شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 11

11۔ یہ انقلاب اسلام سوز اور مسلم کش صیہونی انقلاب ہے، ایک عمامہ بردار ایرانی بزرگ فرماتے ہیں ایران کے قائد انقلاب کے کام کو تمام انبیاء کے کام پر ترجیح دینا خدا کے نام کے بعد صرف ان کے نام لینے کی تعلیم دینا، اقوال رسول اور اقوال امیر علیہ السلام کی جگہ قائد انقلاب کے اقوال لکھنا، پڑھنا، بولنا، سننا، اور سنانا، کلمۂ اسلام کے دوسرے جزء کو مٹا کر پیغمبر اسلام کے نام نامی اسم گرامی کی جگہ قائد انقلاب کا نام لینا اور اس طرح ایک نیا کلمہ وضع کرنا (لا الہ الااللہ الامام الخمینی حجۃاللہ) 
اپنے سوا تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھنا عالم اسلام کے موجودہ نقشےکو بدلنے کے لیے جدو جہد کرنا، کعبۃ اللہ پر قبضہ کے لیے لوگوں کو تیار کرنا اور اس عمل کو جہاد کا نام دینا  مسلم سربراہان حکومت کو کافر قرار دے کر ان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور انکی حکومتوں کو ختم کرنے کیلئے قوم کو آمادہ کرنا،  مسجدوں میں کیمرے نصب کرنا، تصویریں اتارنا اور اتروانا مسجد میں جوتوں سمیت جانا اور محرابِ مسجد میں تصویریں بنانا یا چسپاں کرنا، مسجدوں میں بیٹھ کر سگریٹ نوشی کرنا، اپنے مخالفوں کو کافر کہہ کر انکی قبریں اکھاڑنا اور لاشوں کو غیر مسلموں کے قبرستانوں میں ڈالنا، اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کو مقدمہ چلائے بغیر گولی ماردینا، شہریوں کا رزق درباری مولویوں کے ہاتھ میں دے دینا، اشیائے ضرورت کی راشن بندی کرکے عورتوں، بچوں، اور بوڑھوں کو بازاروں میں لانا اور قطاروں میں کھڑا کرنا، زنا جیسی قبیح بیماری کو مذھبی تحفظ دینا، ولدیت کی جگہ اسم مادر کو لازم قرار دینا، کمسن اور معصوم بچوں کو قتل کرنا، جھوٹے الزامات اور تہمتیں تراش کر انسانوں کو زندگی سے محروم کرنا، نمازیوں کی جماعت پر صرف اس لئے گولی چلانا کہ وہ سرکاری مولویوں کی اقتداء میں کیوں نہیں کھڑے ہوئے، آیت اللہ شریعت مدار جیسے امام برحق کو منافق کہہ کر نظر بند کرنا قائد انقلاب کی تصویر کی پوجا کرنا، (حرمین شریفین میں اس بت کی نمائش کرنا) انکے سامنے انکے نام کا کلمہ پڑھنا، اگر یہ اسلام ہے تو بتاؤ ضد اسلام کیا ہے؟؟ 
یہ اسلامی انقلاب ہے تو بتاؤ صیہونی انقلاب کیا ہوتا ہے؟؟(بروایت اختر کاشمیری از آتش کدہ ایران ص 102 ص 103)۔
12۔ ایران اسرائیل سے اسلحہ لیکر عالم اسلام کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
1۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے عرب دشمنی کی بنا پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا سمجھوتہ کیا ہے مگر اسرائیلی قانون انہیں اس سمجھوتے کی تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا اسی لیے وہ کسی خبر کی تردید یا تائید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
2۔ ایران کے سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے حکومت ایران کو اس معاہدہ سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو اسرائیل اس قسم کے معاہدہ کرنے کے بجائے عربوں سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے لیکن امام خمینی نے ان کی بات نہ مانی اور انکے حکم پر حکومت ایران نے اسرائیل سے معاہدہ کرلیا۔ 
3: اکیس اکتوبر 1980ء کو پیرس کے ایک جزیرے کے نزدیک اپنے نمائندۂ خصوصی مقیمِ تہران کا جو مکتوب شائع کیا اس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے سِوِل اور فوجی ماہرین کا ایک وفد تین دن کے دورے پر تہران آیا، اس وفد کا مقصد ایران کی دفاعی ضروریات کا اندازہ لگانا تھا تاکہ ایران کو اسکی ضرورت کے مطابق امریکی اور اسرائیلی ساخت کے پرزے اور دوسرا سامانِ جنگ فراہم کیا جاسکے ۔ 
4۔ نومبر کو برطانیہ کے اخبار آبزرو میں تہران کے مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ عراق سے جنگ کے لیے اسرائیل نے ایران کی بندر گاہوں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا ہے۔
5۔ تین نومبر مغربی جرمنی کے اخبار ڈائی ویٹ میں جو تفصیلی خبر شائع ہوئی اس کے آخر میں یہ ہے کہ اسرائیل نے یہ سامان بحری راستے سے ایران کو پہنچایا، نیز اسرائیل ایران کو  سامانِ جنگ مہیاء کرنے کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ 
6۔ ایران اسرائیلی معاہدے کی خبر جب دنیا بھر میں پھیل گئی تو 21 جولائی1981 کو اسرائیل کے رسالہ معارف نے لکھا کہ ایرانی حکومت نے اسرائیل سے براہ راست اور مختلف ایجنسیوں کی وساطت سے مختلف النوع اسلحہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اور بڑی مقدار میں فاضل پرزے بھی منگوائے ہیں۔ (بحوالہ آتش کدہ ایران صفحہ98 صفحہ99 از اختر کاشمیری)
حقیقت یہ ہے کہ انقلاب پر صرف اسلام کا نام اور لیبل ہے ورنہ آغاز و انجام میں کہیں اسلام پر عمل نہیں، ڈاکٹر موسیٰ اصفہانی نے کیا خوب تبصرہ فرمایا ہے۔

صلی وصام لامر کان یطلبہ، لما قضی الامر ماصلی ولا صاما

حصول مطلب تک تو نماز روزے کی پابندی کی اور مطلب پورا ہو چکنے کے بعد سب کچھ فراموش کر دیا۔

صفحہ 10 از 11