شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 11

"اے میری  قوم  تم نے میری بیعت کر کے مجھے چھوڑ دیا۔" اسی وجہ سے شیعوں کا لقب رافضی مشہور ہوا۔
(مجالس المؤمنین صفحہ256 جلد2) 
حضرت زیدؒ چند افراد کے ساتھ تنہا لڑے اور شہید ہو گئے۔ اثناء عشری اور جعفری شیعوں کو آج بھی حضرت زیدؒ سے نفرت اور دشمنی ہے اور مختار سفاک سے محبت ہے۔ 
بے دینوں کا ساتھ دے کر قتلِ عام کرتے ہیں اور اہلِ بیتؒ کو بے یارو مددگار چھوڑ کر قتل کراتے ہیں اور خود صحابہ کرامؓ کے تبّرا میں لعنتی بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بالکل بر حق ہے کہ شیعہ اسلام اور اہلِ بیت کے غدّار  دشمن ہیں۔ مختار اور خمینی جیسے ظالموں کے طرف دار ہیں۔ 
(12) بنو امیّہ کے خلاف جو ایرانیوں نے بنو عباس کے ساتھ مل کر تحریک چلائی اور پھر خونی انقلاب آیا۔ لاکھوں مسلمان تَہ تیغ ہوئے اور بعض عباسی بادشاہوں کا لقب بھی سفاح "بہت خون ریز" پڑ گیا۔ ان سب کا مشیر و وزیر اور درپردہ قاتل ابو مسلم خراسانی تھا جو کٹر شیعہ تھا اور بنو عباس سے اسی نے سب ظلم کرائے۔ شیعہ آج بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ شوستری نے اسے سلاطین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ 
(13) مفاد کی دوستی اور وقتی انتخابی اتفاق و اتحاد کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔ بنو امّیہ دشمنی میں تو یہ علوی عباسی اتحاد رہا مگر جب بنو عباس کو اقتدار مل گیا اور علویہ محروم رہے تو یہی مفسدانہ کاروائیاں علویوں نے بنو عباس کے ساتھ شروع کر دیں۔ 

شیعہ عالم شوستری لکھتا ہے علویوں نے کوفہ میں عباسیوں کے تمام گھروں کو لوٹ لیا۔ ان کا تمام مال و اسباب اور مکانات تباہ کر دیے اور بہت سے بچے کھچے (جو بھاگ نہ سکے) عباسیوں کو علویوں نے مار ڈالا۔ خانہ کعبہ کے خزانہ کو بنو عباس اور ان کے طرف داروں کے مالوں سمیت اپنے قبضے میں لیا اور لشکر میں تقسیم کر دیا۔ جعفر صادقؒ کے پوتے موسیٰ کاظمؒ کے بیٹے زید نے عباسیوں اور بصریوں کے گھروں کو اتنی آگ لگائی کہ اس کا لقب "زید نار" پڑ گیا۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ404 جلد2)
ذرا دیانت سے غور فرمائیں۔ یہ مظالم کسی اموی حاکم نے بھی کیے؟ 

بنو بویھہ کے مظالم

(14) ابو مسلم خراسانی عباسی دورمیں تقریبا سیاہ و سفید کا مالک ہوگیا۔ عباسی حکمران کٹھ پتلی بن کر رہ گئے اور بنو بویھہ کا شیعی خاندان عملا برسرِ اقتدار آگیا۔ بحیرہ احزر کے ساحل پر مچھیرے تھے۔ بویھہ کے تین بیٹے فوجی تربیت پاکر عباسیہ کے دشمن ہوگئے غنڈہ گردی اور قتل و غارت سے جنوبی ایران، شیراز پھر سب ایران پر قبضہ کر کے بغداد پر حملہ کر دیا۔ 
خلیفہ مستکفی باللہ نے دب کر اسے بغداد کا گورنر بنا دیا  اور معزالدولہ کا لقب دیا۔ انھوں نے بغداد میں اپنا راج اتنا چلایا کہ خلیفہ کو برسر عام ڈنڈے مار مار کر قید کر لیا۔ 

سات سال بعد وہ قید میں مر گیا اور پھر براۓ نام ایک شہزادے مطیع لدین اللہ کو خلیفہ بنا دیا۔ اپنی من مانی کاروائیوں پر اس سے دستخط کرا لیتے اور قتل عام کرتے۔ 
ان کا احمد معزالدولہ ظلم و سفاکی میں سب کو مات دے گیا۔ اس نے جبراً عاشورہ محرم کی چھٹی کرائی جو پہلے کھبی نہ ہوتی تھی۔ اہلسنت کی دکانیں بند کرا کر تمام شیعہ مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ سیاہ لباس پہن کر روئیں، پیٹیں اور ماتم کریں۔ 
بغداد کے تمام مساجد کے دروازوں پر سیدنا امیر معاویہؓ، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر لعنتیں کی اور تبرے لکھوا دیئے۔ اہلسنت مٹا دیتے تھے شیعہ پھر لکھ لیتے تھے۔ 
چناچہ سنی  شیعہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ ہزاروں مسلمانانِ اہلسنت شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ 352 ہجری کا ہے۔ شوستری لکھتا ہے: کہ یہ فتنہ اتنا بڑھ گیا کہ معزالدولہ دارالاسلام بغداد کے تمام سنی مسلمانوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگیا تو محمد بن مہلبی وزیر نے درخواست کی کہ حضرت معاویہؓ کے سوا لعنت کسی پر نہ کریں اور شخصی لعنتوں کے بجاۓ یہ کلمات لکھیں: 

لعن اللہ الظالمین لآل محمد رسول اللہ 

21 سال معزالدولہ خلیفۃ الخلفاء بنا رہا اور عباسی خلیفہ معزالدولہ کا تابعداربنا رہا۔

(مجالس المؤمنین صفحہ362) 

(15) آلِ حمدان سے ایک شیعہ بادشاہ سیف الدولہ ہوا ہے اس نے بھی تشیع کے نشہ میں شام کے شہر حلب میں یہی ظالمانہ کاروائی کی (ایضا صفحہ337 جلد2) جو اب الاسد رافضی کر رہا ہے۔

اسماعیلوں کے مظالم

(16) حضرت جعفر صادقؒ کے دو بیٹے تھے۔ اسماعیل اور موسی کاظمؒ صادقؒ نے امامت کی نص اسماعیل کی طرف کر دی مگر قضاء الٰہی سے وہ باپ کے عہد حیات میں فوت ہوگیا تو شیعوں کا ایک گروہ اسماعیل اور ان کی اولاد میں امامت کا قائل ہوگیا ۔
یہ آغاخانی اور اسماعیلیہ کہلاتے ہیں جن کا 51 امام عبدالکریم موجودہ آغاخان ہے۔ ان کا مذھب اسلام سے بلکل مختلف ہے۔ حتی کہ اثناء عشری شیعہ بھی ان کو کافر مانتے ہیں۔
باقی شیعوں نے موسیٰ کاظمؒ کو امام مانا اور اثناء عشری جعفری کہلاۓ۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، اسماعیلیوں نے بھی جب ذرا کچھ اقتدار پایا مسلم کشی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ان کا ملحد لیڈر حسن بن صباح ظلم و بربریت میں شہرہ آفاق ہے۔ 
شیعہ شوستری لکھتا ہے کہ اس شخص کے دور میں اس کی فدائی نامی جماعت کے ہاتھوں بہت اہل سنت و جماعت شہید کئے گئے۔ کِیّا بزرگ جو ایک اسماعیلی سردار تھا کے دور میں فدائیوں نے اہلسنت کی ایک بڑی جماعت کو شہید کیا۔ مقتولوں میں قاضی القضاۃ ابو سعید بھی تھے ایک دوسرے اسماعیلی سردار دولت شاہ رئیس اصفہان نے مراغہ کے حاکم سنتور کو خلیفہ عباسی مستر شد کو تبریز کے رئیس کو، قزدین کے مفتی کو اور سنی قوم کے خاص اکابر کی اکثریت کو فدائیوں کے ہاتھوں مروا ڈالا اور کِیّا محمد پسر کِیّا بزرگ کے دور میں خلیفہ عباسی کا بیٹا راشد مارا گیا اور بہت سے خاص خاص اہل سنت کے علماء، افسران، قاضی حضرات قتل کئے گئے۔ مقتولوں کے ناموں کی تفصیل بعض تواریخ میں مسطور ہے۔ مؤلف (شوستری) کہتا ہے کہ اہل سنّت کے ساتھ ان مظالم کا نتیجہ یہ ہے کہ سنی اسماعیلوں کو ملحد و زندیق کہتے ہیں۔ 
صفحہ 2 از 11