجودہ آغاخان ہے۔ ان کا مذھب اسلام سے بلکلیہ مختلف ہے۔ حتی کہ اثناء عشری شیعہ بھی انکو کافر مانتے ہیں
باقی شیعوں نے موسی کاظمؒ کو امام مانا اور اثناء عشری جعفری کہلاۓ ۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ، اسماعیلیوں نے بھی جب ذرا کچھ اقتدار پایا مسلم کشی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ان کا ملحد لیڈر حسن بن صباح ظلم و بربریت میں شہرہ آفاق ہے۔ 
شیعہ شوستری لکھتا ہے :کہ اس شخص کے دور میں اس کی فدائی نامی جماعت کے ہاتھوں بہت اھل سنت و جماعت شہید کئے گئے۔۔۔کِیّابزرگ جو ایک اسماعیلی سردار تھا کے دور میں فدائیوں نے اہلسنت کی ایک بڑی جماعت کو شہید کیا ۔ مقتولوں میں قاضی القضاۃ ابو سعید بھی تھے ایک دوسرے اسماعیلی سردار دولت شاہ رئیس اصفہان نےمراغہ کے حاکم سنتور کو خلیفہ عباسی مستر شد کو تبریز کے رئیس کو ، قزدین کے مفتی کو اور سنی قوم کے خاص اکابر کی اکثریت کو فدائیوں کے ہاتھوں مروا ڈالا- اور کِیّا محمد پسر کِیّا بزرگ کے دور میں خلیفہ عباسی کا بیٹا راشد مارا گیا اور بہت سے خاص خاص اہل سنت کے علماء ، افسران ، قاضی حضرات قتل کئے گئے
۔مقتولوں کےناموں کی تفصیل بعض تواریخ میں مسطور ہے۔ مؤلف (شوستری) کہتا ہے کہ اہل سنّت کے ساتھ ان مظالم کا نتیجہ یہ ہے کہ سنی اسماعیلوں کو ملحد و زندیق کہتے ہیں۔ 
(17) شیعوں کا ایک دور اقتدار فاطمین مصر کی حکومت ہے ۔ یہ لوگ اصل میں غلام تھے۔  مگر ان کے مورث عبیداللہ مہدی مجوسی نے خود کو امام اسماعیل بن جعفر کا پڑپوتا ظاہر کر کے افریقہ کی بربری قوموں کو اپنا ہم نوا بنا لیا اور بالآخر مصر کی حکومت پر قابض ہوگئےان کا اقتدار دوسو برس تک رہا بظاہر علم دوست تھے ۔ جامعہ الازہر ان کی یاد گار ہے ۔ لیکن عام اسماعیلی باطنیہ اور ملاحدہ تھے۔ شیعوں کا یہ گروہ  فدائیوں کے نام سے مسلمان امراء کو قتل کرتا تھا اور عالم اسلام میں ایک تہلکہ عظیم برپا کر رکھا تھا۔ ان فدائیوں سے لوگ بہت خائف و ترساں تھے ۔ ان ظالموں نے مسلمانوں کے عظیم فاتح و عادل سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو بھی قتل کرنے کی سازش کی مگر وہ خدا کے فضل و کرم سے بچ گئے۔
( تاریخ اسلام نجیب آبادی ص436 - ج3) 

ہلاکو خان کا بغداد پر حملہ

(18) شیعہ مظالم کا سب سے بڑا خونچکاں حادثہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ہے جسے ہر مؤرخ روتے ہوئے قلم بند کرتا ہے: 
جب مغل تاتاری ہلاکوخان 654 ہجری میں ممالکِ شرقیہ کی فتوحات کے لئے بڑھا تو شیعہ عالم نصیر الدین طوسی ملاحدہ (اسماعیلیہ)کی قید سے آزاد ہو کر ہلاکوخان سے مل گیا۔ بغداد کے شیعہ وزیر ابن علقمی نے موقع غنیمت جان کر ہلاکو کو بغداد پر حملہ کی دعوت دی چنانچہ اس نے 656ہجری میں بغداد پر زبردست حملہ کیا۔ 
عباسی خلیفہ مستعصم کو اور اسکے صاحبزادوں ابوبکر و عبد الرحمٰن کو قتل کر دیا ، خواجہ نصیرالدین کے مشورے سے خلیفہ عباسی کو اتنی بے دردی سے شہید کیا کہ اس کے ایک ایک عضو کو الگ  الگ کاٹا شوستری کہتا ہے کہ شیعان علیؓ ائمہ معصومین کے بدلہ لینے سے خوب خوش ہو گئے ( مجالس المؤمنین ص442) لاکھوں مسلمان قتل ہوئے، دریائے دجلہ خونی موجیں مارنے لگا، سارے بازار لاشوں سے اٹے پڑے تھے، گھوڑے خون میں دھنس کر چل نہیں سکتے تھے، بڑے بڑے کتب خانے دریا برد ہو گئے کہ ان کی سیاہی سے دریا پھر ایک مرتبہ سیاہ ہو گیا۔ 
یہ تباہی سقوطِ ڈھاکہ اور سقوطِ غرناطہ سے بہت بڑی تھی لیکن شیعہ وزیر اور طوسی عالم خوش ہیں کہ ائمہ معصومین کے خون کا بدلہ ہو گیا۔ غور کیجئے اماموں میں سے شہید تو 72 ساتھیوں کے ہمراہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے 
خود قاتلوں ( توابین و مختار ثقفی) نے ایک لاکھ مسلمان اسی بہانے سے 70 ہجری تک مار ڈالے تھے
اب ساتویں صدی میں عباسیوں سے کون سا بدلہِ امام لینا باقی تھا کہ کافروں سے عالم اسلام کو تباہ کرادیا ؟۔۔۔ 
عذر گناہ بد تراز گناہ،، کا مصداق شوستری نے اس حملہ اور تباہی کی وجہ یہ لکھی ہے کہ کرخ کے محلہ سے خلیفہ نے سحری کے وقت تبرّاء پر مشتمل ایک دعا سنی. خلیفہ مشتعل ہو گیا اور محلہ کو تباہ کرادیا۔ پس ابن علقمی نے خلیفہ عباسی کو مروانے اور بغداد تباہ کرنے کی قسم کھا لی
  ذرا غور فرمائیں
یہ محلہ سازشوں اور تبرّائی مجلسوں کا گڑھ تھا۔ حتی کہ سحری کے وقت خلیفہ خود جا کر یہ تبرّے سنتا ہے تو انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی شیعہ حاکم کسی گھر یا محلہ سے حضرت علیؓ و اہل بیتؓ پر کسی دشمن خارجی سے تبرّائیہ کلمات سنے اور انتہائی قدم اٹھائے کیا شیعی دارالافتاء اس کے خلاف ایسی کارروائی کی اجازت دے گا؟

اگر نہیں تو کیا ابن علقمی اور طوسی کے اور آج اس کے مداحوں کے دشمن اسلام ہونے کی یہ کھلی دلیل نہیں ہے؟
بالفرض مان لیا جائے کہ خلیفہ کے ایکشن سے سو پچاس شیعہ گھرانے متاثر ہوئے،، مگر کیا دنیا کا کوئی قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ غیر ملکی کافر طاقت سے سازباز کر کے اپنے ملک اور مسلمان قوم کو تباہ و برباد کرا دیا جائے؟
اگر مسلمان حاکموں میں ذرہ بھر قومی یا دینی غیرت ہوتی تو وہ اس حادثہ کے بعد ان مار آستین لوگوں سے ہوشیار رہتے نہ دخیل حکومت کرتے نہ کلیدی آسامیوں پر فائز کرتے،لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سقوط بغداد سے لے کر سقوط ڈھاکہ تک مسلمانوں نے ہمیشہ ان پر اعتماد کر کے تباہی کا ڈنگ کھایا ہے ( جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے) 
اور پاکستان انہی تجربات سے گزر رہا ہے لیکن ہر بے ضمیر صحافی اور لا مذہب سیاست دان 95٪ اہلسنت کے مفادات کو داؤ پر لگا کر 4-5٪ کو راضی کرنے پر ہی تلا ہوا ہے،
ایرانی انقلاب کے دوران اور بعد میں ہونے والے 12-14 لاکھ مسلمانوں کے قتل عام سے انہوں نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا 

شاہ تیمور لنگ کے مظالم

(19)سقوط بغداد کی طرح خون کے آنسو رلانے والا، بارہ لاکھ مسلمانوں کے قاتل تیمور لنگ رافضی کا یہ ظلم و بربریت ہے جو اس نے بلا وجہ یورپ کے فاتح سلطان بایزید یلدرم عثمانی کے ساتھ کیا اور ایشائے کوچک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت عثمانیہ کو تباہ کرنے کی ملعون کاروائی کی اور مفتوحہ یورپ پھر مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیا، قیصر کے کہنے پر تیمور اگر درپردہ انگریزوں کی حمایت میں یہ مسلم کش جنگ انگورہ نہ لڑتا اور سلطان المسلمین کو شیر کی طرح لوہے کے جنگلے میں قید کر کے جگہ جگہ نمائش و تذلیل کی، اگر وہ یہ انسانیت سوز حرکت نہ کرتا تو تمام یورپ پر آج اسلام کا چھنڈا لہرا رہا ہوتا۔ 

تاریخ کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں

(1) سلطان بایزید خان نے نکوپولس کے میدان میں عیسائیوں کے ایک ایسے زبردست اور ہر ایک اعتبار سے مکمل و مضبوط لشکر کو شکست فاش دی کہ اس سے پہلے کسی میدان میں عیسائیوں کی اتنی زبردست طاقت جمع نہ ہو سکی تھی،
سجمنڈ شاہ ہنگری اپنی جان بچا کر لے گیا لیکن فرانس و آسٹریا و اٹلی وغیرہ کے بڑے بڑے شہزادے نواب اور سپہ سالار قید ہوئے اور بعض میدان میں مارے گئے 
(2)اس کے بعد وہ اپنی فوج لے کر یورپ میں پہنچا، ہنگری، آسٹریا، فرانس، جرمنی،اور اٹلی فتح کرنے کے عزم کے ساتھ یونان کا رخ کیا، پھر تھرموپلی کے درے میں سے فاتحانہ گزرتا ہوا ایتھنز کی دیواروں کے نیچے جا پہنچا اور 800 ہجری میں ایتھنز کو فتح کر کے تین ہزار یونانیوں کو ایشائے کوچک میں آباد ہونے کے لئے روانہ کیا اور اپنے سپہ سالاروں کو آسٹریا اور ہنگری کی طرف فوجیں دے کر روانہ کر دیا تھا جنہوں نے ان ملکوں کے اکثر حصوں کو فتح کر لیا تھا 
(3)سلطان بایزید خان یلدرم جب یونان وغیرہ کو فتح کر چکا اور قیصر روم کا حال بہت پتلا ہونے لگا تو اس نے اپنی امداد کے لئے فوراً قاصد کو خط دے کر تیمور کی خدمت میں روانہ کیا۔ خط کے مضمون نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ اس کا دل ہندوستان سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس نو مفتوحہ ملک کو بلا کسی معقول انتظام کے ویسے ہی چھوڑ کے ہردوار سے پنجاب اور پھر سمر قند کی جانب روانہ ہوا،
ہندوستان کے ایک لاکھ قیدی گراں بار سمجھ کر راستے میں قتل کرا دیئے پھر سمر قند سے روانہ ہو کر اور ایشائے کوچک کی مغربی سرحد پر پہنچ کر آذربائیجان اور آرمینیا میں قتل عام کے ذریعے خون کے دریا بہائے اور اس علاقے ہر اپنی ہیبت کے سکے بٹھائے اور خوب تیاری کر کے اس پر آمادہ ہو گیا کہ عثمانی سلطان سے اول دو دو ہاتھ کر کے اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ ہم دونوں میں سے کس کو دنیا کا فاتح بننا چاہئے؟
(4)سلطان بایزید یلدرم، تیمور سے جنگ کرنا یعنی خود اس پر حملہ آور ہونا ضروری نہ جانتا تھا، کیونکہ وہ مسلمان بادشاہوں سے لڑنے کا شوق نہ رکھتا تھا اسکو تو ابھی یورپ کے رہے ہوئے ملکوں کے فتح کرنے کا خیال تھا۔۔۔  مگر تیمور کئی سال سے نہایت سر گرمی کے ساتھ بایزید سے لڑنے اور اس کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف تھا، دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ بایزید یلدرم عیسائی طاقت کو دنیا سے نابود کرنے پر تلا ہوا تھا اور تیمور بایزید کو نابود کرنے اور عیسائیوں کو بچانے پر آمادہ تھا، تیمور نے اپنے تمام سامانوں کو مکمل کر لینے کے بعد بایزید کے سرحدی شہر سیواس پر حملہ کر دیا، جہاں بایزید کا بیٹا قلعہ دار تھا، ایک خاص چال سے قلعہ کی چار دیواری کو آگ لگا کر زمین میں دھنسا دیا اور چار ہزار فوجیوں کی مشکیں کسوا کر ایک بڑی خندق میں زندہ درگور کر دیا، زندہ در گور کرنے کے اس ظالمانہ فعل سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
(5)شاہ یلدرم بیٹے کی مقتل گاہ دیکھ کر غصہ سے بے تاب ہو گیا، مگر تیمور لنگ جنگی چال سے یہاں سے فوراً اندرون ملک شہر انگورہ پر پانچ لاکھ سے زائد مسلح لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا، سلطان نے اسکے تعاقب میں جا کر ایک لاکھ تھکے ماندے لشکر سے حملہ کیا،
زبردست کشت و خوں کے بعد سلطان نے شکست کھائی اور تیمور نے اسے لڑتے ہوئے ذلت کے ساتھ قید کیا، اور شہر بہ شہر تشہیر کرائی، تیمور رافضی تعزیہ ساز نے اس ظلم سے اسلام کے غلبہ اور وقار کا خاتمہ کر دیا، تیمور کی تمام تزک و ساز اور فتح مندیاں مسلمان سلاطین کو زیر کرنے اور مسلمانوں کے شہروں میں ( موجودہ خمینی کی طرح)  قتل عام کرانے میں محدود رہیں اور اس کو یہ توفیق میسر نہ آ سکی کہ غیر مسلموں پر جہاد کرتا یا غیر مسلم علاقوں میں اسلام پھیلاتا،( اقتباسات از تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی صفحہ نمبر 478,481,491 وغیرہ) 
تزک تیموری سے پتہ چلتا ہے کہ تیمور عالم اسلام کی اس تباہی سے پچھتایا، عامۃ المسلمین نے اسے حقیر جانا، اس نے تلافی میں پہلی مرتبہ غیر مسلم ملک چین پر چڑھائی کی مگر راستے میں ہی مر گیا، آرزو فنا ہو گئی، مفتوحہ ممالک بیٹوں کی خانہ جنگی کی وجہ سے خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہو گئے، اب صرف تیمور کا نام اسکے ظالم آباء چنگیز و ہلاکو خان کے ساتھ یادگار رہے اور رہے گا، تعجب ہے کہ تعزیہ پرست اس موجد تعزیہ ظالم کو قومی ہیرو مانتے اور صاحب سیف و قرآن امیر تیمور باور کراتے ہیں، معاذاللہ 

اسماعیل صفوی کے مظالم

(20)تباہ شدہ سلطنت عثمانیہ کو اللہ نے پھر زندہ کیا اور سلطان محمد خان اول، سلطان مراد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ، سلطان محمد خان ثانی اور سلطان بایزید ثانی اور سلطان سلیم عثمانی جیسے کامیاب و مدبر حکمران کے ذریعے پھر عالم اسلام کی متحدہ قوت بنا دیا اور یورپ میں فتوحات زور و شور سے شروع ہو گئیں، لیکن دسویں صدی کے آغاز میں شاہ اسماعیل صفوی شیعہ حکمران بر سر اقتدار آ گیا، اس نے تمام ایرانی سنی اکثریت کے مسلمانوں کی مساجد اور مقابر شہید کرا دیے، بڑے بڑے علماء اور معززین کو سولی چڑھا دیا گیا،
خلفائے ثلاثہؓ پر تبّرا جمعہ کے خطبہ میں لازم کر دیا گیا جگہ جگہ سنی شیعہ فسادات کرائے، ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس لاکھ سنی مسلمان شہید کرائے اور باقی ماندہ کوشیعہ بننے پر مجبور کر دیا
کلیاتِ نفسی مؤلفہ سید نفیسی پروفیسر تہران یونیورسٹی میں لکھا ہے کہ ان سے سوال کیا گیا ایران جو سنی اکثریت کا ملک تھا وہ شیعہ اکثریت (60-65) میں کیسے تبدیل ہوا؟ 
تو پروفیسر مذکور نے جواب دیا: عہد صفوی میں سنیوں کا قتل عام کر کے ان کو جبراً شیعہ بنایا گیا، اسماعیل (صفوی) بن حیدر بن جنید بن ابراہیم بن خواجہ علی بن صدر الدین بن شیخ صفی الدین بن جبرئیل کے آباء واجداد سب سنی المذہب تھے، پیری مریدی کرتے تھے، شیخ صدر الدین نے سفارش کر کے تیمور کے ہاتھوں وہ تمام ترک قیدی آزاد کرا دیے جو اس نے سلطان یلدرم سے جنگ انگورہ میں پکڑے تھے وہ ہزاروں قیدی شیخ کے باصفا مرید بن کر یہیں رہ گئے اور شاہ اسماعیل تک اس کی سب اولاد سے وفا دار رہے اور اسماعیل کو اقتدار دلانے میں ان کی بڑی قربانیاں ہیں، 
اسماعیل نے ٫٫ حُب اہل بیتؓ،، کے نعرے سے سنی و شیعہ عوام کو ساتھ ملا کر اقتدار پا لیا تو علانیہ شیعہ اور رافضی بن گیا، پھر اپنے ترک مریدوں کی قوم سے جنگ کا منصوبہ بنایا اور پڑوسی ملک ترکی سلطنت عثمانیہ میں اپنے داعی، جاسوس اور ایجنٹ بھیج دئیے تا کہ اندرونی و بیرونی حملہ سے اس ملک کو ختم کر کے شیعہ سٹیٹ بنا لیا جائے مگر شاہ سلیم عثمانی کو اس سازش کا پتہ چل گیا اس نے اسماعیل صفوی کے سب ایجنٹوں کو ختم کر کے ایران پر دفاعی حملہ کیا، اسماعیل بھاگ گیا، سلطان نے اندرون ملک اس کا تعاقب کر کے خالدران کے مقام پر کامیاب جنگ لڑی اور نصف علاقوں پر اپنی حکومت قائم کر لی، 

شاہ سلیم اگر دوبارہ ایران جاتا پھر باقاعدہ شاہ صفوی جنگ لڑتا تو اس کا اقتدار ختم ہو جاتا، 
مگر شام و مصر کے سرحدی کشیدہ حالات کی وجہ سے شاہ دوبارہ ایران نہ جا سکا اور اسماعیل صفوی کے اس سازشی جال کی وجہ سے یورپ میں بھی شاہ سلیم اپنی فتوحات آگے نہ بڑھا سکا، 
اگر اسماعیل صفوی یہ حملے اور اندرون ملک سازشیں نہ کراتا تو شاہ سلیم کی مساعی سے آج براعظم یورپ اسلام کے زیر نگیں ہوتا لیکن ،
    "اے بسا آرزو کہ خاک شدہ"
جناب ابو ذر غفاری ٫٫نوائے وقت،، میں لکھتے ہیں
اس کے علاوہ اگر ایران کے صفوی شیعہ اور ترکی کے عثمانی سنی آپس میں لڑ کر خون کے دریا نہ بہاتے تو آج سارا یورپ مسلمان ہوتا،
مزید برآں اگر مغلیہ دور میں ہندوستان کے مسلمان سنی شیعہ جھگڑوں کی نذر نہ ہوتے تو آج سارے ہندوستان پر مسلمانوں کا غلبہ ہوتا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہر نازک موقع پر شیعوں نے اہل اسلام کو خنجر گھونپ کر کافروں کو بچایا ہے
موجوہ خمینی انقلاب اور ایران و عراق جنگ ٹھیک اسی پالیسی کے تحت ہے جو شاہ اسماعیل صفوی نے وضع کی تھی اس وقت ترکوں کو مار کر عیسائیوں کو بچانا مقصود تھا اب خاص معاہدے کے تحت امریکی اسلحہ اسرائیل جیسے دشمن اسلام سے لے کر عربوں کو ختم کرنا اور سامراجی طاقتوں کی مدد کرنا مقصود ہے،
اسلام کا نعرہ ٫٫ لا شیعہ ولا سنیہ،، مرگ بر اسرائیل، مرگ بر امریکہ، تو صرف ہاتھی کے دانت دکھانے کے ہیں،جن سے بدھو صحافیوں کو الو بنانا ہے اور اقتدار کے بھوکے مستقبل سے اندھے سیاستدانوں کو اور سادہ لوح مسلمانوں کو تقیہ اور ڈپلومیسی کے ذریعے اپنا ہم نوا بنانا مقصود ہے۔
اللہ اندھوں کو بینائی عطا فرمائے۔ 

(21) ایران کا عہد صفوی، ہند میں عہد مغلیہ کا معاصر ہے،
سب سے پہلے ہمایوں کے دور میں شیعہ کو ہند میں برآمد کیا گیا خاص معاہدہ سے قاضی نور اللہ شوستری جیسے غالی شیعہ کو قاضی القضاۃ بنایا گیا،
جس نے تشیع کی اشاعت میں ہر حربہ استعمال کیا،
سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ نے اپنی خداداد ایمانی فراست اور دیانت سے اسے محدود کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوا تبھی تو شیعہ اور ان کے بے دین ہمنوا عالمگیر کی شکایت کرتے ہیں،
مگر شیعوں نے ایک اور چال چلی عالمگیر کے بیٹوں کو رشتے دے کر بعض کو مائل بہ تشیع کر لیا،
پھر وہ اقتدار کی رسہ کشی اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت مغلیہ قریب الزوال ہو گئی، ادھر ہندو اور مرہٹے زور پکڑ گئے، جن کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کے میدان میں آ کر بیس ہزار افغانی سپاہ کی کمک سے ختم کیا، ادھر اودھ، لکھنؤ، دکن وغیرہ میں شیعہ راجوں نے آزاد ریاستیں قائم کر لیں، انگریزوں نے ایسے پاؤں پھیلائے کہ مسلمانوں کا اقتدار دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو کر رہ گیا 

 نادر شاہ درانی کا دہلی پر حملہ

(22) اس کمزوری کی وجہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی نیت سے ہمارے ہمدرد پڑوسی ایران کا نادر شاہ درانی بڑے لشکر کے ساتھ آیا
ایک مدبر امیر الامراء محمد امین خاں کے مشورے سے بہت سا خراج اور کروڑوں روپے نقد دینے پر صلح ہو گئی مگر اس کے شہید ہونے کے بعد ایک دوسرے غدار برھان الملک سعادت علی خان رافضی نے محض عہدہ بدلنے سے نادر شاہ کو غدر کرنے اور بادشاہ کو قتل کر کے دہلی کا خزانہ لوٹنے اور قتل عام کرنے کا پروگرام دے دیا، چنانچہ نادر شاہ نے لاکھوں مسلمانوں کو دہلی جامع مسجد میں شہید کیا، بادشاہ اور اسکے لڑکوں کی لاشوں پر تخت بچھا کر ناشتہ کیا اور دہلی کا سب خزانہ لوٹ کر لے گیا۔ نادر کے حملہ کو خراج تحسین شیعہ عورتیں تک پیش کرتی ہیں،
نادر شاہ کو شاہی خزانے سے ساڑھے تین کروڑ چاندی کی نقدی، ڈیڑھ کروڑ کی سونے کی تختیاں، پندرہ کروڑ کے جواہرات، گیارہ کروڑ کا تخت ہاؤس، پانچ سو ہاتھی، ہزار اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور شاہی خیمے قناتیں وغیرہ حاصل ہوئیں۔ 

آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے گرد بھی شیعہ جمع ہو گئے، جو درپردہ انگریز سے ملے ہوئے تھے اور اصل حالات کو شاہ سے مخفی رکھ کر سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کرادیا۔ مغلیہ دور میں سید برادران کا فتنہ مضمون میں محمد اسحاق قلبی آخری قسط میں لکھتے ہیں، بارھ کے بادشاہ پر رافضیوں نے اپنی آٹھ دس برس کی سازشوں، ریشہ دوانیوں سے ایک عظیم الشان مغلیہ سلطنت کو نیم جان کر دیا اور ان کے بعد تیسرے رافضی برہان الملک سعادت علی خان نے اپنی غداری اور نمک حرامی سے اس نیم جان مغلیہ سلطنت کی پشت میں ( نادر شاہ کے ہاتھوں) ایسا بھر پور خنجر مارا کہ وہ اٹھنے کے قابل ہی نہ رہی لیکن یہودیوں، نصرانیوں، زرتشتیوں، مجوسیوں اور عجمیوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ابوالفتح ناصر الدین محمد شاہ شہنشاہ کو محمد شاہ رنگیلا بنا دیا، 
انہوں نے لکھا کہ وہ عیاش تھا وہ ہنوز دلی دور است کہتا تھا،
اس لئے سلطنت مغلیہ برباد ہوئی، سبھی نے ان مکاروں بددیانتوں کی پھیلائی ہوئی خرافات پر یقین کر لیا اور اپنے اکابر کی برائی پر تل گئے،
اور یہ بھول گئے کہ یہ سب دشمن کی کارروائی ہے
(ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ اپریل 1986ء بحوالہ تاریخ فرشتہ) 
(23) نادر شاہ کے حملے کے بعد مسلمان انتہائی کمزور ہو گئے تو شیعہ و بے دین راجوں نے انگریز کی بالا دستی تسلیم کر کے اپنی ریاستوں کو ان سے اپنے نام الاٹ کروالیا 
آج بہت سے جاگیریں، نوابوں، خانوں، اور ملکوں کے پاس انگریزی عطیات ہیں، لیکن غیور اور مسلمان نوابوں اور سلاطین نے انگریزی سے ٹکر بھی لی، ان میں سرفہرست میسور کا راجہ سلطان ٹیپو شہید بن حیدر علی ہے جو شاہ ولی اللہ خاندان کا معتقد، اہل توحید و سنت سے وابستہ اور انگریزوں کا کٹر دشمن تھا،یہ جب انگریزوں سے خود جنگ لڑ رہا تھا تو شیعہ کماندار نے غداری کر کے سلطان کو شہید کر دیا جیسے اسی طرح بنگال میں میر جعفر نے غداری کر کے انگریزوں کو اقتدار دلا دیا اسی لیے یہ شعر زبان زدِ عام ہے:
جعفر از بنگال و صادق از دکن،
ننگ دنیا ننگ دین ننگ وطن,

انگریز اور شیعہ

جناب ابو ذر غفاری صاحب نوائے وقت میں رقم طراز ہیں:
انگریز تو مسلمانوں کی اس کمزوری کاخوب فائدہ اٹھاتا تھا۔ 1799ء میں شاہ افغانستان نے سلطان ٹیپو کی مدد کا ارادہ کیا تو انگریز نے افغانستان پر ایران سے حملہ کروا دیا اور اس نے انیسویں صدی میں یہ منصوبہ بنایاتھا کہ وہ ایران کو مضبوط بنائے گا تاکہ وہ اپنے سنی ہمسایوں کے خلاف برسر پیکار رہے۔( گویا میر صادق جعفر کی ٹیپو سے  غداری ایران کی سازش تھی )
انگریز شرانگیز جب جنگ آزادی 1857 کے بعد پورے برصغیر پر چھا گیا اور مسلمانوں نے اس کے خلاف تحریک آزادی جاری رکھی اور قتل، قید و بند اور جلا وطنی کی سزائیں مجاہدین کو ملتی رہیں۔ تاریخ سے ہمیں پتا نہیں چلتا کہ کسی شیعہ عالم لیڈر یا نواب نے
نے انگریز کے خلاف کام کیا ہو یا کوئی تکلیف پائی ہو۔ بلکہ یہ لوگ قادیانیوں کی طرح انگریزوں کو اپنے لیے رحمت کا سایہ سمجھتے تھے کیونکہ مذہبی آزادی کی آڑ میں انھوں نے جس بدعت اور شرکیہ کام کو چاہا اس کے لیے باقاعدہ لائسنس اور اجازت نامہ حاصل کر لیا تا کہ ٹوکنے والے علماء دین کا بھی منہ بند ہو جائے اور وہ ان شر سے بھر پور رسوم سے اپنے جعلی مذہب کو پھیلا سکیں۔
یہ تعزیے، ذوالجناح، دلدل وغیرہ کے جلوس انگریزی دور کی پیداوار ہیں  جو " لڑاؤ اور حکومت کرو"  کی پالیسی کے تحت اس نے اپنے وفاداروں کو عنایت کیے ۔
چنانچہ لاہور کا شیعہ مجتہد علامہ حائری اپنے کتابی سائز کے رسالہ کے صفحہ نمبر 123 پر یہ لکھتا ہے: انگریزی حکومت ہمارے لیے سایہ رحمت ہے کہ اس کی پناہ میں ہم اپنی مذہبی رسوم آزادی سے بجا لاتے ہیں ۔ 
ابھی 1986ء میں شریعت بل کے خلاف شیعہ نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ اس کے نفاذ سے ہماری وہ رسوم اور حقوق ختم ہو جائیں گے جو انگریز نے دیئے تھے۔ جو اعمال و رسوم قرآن وسنت نبوی ، فتویٰ اہل بیتؓ سے ثابت نہ ہوں بلکہ خود ساختہ ہوں  بدعت اور شرعاً ممنوعہ ہوں۔ ان کے جواز کی سند غیر مسلموں سے لینا اور پھر ان پر مسلمانوں سے لڑنا جھگڑنا یہ کفر کی حمایت نہیں تو کیا مسلمانوں سے وفاداری ہے؟ 

تاریخ پاکستان

انگریز  کے خلاف صدی بھر  سے صرف سنی مسلمانوں کی جنگ آزادی کامیابی سے ہمکنار ہونے لگی اور انگریز نے وطن چھوڑنا چاہا تومسلمانوں کی غالب اکثریت نے نعرہ پاکستان کا ساتھ دیا اور اپنی رواداری اور بے تعصبی سے  یہ سوال ہرگز نہیں اٹھایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کس خاندان اور مذہب سے وابستہ ہیں ۔ چنانچہ معمارِ پاکستان  مفسرِ قرآن، خطیب ہند مولانا شبیراحمدعثمانیؒ اور ہزار کتابوں کے مصنف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ دیوبندی نے اہل سنت کے سٹیج سے اپنے لاکھوں شاگردوں اور مریدوں کے ساتھ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ 
چائگام سے پشاور تک طوفانی دوروں سے مسلم رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں قائل کیا۔ تبھی تو
1946 کے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیابی ہوئی پھر بریلوی مکتبہ فکر نے بھی بنارس کا نفرنس کر کے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ 
اگر علمائے دیوبند اور مذہبی گروہ کی تائید نہ ہوتی تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔ عام پروپگینڈہ یہ ہے کہ پاکستان کا تصور سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم المتوفی 1938ء نے پیش کیا اور 1940ء میں قرار داد پاکستان کے بعد مسلم لیگ نے مطالبہ اورتحریک شروع کی۔ لیکن ہم کہتےہیں کہ یہ تصور انگریز سے صد سالہ جنگ لڑنے والے گروہ کے بوریا نشین نے پیش کیا ۔ 
تعمیر پاکستان اورعلماء ربانی صفحہ 41 پر منشی عبدالرحمن لکھتے ہیں:  جون 1928ء میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ تھانہ بھون میں حضرت تھانوی رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مولانا اشرف علیؒ نے یہ فرمایا ” دل یوں چاہتا ہے کہ ایک خطہ پر اسلامی حکومت ہو سارے قوانین وغیرہ کا اجراء احکام شریعت کے مطابق ہو ۔ پھر 1938ء میں فرمایا' میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتارہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جاویں گے ۔ انشاءاللہ(ص 64)
میں نے جو اعلان کیا ہے اس میں مںسلم لیگ کی حمایت کی ہے اور مسلم لیگ کا حامی ہوں۔
(اسعدالابرارص120 از مولانا ابرارالحق حقی ، بحوالہ اظہارالعیب ص 203٫204 ، مولانا سرفراز خان صفدر) 
انہی خدمات کے صلہ میں کراچی میں مولا عثمانی کو اور ڈھاکہ میں مولانا اختر سلہٹی کو پاکستان کی پرچم کشائی کا اعزاز بخشا گیا اور یہ دونوں دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت تھے اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خاص ساتھی اور معتقد تھے۔ اس لیے کسی بھی گروہ کا بار بار یہ طعنہ دینا کہ دیوبندی مخالف پاکستان یا کانگرسی ہیں ایک بد دیانتی اور غلیظ جھوٹ ہے۔ جو طبقہ مخالف تھا وہ مسلمانوں یا پاکستان کا مخالف ہرگز نہ تھا وہ سب ملک ہند کو اپنا وطن جانتا تھا۔ وہ چاہتا تھا تقسیم ملک نہ ہو کہ دہلی ہی حسب سابق مسلمانوں کا دارالسلطنت ہو جن سے انگریز غاصب نے اقتدار چھینا تھا اور اب انھوں نے ہی غاصب کو جنگ کر کے نکالا تھا۔ یہ جذبہ ملک سے محبت کی دلیل تھی جسے اب ہم تقسیم پاکستان کا تصور نہیں کر سکتے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر افسوس کرتے ہیں۔ اس منفی تصور نے 17 کروڑ انڈین مسلمانوں کو وہاں تحفظ دیا ہے اور لوک سبھا میں وہی علماء ان مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں ورنہ ان کو وہاں کون رہنے دیتا؟ پاکستان توان کا تحفظ نہ کرسکا تھا۔ اب اس فضول بحث کہ فلاں مخالف  تھا فلاں موافق کوختم کرناچاہیے۔
یہاں کے بھی باشندے پاکستان کے وفادار شہری ہیں۔ سب کو امن سے زندگی گزارنے کاحق ہے ورنہ ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ شیعہ تاریخ گواہ ہے انھوں نے کفر و اسلام کی ٹکر میں کبھی مسلمانوں کاساتھ نہ دیا برصغیر میں بھی انگریز کے خلاف جنگ آزادی، تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ریشمی رومال وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر کوئی قربانی نہ دی بلکہ تقیہ و جاسوسی کا کردار اداکرتے رہے. تحریک پاکستان میں بعض شیعہ وکیلوں اور علماء نے اس لیے شرکت کی کہ حسن اتفاق سے وہ قائد کو اپنا ہم پیشہ اور ہم مذہب سمجھتے تھے کامیابی پر انتظامی کلیدی آسامیوں پر پہنچنا مقصود تھا۔ پاکستان بننے پر ان کو وہ حاصل ہو گیا ۔
لیکن سنی مسلمانوں کا مقصد صرف اسلامی حکومت کا قیام اور نفاذ شریعت محمدی تھا۔ قائداعظم گو شیعہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ کٹرمذہبی اور فرقہ پرست نہ تھے سیکولر ذہن رکھتے تھے۔ 
مولانا شبیر عثمانیؒ نے ترجمہ قرآن پڑھا کر ان کا ذہن اسلامی بنادیا تھا۔ پھر وہ برابر مسلمانوں کو تقریروں میں قرآن وسنت اور خلافتِ راشدہ کے نظام کا حوالہ دے کر اپنی طرف کھینچتے تھے ۔ اب علماء اہلسنت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ 
شیعہ کی مخالفت غیرقانونی اور نظریہ پاکستان کو ختم کرنے والی ناجائز حرکت ہے۔ وہ شریعت  کا قانون نافذ ہونے دیں اور پبلک لاء تمام بین الاقوامی دساتیر کے مطابق اکثریت کی فقہ کو بننے دیں ۔ 
ہاں اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی بات ضرور کریں مگر اپنی ساخت اور بھگوڑے انگریز کی نسبت سے نہیں۔ بلکہ خالص قرآن وسنت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و  جعفرصادقؒ کی تعلیمات کے حوالہ سے ہم علماء اہلسنت دیوبند ضمانت دیتے ہیں کہ  شیعوں کو تعلیم اہل بیتؓ پر مبنی حقوق یقیناً مل کر رہیں گے ۔
میں اپنی ملکی بات میں دور چلا گیا۔ مناسب نہیں جانتا کہ پاکستان میں شیعی کردار پر روشنی ڈالوں ورنہ ہر کسی کو پتہ ہے کہ سکندر مرزا رافضی اپنی ایرانی بیوی کی ایماء پر بلوچستان کی داد سخاوت کہاں کر رہاتھا کہ صدر ایوب خان مرحوم نے بروقت ملک سنبھال لیا۔
1971ء کے انتخابات کے بعد "ادھر ہم ادھر تم " کا نعرہ  لگا کر مشرقی پاکستان کو کس نے الگ کیا ۔
پھر مے نوش یحییٰ خاں رافضی نے فوجی ایکشن کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرا کر اسے ہمیشہ کے لیے ہم سے الگ کر کے بنگلہ دیش کیسے بنادیا؟
اور اب زکوۃ و عشر کا انکار کرکے نفاذ اسلام و شریعت بل کی ڈٹ کر مخالفت کون کر رہا ہے؟
روسی کمیونسٹ نظام اپنانے اور خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟
یہ صرف سبائی فرقہ ہے جو اپنے اس طویل تاریخی سفرمیں ہر منزل پر مسلمانوں کا راہزن ثابت ہوا ہے۔
ہمدرد اور حامی کبھی نہیں رہا۔ اس لیے ہمیں حالیہ ایرانی شیعی انقلاب اور شدید کشت وخون پر اور اسے دیگر مسلم ممالک میں برآمد کرنے کے عزائم پر کچھ تعجب نہیں۔ 
ہلاکو خان اور کو اپنا ہیرو ماننے والے خمینی پرست مسلمانوں کی  یہی خدمت کر سکتے ہیں۔ کاش ہماری بھولی بھالی بھیڑ چال چلنے والی مسلم قوم کو سمجھ ہوتی۔

ایرانی انقلاب پر ایک نظر

ایرانی کا انقلاب تاریخ کا حیران کن واقعہ ہے۔ ایک بوریہ نشین نے ایک شہنشاہ کا تختہ الٹ دیا اس لحاظ سے ایرانی عوام کی جدو جہد اور آیت اللہ خمینی اپنے تاریخ ساز کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اس پر اہل قلم نے مثبت و منفی بہت کچھ لکھا ہے اور جب تک ظلم سے خون کی ندیاں بہتی رہیں گی انکی روشنائی سے یہ داستان کشت و خون مؤرخ لکھتا جاۓ گا۔
 خمینی ایک قد آور عالم تھا بے دین اور مغرب پرست شاہ ایران کی مخالفت کی وجہ سے 17 سالہ جلاوطنی اور قوم سے بذریعہ کیسٹز پیام اور رابطہ کی وجہ سے اس کی شخصیت اہم سیاسی بن گئی دہلیزِ اقتدار پر لانے کے لیے سنی شیعہ سب ایرانی مسلمانوں نے زبردست قربانی دی بظاہر ان میں مذہب سے لگاؤ پیدا ہوا مغربیت، بے پردگی اور لادینی کا سیلاب  تھم گیا اسی وجہ سے دیندار مسلمان اس کی نشریاتی چکا چوند سے مرعوب ہو گیا اور اسلامی انقلاب کے عنوان سے دنیا کے ذرائع ابلاغ نے خوب تشہر کی حالانکہ یہ خالص شیعی آمرانه در پرده روسی مسلم کش ظالمانہ انقلاب ہے ۔ ایران جاکر مشاہدہ کرنے والوں کے تاثرات اور عام اخباری بیانات کی روشنی میں مشتے نمونہ از خروارے چند نقائص ہم عرض کرتے ہیں:-

1۔خمینی انتہاء پسند اور جابر ہے۔ اقتدار پاکر اپنے ہم سفروں کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا۔ بنی صدر جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ صادق قلب زادہ قتل ہوئے ۔ آیت اللہ شریعت مدار کاظم کو کردار کشی کر کے نظر بند کر دیا وہ سات سال بعد 1986  قید ہی میں وفات پا گیا عوام الناس کو ان کا جنازہ پڑھنے کی اجازت نہ ملی حالانکہ وہ خمینی سے بڑھ کر شیعہ کے مذہبی راہنما تھا۔ اسی طرح شیعہ عالم خاقانی عہد شاہی کے 14 سالہ قیدی امام قمی 7 سالہ قیدی امام زنجانی بھی قید میں، حالانکہ یہ شاہ کے خلاف خمینی تحریک کے ہر اول دستے تھے مگر اب خمینی کے مقہور و مظلوم ہیں۔ ذرا سا خمینی سے اختلاف رکھنے والے لاتعداد علماء جیلوں میں قید اور درگور ہوگئے جس سے وہ ڈکٹیٹر بادشاہ ظالم بن چکے ہیں۔
2 ۔ سیاسی مخالفت میں فوج کے بڑے بڑے افسروں انتظامیہ کے عہدیداروں کو سینکڑوں کی تعداد میں شاہ نوازی کے الزام میں تہہ تیغ کرنا زبردستی قومی و ملکی نقصان سفاکانہ قدم ہے ازروئے معاہدہ سرکاری ملازم وقتی حکومت کے وفادار ہوتے ہیں انٹرنیشنل قانون یہی ہے بعد کی انقلابی حکومت سب سرکاری ملازمین کو قتل و غارت کی سزا دے یہ کسی اسلامی جمہوری شخصی حکومتوں کے ہاں بھی جائز نہیں،  یہی وجہ ہے کہ ایران کو اس کا زبردست خمیازہ بھگتناپڑا۔ اپنے سے ہرلحاظ سے 4/3 حصہ کم عراق سے طویل جنگ میں ایران نہ غالب آ سکا نہ پورے علاقے  واپس لے نہ سکا حالانکہ اسرائیل بھی پشت پناہ ہے۔ 
♦️ل 3۔ سفاکی اور بے رحمی کی یہ بھی انتہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کے جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ سے سینکڑوں ہنس مکھ چہرے لاشوں میں تبدیل کردیئے جائیں خمینی کے قدیم قید و جلاوطنی کے ساتھی ڈاکٹر موسیٰ موسوی اصفہانی الثورة البائسہ ص 182 پر لکھتے ہیں "ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ خمینی رحم و کرم سے بہت دور اور شر سے نزدیک ہیں اور قتل و غارت میں انھیں مزہ آتاہے کہ نو عمر جوانوں کو بھی ان کی تلوار نہیں بخشتی چنانچہ تین ماہ کے اندر تین ہزار مسلمان نوجوان مرد و عورت مرگ بر خمینی کہنے کے جرم میں تہہ تیغ کیے گئے."
4۔  تین لاکھ پاسداران انقلاب کو کرفیو آرڈر کی طرح یہ اجازت دینا کہ جو کوئی انقلاب پر ذرا تنقید کرے اسے وہیں ڈھیر کر دو اس طرح سینکڑوں علما، طلبہ، مزدور مجاهدین خلق اور اہل سنت مسلمان لاکھوں کی تعداد میں تڑپائے گئے۔ یہ لینن اور ہٹلر کا شیوہ ہے۔ فاتح مکہ حسنین رضی اللّٰہ عنہما کے نانا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت ہرگز نہیں ہے۔ 
ڈاکٹر موسیٰ مذکور بدترین انقلاب 190 پر لکھتے ہیں خمینی نے تحریک کے دوران برسر اقتدار شاہ کے متعلق کہا خود قتل کرنے والے سے قصاص لیا جاتا ہے قتل کا حکم دینے والے سے نہیں سخت تعجب ہے کہ یہ بات کہنے والا اپنی حکومت کے چار سالوں میں چالیس ہزارانسانوں کا قتل کرتا ہے جن میں بوڑھے نوجوان عورتیں سبھی ہیں جرم صرف یہ نعرہ ہے حریت زندہ باد ، استبدادیت مردہ باد ۔ اس نے ہزاروں کردوں عربوں بلوچوں اور ترکمانوں کو اس پر قتل کرایا کہ وہ شاہ کے زمانے سے مغصوبہ حقوق چاہتے ہیں۔
  5 ۔ اختر کاشمری کے سفرنامہ ایران کے مطابق اپنے کاسہ لیس مذہبی طبقہ کو عوام پر ایسے مسلط کرنا کہ وہ کارڈ کے ذریعے لمبی لائنوں میں لگ کر اشیائے خوردنی حاصل کریں اور کارڈ صرف وفاداری کی سند اور جان بچانے کی ضمانت سمجھا جاۓ اور غیر موافق محروم رہیں سوشلسٹ نظام کا چربہ ہے۔
6۔ ایران عراق جنگ کو صرف ضد اور انا کی وجہ سے طول دینا، لاکھوں افراد کو آگ میں جھونکنا، اسلامی امۃ کمیٹی، اسلامی ممالک غیرجانبدار ممالک سلامتی کونسل کسی کی بھی بات نہ ماننا اور صلح پرآماده نہ ہونا بلکہ ہر 15 سے 20 دن بعد تازه خونزیر عراق پر حملہ کرنا حالانکہ وہ صلح کی بارہا اپیل کر چکا ہے ۔ سفاکی اور درندگی ہے۔ قرآن کے قطعی خلاف ہے . قرآن کہتا ہے کہ صلح بہتر ہے ۔ (نساء) مومن بھائی بھائی ہیں۔ بھائیوں کے درمیان صلح کرادو (حجرات) دشمن صلح چاہے تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو..انفال ۔ کسی قوم سے دشمنی تمہیں بے انصافی پر آمادہ نہ کرے تم عدل کرو یہی تقوی کی بات ہے۔
   7۔ ایرانی آئین میں مذہب شیعہ کو سرکاری مذہب قرار دینے پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن ہم 40 فیصد اہلسنت کے بالکل مذہبی حقوق چھین لینا بے انصافی ہے۔ تہران میں دس لاکھ سنیوں کومسجد بنانے کی اجازت تک نہ ہو، شیعہ امام ہی دوسرے صوبوں میں زبردستی امام بن جائے بلوچستان وغیرہ اکثریتی صوبوں میں اکثر شیعہ ٹیچر مقرر کر کے بچوں کو مذہب سے برگشتہ کیا جائے سرکاری ملازمتوں میں سنی تھانیدار و کپتان تک نہ ہو۔ پارلیمنٹ میں ان کا وجودہ نہ ہونے کے برابر ہو وہ اپنا مذہبی لٹریچہ نہ خود چھاپ سکیں نہ پاکستان و ممالک عربیہ سے منگوا سکیں
خلفا راشدین رضی اللّٰہ عنہم کی مدح اور مذہبی تبلیغ میں آزاد نہ ہوں یہ اسلامی حکومت کا کام نہیں ۔
8- جو سنی مسلمان اپنے مذہبی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کریں ان کو بغاوت کے بہانے کچلا جائے جیسے بیس ہزار کے قریب کردوں کو مارا گیا، ایرانی بلوچستان اور زہدان میں رمضان شریف تک میں بمباری ہوئی، ایران کے ایک عالم دین راقم کو لاہور جولائی 1985 میں ملے تو بتایا کہ ہمارے جوان یا قتل ہو چکے ہیں یا قید میں ہیں۔ صرف بوڑھے اور عورتیں گھروں میں ہیں، میں نے کہا پتہ دیجئے میں اپنی تصانیف کاسٹ بھیجوں گا فارسی میں ترجمہ کرواکر اپنے صوبے میں پھیلا دینا، وہ بھرائی آواز میں کہنے لگے ایسا ہرگز نہ کریں، میری شامت آجائے گی، ہم مذہبی کتاب نہ خود چھاپ سکتے ہیں نہ باہر سے منگوا سکتے ہیں۔
  9۔ یہ خاص شیعہ انقلاب ہے، خمینی کٹر متعصب اور غالی شیعہ عالم ہے۔ اس نے اپنی کتاب ٫٫کشف الاسرار،، میں صحابہ کرامؓ خصوصاً خلفاء راشدینؓ پر جگہ جگہ زہر اگلا ہے اور ان پر تبرا کرکے مخالفت قرآن کے جعلی اتہامات (الزامات) لگائے ہیں۔ میں وہ حوالہ جات نقل کرکے قارئین کو پریشان نہیں کرنا چاہتے مختصر یہ کہ وہ صفوی دور کے انتہائی بد زبان مصنف ملا باقر مجلسی کے مقلد ہے اس کی تبراءِ صحابہؓ پر مشتمل کتابوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں جن کے فحش حوالے راقم نے اپنے رسالہ فقہ جعفریہ اور مسلمان اور تحفہ امامیہ اور عقائدالشیعہ وغیرہ میں دیئے ہیں۔ 
خمینی کے ایسے اقوال تسلیم کرنے سے بقول مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ قرآنی آیات اور متواتر احادیث کی تکذیب ہوتی ہے۔ رسول پاکﷺ پر نااہلیت کا الزام آتا ہے، قرآن مجید قابل اعتبار نہیں رہتا، اس پر ایمان ناممکن ہوجاتا ہے سب سے سنگین ترین بات یہ کہ خمینی کی یہ باتیں اسلام اور رسول خدا کی صداقت کو مشتبہ اور مشکوک بنادیتی ہیں، بلکہ خمینی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کی ناکامی کا صاف اعلان کیا ہے۔
امام مہدی کی ولادت کے موقع پر یہ کہا ہے کہ ٫٫امام زمان معاشرتی انصاف کے لیے اس پیغام کے حامل ہوں گے جو تمام دنیا کو بدل دے گا یہ وہ فریضہ ہے جس میں پیغمبر اسلام محمدﷺ بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے اگر ہمارے نبی کے لیے جشن مسلمانان عالم کے پُر عظمت ہے تو جشن امام زمان تمام انسانیت کے لیے عظیم ہے میں ان کو لیڈر نہیں کہ سکتا کیونکہ وہ اس سے ماورا ہیں میں ان کا اول نہیں کرسکتا کیونکہ ان کا ثانی نہیں ہے،،
 (ترجمہ تہران ٹائمز ص 1 مؤرخہ 29 جون 1980)۔ حالانکہ یہ کھلا ہوا کفر ہے۔
 ایک بیان میں یہ کہا کہ میرے جانباز صحابہ رسول سے زیادہ قربانیاں دیتے ہیں، صحابہء رسول تو جنگوں میں بھاگ جاتے تھے اور میرے جاں نثار ساتھی ہزاروں کی تعدادمیں جانیں قربان کر رہے ہیں، 
(معاذاللہ)۔

خمینی اپنے ائمہ کو تمام انبیاء و رسل اور ملائکہ مقربین سے افضل بتاتے ہیں

ومن ضروریات مذھبنا ان لِأَئِمتنا مقاما لایبلغہ ملک مقرب ولا نبی مرسل (الحکومۃ الاسلامیہ ص 52)

ترجمہ: ہمارے مذھب شیعہ کا یہ بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے، کہ ہمارے آئمہ کا درجہ اتنا بڑا ہے کہ اس تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل (رسول اللہﷺ بھی) نہیں پہنچ سکتا۔
ان تمام باتوں سے شیعہ اور خمینی کا اپنا ایمان و اسلام ثابت نہیں رہتا تو انکا انقلاب اور نظامِ حکومت کیسے اسلامی کہلاۓ۔
 بغیر ولی اور گواہوں کے مقررہ وقت کیلیۓ کسی عورت سے جنسی معاہدہ متعہ کہلاتا ہے جو شیعہ مذہب کا سب سے بڑا کار ثواب عمل ہے، لیکن یہ اتنا حیاسوز اور قاتلِ غیرت ہے کہ مذھب شیعہ پر بدنما داغ ہے اسی لیۓ بعض شیعہ اسے جزو مذہب ماننے سے ہچکچا رہے ہیں
(انوار نجف)۔
لیکن خمینی تحریر الوسیلہ میں متعہ کے متعلق چار صفحات سیاہ کرنے کے بعد ایرانیوں کے کردار کو یوں سیاہ کرتا ہے۔

یجوز التمتع بالزانیۃ علی کراھۃ خصوصا لو کانت من العواھر المشھورات بالزنا۔
(تحریر الوسیلہ ص 292 ج 2)

ترجمہ۔۔۔۔
بدکار عورت سے متعہ کرنا جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ خصوصاََ جبکہ وہ مشہور پیشہ ور طوائف ہو۔
 اور حضرت عمرؓ کے متعلق خمینی کہتا ہے، عمرؓ نے متعہ کے حرام ہونے کا جو اعلان فرمایا وہ انکی طرف سے قرآن کی صریح مخالفت اور انکا کافرانہ کردار و عمل تھا معاذاللہ۔
تبصرہ : حضرت عمرؓ نے تو قرآن و سنت سے حرمت متعہ والا آرڈیننس جاری فرمایا تھا لیکن کیا کریں، متعہ باز کو شیعہ جب اپنے ائمہ و رسولﷺ کے برابر درجہ دیتے ہیں،  تو وہ عمرؓ کو گالیاں کیوں نہ دیں۔
 شیعہ کی قدیم مستند تفسیر منھج الصادقین (پ 5 ص 176 ج 1 ) میں ہے کہ ٫٫حضورﷺ نے فرمایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے وہ امام حسینؓ کا درجہ پائیگا اور جو شخص چار مرتبہ متعہ کرے وہ میرا درجہ پائے گا معاذاللہ، اور جو پانچ دفعہ کرے یا ہمیشہ کرے تو ؟؟؟؟؟
10۔  خمینی کو چاہیے تھا کہ وہ انقلاب برپا کرنے کے بعد عالم اسلام سے دوستانہ تعلقات بڑھاتے اور اپنے وقار اور حدود انقلاب میں اضافہ کرتے لیکن شدید شیعی تعصب کی بناء پر اپنا جذباتی توازن برقرار نہ رکھ سکے، ہر اسلامی ملک کی کردار کشی اپنے ذرائع ابلاغ سے شروع کردی، جن جن علماء اور مندوبین کو انقلاب کی سالگرہوں پر بلایا سب کو اپنے اپنے ملک میں بغاوت پھیلانے اور ایرانی انقلاب برپا کرنے کا وعظ کیا۔
تیل کی آمدنی کا ساتواں حصہ اس غنڈہ گردی اور سازشی کاروائیوں کیلئے وقف کردیا۔ 
پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا،  انڈیا کی حمایت کی، سعودی عرب اور دیگر ممالک عربیہ کے خلاف وہ تیزوتند پروپیگنڈا کیا اور مسلمانوں کو انکے خلاف ابھارا، گویا سب سے بڑے یہودی اور کافر معاذ اللہ یہی ہیں۔
عراق میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کرائی،  نتیجتاً عالم اسلام پر جنگ مسلط ہوگئی،  پاکستان کے شیعوں کو تھپکی دی کہ ضیاءالحق کی حکومت کا تختہ الٹ کر شیعہ انقلاب برپا کرو، چنانچہ ان وطن فروش بزور جہر نے 1980ء میں اسلام آباد کا گھیراؤ کرکے اور زکوٰۃ و عشر اور شرعی حدود کا انکار کرکے اسلام اور پاکستان کی خوب رسوائی کی مگر خمینی کے منظورِنظر بن گئے، اور اب تک ایرانی تیل اور کمک کی بناء پر فقہ جعفریہ کے مطالبات کی آڑ میں بڑے بڑے جلسے جلوس نکال کر، دھمکیوں اور خفیہ کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
غضب یہ ہے کہ 6 مئی 1985 میں پاکستان کے مرکزی چار شہروں میں شیعی احتجاج کا پروگرام بنا، کوئٹہ میں ایران کی مسلح مداخلت اور اسلحہ سے بھرے ہوئے ٹرکوں کی گرفتاری، طشت ازبام ہوگئی، پولیس پر بے پناہ ظلم ہوا کہ لاتعداد سر کاٹ کر درختوں پر لٹکائے گئے، فوج آئی سات دن بعد حالات قابو میں آئے، 230 ایرانی غنڈوں کو مقدمہ چلائے بغیر ایرانی حکومت کے حوالے کیا گیا اور مقامی مجرموں کو زندان میں ڈالا گیا، وزیر داخلہ نے سب کچھ بتایا تھا لیکن انتظامیہ نے اس بغاوت کا کچھ نوٹس نہ لیا بلکہ ملوث ہزارہ قبیلے کے ایک اہم فرد کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا، مقدمات داخل دفتر ہوگئے، پولیس کی گردنیں کاٹنے والوں کو سولی کی سزا کیا ملتی وہ تو سرکاری مہمان تھے، اب اپریل 1986ء میں شیعوں کے احتجاج یا دباؤ سے باعزت بری کردیے گئے، 

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

 11۔ یہ انقلاب اسلام سوز اور مسلم کش صیہونی انقلاب ہے، ایک عمامہ بردار ایرانی بزرگ فرماتے ہیں ٫٫ایران کے قائد انقلاب کے کام کو تمام انبیاء کے کام پر ترجیح دینا خدا کے نام کے بعد صرف انکے نام لینے کی تعلیم دینا، اقوال رسول اور اقوال امیر علیہ السلام کی جگہ قائد انقلاب کے اقوال لکھنا، پڑھنا، بولنا، سننا، اور سنانا، کلمۂ اسلام کے دوسرے جزء کو مٹا کر پیغمبر اسلام کے نام نامی اسم گرامی کی جگہ قائد انقلاب کا نام لینا اور اس طرح ایک نیا کلمہ وضع کرنا (لا الہ الااللہ الامام الخمینی حجۃاللہ) 
اپنے سوا تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھنا عالم اسلام کے موجودہ نقشےکو بدلنے کیلئے جدو جہد کرنا، کعبۃ اللہ پر قبضہ کیلئے لوگوں کو تیار کرنا اور اس عمل کو جہاد کا نام دینا  مسلم سربراہان حکومت کو کافر قرار دی کر انکی حکومت کا تختہ الٹنےاور انکی حکومتوں کو ختم کرنے کیلئے قوم کو آمادہ کرنا،  مسجدوں میں کیمرے نصب کرنا، تصویریں اتارنا اور اتروانا مسجد میں جوتوں سمیت جانا اور محرابِ مسجد میں تصویریں بنانا یا چسپاں کرنا، مسجدوں میں بیٹھ کر سگریٹ نوشی کرنا، اپنے مخالفوں کو کافر کہہ کر انکی قبریں اکھاڑنا اور لاشوں کو غیر مسلموں کے قبرستانوں میں ڈالنا، اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کو مقدمہ چلائے بغیر گولی ماردینا، شہریوں کا رزق درباری مولویوں کے ہاتھ میں دے دینا، اشیائے ضرورت کی راشن بندی کرکے عورتوں، بچوں، اور بوڑھوں کو بازاروں میں لانا اور قطاروں میں کھڑا کرنا، زنا جیسی قبیح بیماری کو مذھبی تحفظ دینا، ولدیت کی جگہ اسم مادر کو لازم قرار دینا، کمسن اور معصوم بچوں کو قتل کرنا، جھوٹے الزامات اور تہمتیں تراش کر انسانوں کو زندگی سے محروم کرنا، نمازیوں کی جماعت پر صرف اس لئے گولی چلانا کہ وہ سرکاری مولویوں کی اقتداء میں کیوں نہیں کھڑے ہوئے، آیت اللہ شریعت مدار جیسے امام برحق کو منافق کہہ کر نظر بند کرنا قائد انقلاب کی تصویر کی پوجا کرنا، (حرمین شریفین میں اس بت کی نمائش کرنا) انکے سامنے انکے نام کا کلمہ پڑھنا، اگر یہ اسلام ہے تو بتاؤ ضد اسلام کیا ہے؟؟ 
یہ اسلامی انقلاب ہے تو بتاؤ صیہونی انقلاب کیا ہوتا ہے؟؟(بروایت اختر کاشمیری از آتش کدہ ایران ص 102 ص 103)۔
12۔ ایران اسرائیل سے اسلحہ لیکر عالم اسلام کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
1۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے عرب دشمنی کی بنا پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا سمجھوتہ کیا ہے مگر اسرائیلی قانون انہیں اس سمجھوتے کی تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا اسی لئے وہ کسی خبر کی تردید یا تائید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
2۔ ایران کے سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے حکومت ایران کو اس معاہدہ سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو اسرائیل اس قسم کے معاہدہ کرنے کے بجائے عربوں سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے لیکن امام خمینی نے انکی بات نہ مانی اور انکے حکم پر حکومت ایران نے اسرائیل سے معاہدہ کرلیا ۔ 
3: اکیس اکتوبر 1980ء کو پیرس کے ایک جزیرے کے نزدیک نے اپنے نمائندۂ خصوصی مقیمِ تہران کا جو مکتوب شائع کیا اسمیں یہ انکشاف کیا گیا تھا  کہ اسرائیل کے سِوِل اور فوجی ماہرین کا ایک وفد تین دن کے دورے پر تہران آیا، اس وفد کا مقصد ایران کی دفاعی ضروریات کا اندازہ لگانا تھا تاکہ ایران کو اسکی ضرورت کے مطابق امریکی اور اسرائیلی ساخت کے پرزے اور دوسرا سامانِ جنگ فراہم کیا جاسکے ۔ 
4 نومبر کو برطانیہ کے اخبار آبزرو میں تہران کے مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ عراق سے جنگ کیلئے اسرائیل نے ایران کی بندر گاہوں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا ہے ۔
  5۔ تین نومبر مغربی جرمنی کے اخبار ڈائی ویٹ میں جو تفصیلی خبر شائع ہوئی اسکے آخر میں یہ ہے کہ اسرائیل نے یہ سامان بحری راستے سے ایران کو پہنچایا، نیز اسرائیل ایران کو  سامانِ جنگ مہیاء کرنے کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ 
  6۔ ایران اسرائیلی معاہدے کی خبر جب دنیا بھر میں پھیل گئی تو 21 جولائی 1981 کو اسرائیل کے رسالہ معارف نے لکھا کہ ٫٫ایرانی حکومت نے اسرائیل سے براہ راست اور مختلف ایجنسیوں کی وساطت سے مختلف النوع اسلحہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، اور بڑی مقدار میں فاضل پرزے بھی منگوائے ہیں،،  (بحوالہ آتش کدہ ایران ص98 ص99 از اختر کاشمیری)
 حقیقت یہ ہے کہ انقلاب پر صرف اسلام کا نام اور لیبل ہے ورنہ آغاز و انجام میں کہیں اسلام پر عمل نہیں، ڈاکٹر موسیٰ اصفہانی نے کیا خوب تبصرہ فرمایا ہے۔

صلی وصام لامر کان یطلبہ، لما قضی الامر ماصلی ولا صاما

حصول مطلب تک تو نماز روزے کی پابندی کی اور مطلب پورا ہو چکنے کے بعد سب کچھ فراموش کر دیا۔

13۔ یرانی انقلاب امریکہ کے خلاف روس کی ایماء (اشارے) پر ہوا حقائق ملاحظہ ہوں۔ 
  1 انقلاب ایران کا انداز نظم طریق ضبط، طرز رفتار کمیونسٹ انقلاب کے مشابہ ہے، خمینی کے اقوال کی تشہیر، تصویروں کا پھیلاؤ، مخالف قوتوں کا گھیراؤ، کتابوں اور کیسٹوں کی بھرمار اور خود خمینی کا سیاہ و سفید کا مالک ہونا، کمیونسٹ انقلاب کی علامت ہے یہ منصوبہ بندی کمیونسٹ دماغ کی ہے اور وہی یہ گاڑی چلارہا ہے۔  
2 انقلابی حکومت نے روس نواز پارٹی سے اتحاد کر رکھا ہے یہ مخلوط حکومت روس سے خفیہ رشتہ کی علامت ہے۔
3  شاہ کے خلاف عوامی تحریک زوروں پر تھی اور انقلاب ایران کے دروازے پر آچکا تھا اس وقت روسی افواج ایران کی رگ حیات سے زیادہ قریب تھیں، چناچہ تاشقند کے ایک مبصر مسٹر والیم اے شمٹ اپنی کتاب "یہودی جنگ سے پہلے" میں لکھتے ہیں "ایران میں جب شاہ کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو روس نے ایران سے ملنے والے مسلم علاقوں میں اتنی فوج جمع کر رکھی تھی کہ ان مسلم علاقوں میں مارشل لاء کے نفاذ کا گمان ہوتا تھا"۔
4۔ حسین ہیکل کے بقول جب شاہ نے روسی سفیر سے پوچھا تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟
سفیر نے کوئی جواب نہ دیا۔ شاہ رات کی تاریکی میں ملک چھوڑ گیا جب امام خمینی ایران میں داخل ہوئے تو استقبالیہ ہجوم میں، لینن  اور ٹرائسکی کی کتابیں مار کسی تعلیمات کی گائیڈ بکس اور کمونسٹ لیڈروں کی رنگا رنگ تصویریں تقسیم ہوئیں،
 خیمنی نے اس سرخاشاہی استقبال کے متعلق ایک لفظ بھی نہ کہا ہاں جب خیمنی نے ایران کا انتظام سنبھال لیا 19 نومبر 1979ء کو جناب برزنیف کا یہ انتباہ نشر ہوا
 "اگر امریکہ نے ایران میں کوئی مداخلت کی تو روس اس کاروائی کو اپنی سلامتی کے خلاف سمجھے گا"
 افغانستان میں روسی فوج کا بڑا حصہ آج بھی ایرانی سرحد پر موجود ہے یہ خاموش رابطے فوجوں کا اجتماع امام خیمنی کا استقبال تو وہ پارٹی سے سیاسی اختلاط، ایران کے خلاف کاروائی کو روس کا اپنے خلاف سمجھنا۔  
 " کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے"
قارئین کرام ! تاریخ شیعہ ہماری اس کتاب کا موضوع نہ تھا لیکن موجودہ حالات میں اپنی قوم و ملک کے تحفظ کے لئے اس فرقہ کی قدیم و جدید تاریخ مرتب کی ہے ان لوگوں نے ہمیشہ غیر مسلم کیمپ سے، مسلم کیمپ پر حملے کیئے ہیں یا جاسوسی کی ہے ۔براہ کرم ایم-ار-ڈی یا پی-پی-پی کے رہنماؤں اور حکمرانوں کو واضح کر دیں کہ ان لوگوں کا تحفظ ضرور کریں لیکن ان پر اعتماد کرکے سیاست اور کلیدی آسامیاں ان کے حوالے نہ کریں نہ ان کے پروپگینڈے اور مطالبات، ایجی ٹیشن سے متاثر ہوں، نہ ایرانی انقلاب کو پسند کریں،  سوائے اس کے کہ شیعوں کو وہی حقوق پاکستان میں دیں جو ایران میں سنیوں کو دیئے ہیں-