شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 11
(3) سلطان بایزید خان یلدرم جب یونان وغیرہ کو فتح کر چکا اور قیصر روم کا حال بہت پتلا ہونے لگا تو اس نے اپنی امداد کے لیے فوراً قاصد کو خط دے کر تیمور کی خدمت میں روانہ کیا۔ خط کے مضمون نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ اس کا دل ہندوستان سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس نو مفتوحہ ملک کو بلا کسی معقول انتظام کے ویسے ہی چھوڑ کے ہردوار سے پنجاب اور پھر سمر قند کی جانب روانہ ہوا۔
ہندوستان کے ایک لاکھ قیدی گراں بار سمجھ کر راستے میں قتل کرا دیئے پھر سمر قند سے روانہ ہو کر اور ایشائے کوچک کی مغربی سرحد پر پہنچ کر آذربائیجان اور آرمینیا میں قتل عام کے ذریعے خون کے دریا بہائے اور اس علاقے ہر اپنی ہیبت کے سکے بٹھائے اور خوب تیاری کر کے اس پر آمادہ ہو گیا کہ عثمانی سلطان سے اول دو دو ہاتھ کر کے اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ ہم دونوں میں سے کس کو دنیا کا فاتح بننا چاہئے؟
(4) سلطان بایزید یلدرم، تیمور سے جنگ کرنا یعنی خود اس پر حملہ آور ہونا ضروری نہ جانتا تھا، کیونکہ وہ مسلمان بادشاہوں سے لڑنے کا شوق نہ رکھتا تھا اسکو تو ابھی یورپ کے رہے ہوئے ملکوں کے فتح کرنے کا خیال تھا مگر تیمور کئی سال سے نہایت سر گرمی کے ساتھ بایزید سے لڑنے اور اس کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف تھا، دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ بایزید یلدرم عیسائی طاقت کو دنیا سے نابود کرنے پر تلا ہوا تھا اور تیمور بایزید کو نابود کرنے اور عیسائیوں کو بچانے پر آمادہ تھا، تیمور نے اپنے تمام سامانوں کو مکمل کر لینے کے بعد بایزید کے سرحدی شہر سیواس پر حملہ کر دیا، جہاں بایزید کا بیٹا قلعہ دار تھا، ایک خاص چال سے قلعہ کی چار دیواری کو آگ لگا کر زمین میں دھنسا دیا اور چار ہزار فوجیوں کی مشکیں کسوا کر ایک بڑی خندق میں زندہ درگور کر دیا، زندہ در گور کرنے کے اس ظالمانہ فعل سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
(5) شاہ یلدرم بیٹے کی مقتل گاہ دیکھ کر غصہ سے بے تاب ہو گیا، مگر تیمور لنگ جنگی چال سے یہاں سے فوراً اندرون ملک شہر انگورہ پر پانچ لاکھ سے زائد مسلح لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا، سلطان نے اسکے تعاقب میں جا کر ایک لاکھ تھکے ماندے لشکر سے حملہ کیا،
زبردست کشت و خوں کے بعد سلطان نے شکست کھائی اور تیمور نے اسے لڑتے ہوئے ذلت کے ساتھ قید کیا اور شہر بہ شہر تشہیر کرائی، تیمور رافضی تعزیہ ساز نے اس ظلم سے اسلام کے غلبہ اور وقار کا خاتمہ کر دیا، تیمور کی تمام تزک و ساز اور فتح مندیاں مسلمان سلاطین کو زیر کرنے اور مسلمانوں کے شہروں میں ( موجودہ خمینی کی طرح) قتل عام کرانے میں محدود رہیں اور اس کو یہ توفیق میسر نہ آ سکی کہ غیر مسلموں پر جہاد کرتا یا غیر مسلم علاقوں میں اسلام پھیلاتا ( اقتباسات از تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی صفحہ478,481,491 وغیرہ) 
تزک تیموری سے پتہ چلتا ہے کہ تیمور عالم اسلام کی اس تباہی سے پچھتایا، عامۃ المسلمین نے اسے حقیر جانا، اس نے تلافی میں پہلی مرتبہ غیر مسلم ملک چین پر چڑھائی کی مگر راستے میں ہی مر گیا، آرزو فنا ہو گئی، مفتوحہ ممالک بیٹوں کی خانہ جنگی کی وجہ سے خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہو گئے، اب صرف تیمور کا نام اسکے ظالم آباء چنگیز و ہلاکو خان کے ساتھ یادگار رہے اور رہے گا، تعجب ہے کہ تعزیہ پرست اس موجد تعزیہ ظالم کو قومی ہیرو مانتے اور صاحب سیف و قرآن امیر تیمور باور کراتے ہیں۔ معاذاللہ 

اسماعیل صفوی کے مظالم

(20) تباہ شدہ سلطنت عثمانیہ کو اللہ نے پھر زندہ کیا اور سلطان محمد خان اول، سلطان مراد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ، سلطان محمد خان ثانی اور سلطان بایزید ثانی اور سلطان سلیم عثمانی جیسے کامیاب و مدبر حکمران کے ذریعے پھر عالم اسلام کی متحدہ قوت بنا دیا اور یورپ میں فتوحات زور و شور سے شروع ہو گئیں، لیکن دسویں صدی کے آغاز میں شاہ اسماعیل صفوی شیعہ حکمران بر سر اقتدار آ گیا، اس نے تمام ایرانی سنی اکثریت کے مسلمانوں کی مساجد اور مقابر شہید کرا دیے، بڑے بڑے علماء اور معززین کو سولی چڑھا دیا گیا۔
خلفائے ثلاثہؓ پر تبّرا جمعہ کے خطبہ میں لازم کر دیا گیا جگہ جگہ سنی شیعہ فسادات کرائے، ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس لاکھ سنی مسلمان شہید کرائے اور باقی ماندہ کو شیعہ بننے پر مجبور کر دیا۔
کلیاتِ نفسی مؤلفہ سید نفیسی پروفیسر تہران یونیورسٹی میں لکھا ہے کہ ان سے سوال کیا گیا ایران جو سنی اکثریت کا ملک تھا وہ شیعہ اکثریت (60-65) میں کیسے تبدیل ہوا؟ 
تو پروفیسر مذکور نے جواب دیا: عہد صفوی میں سنیوں کا قتل عام کر کے ان کو جبراً شیعہ بنایا گیا، اسماعیل (صفوی) بن حیدر بن جنید بن ابراہیم بن خواجہ علی بن صدر الدین بن شیخ صفی الدین بن جبرئیل کے آباء واجداد سب سنی المذہب تھے، پیری مریدی کرتے تھے، شیخ صدر الدین نے سفارش کر کے تیمور کے ہاتھوں وہ تمام ترک قیدی آزاد کرا دیے جو اس نے سلطان یلدرم سے جنگ انگورہ میں پکڑے تھے وہ ہزاروں قیدی شیخ کے باصفا مرید بن کر یہیں رہ گئے اور شاہ اسماعیل تک اس کی سب اولاد سے وفا دار رہے اور اسماعیل کو اقتدار دلانے میں ان کی بڑی قربانیاں ہیں۔
اسماعیل نے حُب اہل بیتؓ کے نعرے سے سنی و شیعہ عوام کو ساتھ ملا کر اقتدار پا لیا تو علانیہ شیعہ اور رافضی بن گیا، پھر اپنے ترک مریدوں کی قوم سے جنگ کا منصوبہ بنایا اور پڑوسی ملک ترکی سلطنت عثمانیہ میں اپنے داعی، جاسوس اور ایجنٹ بھیج دئیے تاکہ اندرونی و بیرونی حملہ سے اس ملک کو ختم کر کے شیعہ سٹیٹ بنا لیا جائے مگر شاہ سلیم عثمانی کو اس سازش کا پتہ چل گیا اس نے اسماعیل صفوی کے سب ایجنٹوں کو ختم کر کے ایران پر دفاعی حملہ کیا، اسماعیل بھاگ گیا، سلطان نے اندرون ملک اس کا تعاقب کر کے خالد ران کے مقام پر کامیاب جنگ لڑی اور نصف علاقوں پر اپنی حکومت قائم کر لی۔

صفحہ 4 از 11