شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 11
(17) شیعوں کا ایک دور اقتدار فاطمین مصر کی حکومت ہے۔ یہ لوگ اصل میں غلام تھے۔ مگر ان کے مورث عبیداللہ مہدی مجوسی نے خود کو امام اسماعیل بن جعفر کا پڑپوتا ظاہر کر کے افریقہ کی بربری قوموں کو اپنا ہم نوا بنا لیا اور بالآخر مصر کی حکومت پر قابض ہو گئے ان کا اقتدار دو سو برس تک رہا بظاہر علم دوست تھے۔ جامعہ الازہر ان کی یاد گار ہے۔ لیکن عام اسماعیلی باطنیہ اور ملاحدہ تھے۔ شیعوں کا یہ گروہ  فدائیوں کے نام سے مسلمان امراء کو قتل کرتا تھا اور عالم اسلام میں ایک تہلکہ عظیم برپا کر رکھا تھا۔ ان فدائیوں سے لوگ بہت خائف و ترساں تھے۔ ان ظالموں نے مسلمانوں کے عظیم فاتح و عادل سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو بھی قتل کرنے کی سازش کی مگر وہ خدا کے فضل و کرم سے بچ گئے۔
( تاریخ اسلام نجیب آبادی صفحہ436 جلد3) 

ہلاکو خان کا بغداد پر حملہ

(18) شیعہ مظالم کا سب سے بڑا خونچکاں حادثہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ہے جسے ہر مؤرخ روتے ہوئے قلم بند کرتا ہے: 
جب مغل تاتاری ہلاکوخان 654 ہجری میں ممالکِ شرقیہ کی فتوحات کے لیے بڑھا تو شیعہ عالم نصیر الدین طوسی ملاحدہ (اسماعیلیہ)کی قید سے آزاد ہو کر ہلاکوخان سے مل گیا۔ بغداد کے شیعہ وزیر ابن علقمی نے موقع غنیمت جان کر ہلاکو کو بغداد پر حملہ کی دعوت دی۔ چنانچہ اس نے 656 ہجری میں بغداد پر زبردست حملہ کیا۔ 
عباسی خلیفہ مستعصم کو اور اس کے صاحبزادوں ابوبکر و عبد الرحمٰن کو قتل کر دیا، خواجہ نصیرالدین کے مشورے سے خلیفہ عباسی کو اتنی بے دردی سے شہید کیا کہ اس کے ایک ایک عضو کو الگ الگ کاٹا شوستری کہتا ہے کہ شیعان علیؓ ائمہ معصومین کے بدلہ لینے سے خوب خوش ہو گئے ( مجالس المؤمنین صفحہ442) لاکھوں مسلمان قتل ہوئے، دریائے دجلہ خونی موجیں مارنے لگا، سارے بازار لاشوں سے اٹے پڑے تھے، گھوڑے خون میں دھنس کر چل نہیں سکتے تھے، بڑے بڑے کتب خانے دریا برد ہو گئے کہ ان کی سیاہی سے دریا پھر ایک مرتبہ سیاہ ہو گیا۔ 
یہ تباہی سقوطِ ڈھاکہ اور سقوطِ غرناطہ سے بہت بڑی تھی لیکن شیعہ وزیر اور طوسی عالم خوش ہیں کہ ائمہ معصومین کے خون کا بدلہ ہو گیا۔ غور کیجئے اماموں میں سے شہید تو 72 ساتھیوں کے ہمراہ حضرت حسینؓ تھے۔ 
خود قاتلوں( توابین و مختار ثقفی) نے ایک لاکھ مسلمان اسی بہانے سے 70 ہجری تک مار ڈالے تھے۔
اب ساتویں صدی میں عباسیوں سے کون سا بدلہِ امام لینا باقی تھا کہ کافروں سے عالم اسلام کو تباہ کرا دیا؟
عذر گناہ بد تراز گناہ کا مصداق شوستری نے اس حملہ اور تباہی کی وجہ یہ لکھی ہے کہ کرخ کے محلہ سے خلیفہ نے سحری کے وقت تبرّاء پر مشتمل ایک دعا سنی، خلیفہ مشتعل ہو گیا اور محلہ کو تباہ کرا دیا۔ پس ابن علقمی نے خلیفہ عباسی کو مروانے اور بغداد تباہ کرنے کی قسم کھا لی۔
  ذرا غور فرمائیں
یہ محلہ سازشوں اور تبرّائی مجلسوں کا گڑھ تھا۔ حتی کہ سحری کے وقت خلیفہ خود جا کر یہ تبرّے سنتا ہے تو انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی شیعہ حاکم کسی گھر یا محلہ سے حضرت علیؓ و اہل بیتؓ پر کسی دشمن خارجی سے تبرّائیہ کلمات سنے اور انتہائی قدم اٹھائے کیا شیعی دارالافتاء اس کے خلاف ایسی کارروائی کی اجازت دے گا؟

اگر نہیں تو کیا ابن علقمی اور طوسی کے اور آج اس کے مداحوں کے دشمن اسلام ہونے کی یہ کھلی دلیل نہیں ہے؟
بالفرض مان لیا جائے کہ خلیفہ کے ایکشن سے سو پچاس شیعہ گھرانے متاثر ہوئے مگر کیا دنیا کا کوئی قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ غیر ملکی کافر طاقت سے ساز باز کر کے اپنے ملک اور مسلمان قوم کو تباہ و برباد کرا دیا جائے؟
اگر مسلمان حاکموں میں ذرہ بھر قومی یا دینی غیرت ہوتی تو وہ اس حادثہ کے بعد ان مار آستین لوگوں سے ہوشیار رہتے نہ دخیل حکومت کرتے نہ کلیدی آسامیوں پر فائز کرتے، لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سقوط بغداد سے لے کر سقوطِ ڈھاکہ تک مسلمانوں نے ہمیشہ ان پر اعتماد کر کے تباہی کا ڈنگ کھایا ہے ( جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے) 
اور پاکستان انہی تجربات سے گزر رہا ہے لیکن ہر بے ضمیر صحافی اور لا مذہب سیاست دان 95٪ اہلسنت کے مفادات کو داؤ پر لگا کر 4-5٪ کو راضی کرنے پر ہی تلا ہوا ہے۔
ایرانی انقلاب کے دوران اور بعد میں ہونے والے 12سے14 لاکھ مسلمانوں کے قتل عام سے انہوں نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔ 

شاہ تیمور لنگ کے مظالم

(19) سقوطِ بغداد کی طرح خون کے آنسو رلانے والا، بارہ لاکھ مسلمانوں کے قاتل تیمور لنگ رافضی کا یہ ظلم و بربریت ہے جو اس نے بلا وجہ یورپ کے فاتح سلطان بایزید یلدرم عثمانی کے ساتھ کیا اور ایشائے کوچک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت عثمانیہ کو تباہ کرنے کی ملعون کاروائی کی اور مفتوحہ یورپ پھر مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیا، قیصر کے کہنے پر تیمور اگر درپردہ انگریزوں کی حمایت میں یہ مسلم کش جنگ انگورہ نہ لڑتا اور سلطان المسلمین کو شیر کی طرح لوہے کے جنگلے میں قید کر کے جگہ جگہ نمائش و تذلیل کی، اگر وہ یہ انسانیت سوز حرکت نہ کرتا تو تمام یورپ پر آج اسلام کا چھنڈا لہرا رہا ہوتا۔ 

تاریخ کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں

(1) سلطان بایزید خان نے نکو پولس کے میدان میں عیسائیوں کے ایک ایسے زبردست اور ہر ایک اعتبار سے مکمل و مضبوط لشکر کو شکست فاش دی کہ اس سے پہلے کسی میدان میں عیسائیوں کی اتنی زبردست طاقت جمع نہ ہو سکی تھی۔
سجمنڈ شاہ ہنگری اپنی جان بچا کر لے گیا لیکن فرانس و آسٹریا و اٹلی وغیرہ کے بڑے بڑے شہزادے نواب اور سپہ سالار قید ہوئے اور بعض میدان میں مارے گئے۔ 
(2) اس کے بعد وہ اپنی فوج لے کر یورپ میں پہنچا، ہنگری، آسٹریا، فرانس، جرمنی اور اٹلی فتح کرنے کے عزم کے ساتھ یونان کا رخ کیا، پھر تھرموپلی کے درے میں سے فاتحانہ گزرتا ہوا ایتھنز کی دیواروں کے نیچے جا پہنچا اور 800 ہجری میں ایتھنز کو فتح کر کے تین ہزار یونانیوں کو ایشائے کوچک میں آباد ہونے کے لیے روانہ کیا اور اپنے سپہ سالاروں کو آسٹریا اور ہنگری کی طرف فوجیں دے کر روانہ کر دیا تھا جنہوں نے ان ملکوں کے اکثر حصوں کو فتح کر لیا تھا۔ 
صفحہ 3 از 11