شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 11

شاہ سلیم اگر دوبارہ ایران جاتا پھر باقاعدہ شاہ صفوی جنگ لڑتا تو اس کا اقتدار ختم ہو جاتا، مگر شام و مصر کے سرحدی کشیدہ حالات کی وجہ سے شاہ دوبارہ ایران نہ جا سکا اور اسماعیل صفوی کے اس سازشی جال کی وجہ سے یورپ میں بھی شاہ سلیم اپنی فتوحات آگے نہ بڑھا سکا، اگر اسماعیل صفوی یہ حملے اور اندرون ملک سازشیں نہ کراتا تو شاہ سلیم کی مساعی سے آج براعظم یورپ اسلام کے زیر نگیں ہوتا لیکن
    "اے بسا آرزو کہ خاک شدہ"
جناب ابو ذر غفاری نوائے وقت میں لکھتے ہیں
اس کے علاوہ اگر ایران کے صفوی شیعہ اور ترکی کے عثمانی سنی آپس میں لڑ کر خون کے دریا نہ بہاتے تو آج سارا یورپ مسلمان ہوتا،
مزید برآں اگر مغلیہ دور میں ہندوستان کے مسلمان سنی شیعہ جھگڑوں کی نذر نہ ہوتے تو آج سارے ہندوستان پر مسلمانوں کا غلبہ ہوتا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہر نازک موقع پر شیعوں نے اہل اسلام کو خنجر گھونپ کر کافروں کو بچایا ہے۔
موجوہ خمینی انقلاب اور ایران و عراق جنگ ٹھیک اسی پالیسی کے تحت ہے جو شاہ اسماعیل صفوی نے وضع کی تھی اس وقت ترکوں کو مار کر عیسائیوں کو بچانا مقصود تھا اب خاص معاہدے کے تحت امریکی اسلحہ اسرائیل جیسے دشمن اسلام سے لے کر عربوں کو ختم کرنا اور سامراجی طاقتوں کی مدد کرنا مقصود ہے۔
اسلام کا نعرہ لا شیعہ ولا سنیہ  مرگ بر اسرائیل، مرگ بر امریکہ تو صرف ہاتھی کے دانت دکھانے کے ہیں، جن سے بدھو صحافیوں کو اُلو بنانا ہے اور اقتدار کے بھوکے مستقبل سے اندھے سیاستدانوں کو اور سادہ لوح مسلمانوں کو تقیہ اور ڈپلومیسی کے ذریعے اپنا ہم نوا بنانا مقصود ہے۔
اللہ اندھوں کو بینائی عطا فرمائے۔ 

(21) ایران کا عہد صفوی، ہند میں عہد مغلیہ کا معاصر ہے، سب سے پہلے ہمایوں کے دور میں شیعہ کو ہند میں برآمد کیا گیا خاص معاہدہ سے قاضی نور اللہ شوستری جیسے غالی شیعہ کو قاضی القضاۃ بنایا گیا، جس نے تشیع کی اشاعت میں ہر حربہ استعمال کیا، سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے اپنی خداداد ایمانی فراست اور دیانت سے اسے محدود کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوا تبھی تو شیعہ اور ان کے بے دین ہمنوا عالمگیر کی شکایت کرتے ہیں، مگر شیعوں نے ایک اور چال چلی عالمگیر کے بیٹوں کو رشتے دے کر بعض کو مائل بہ تشیع کر لیا۔ پھر وہ اقتدار کی رسہ کشی اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت مغلیہ قریب الزوال ہو گئی، ادھر ہندو اور مرہٹے زور پکڑ گئے، جن کو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کے میدان میں آ کر بیس ہزار افغانی سپاہ کی کمک سے ختم کیا، ادھر اودھ، لکھنؤ، دکن وغیرہ میں شیعہ راجوں نے آزاد ریاستیں قائم کر لیں، انگریزوں نے ایسے پاؤں پھیلائے کہ مسلمانوں کا اقتدار دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو کر رہ گیا۔ 

 نادر شاہ درانی کا دہلی پر حملہ

(22) اس کمزوری کی وجہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی نیت سے ہمارے ہمدرد پڑوسی ایران کا نادر شاہ درانی بڑے لشکر کے ساتھ آیا۔ ایک مدبر امیر الامراء محمد امین خاں کے مشورے سے بہت سا خراج اور کروڑوں روپے نقد دینے پر صلح ہو گئی مگر اس کے شہید ہونے کے بعد ایک دوسرے غدار برہان الملک سعادت علی خان رافضی نے محض عہدہ بدلنے سے نادر شاہ کو غدر کرنے اور بادشاہ کو قتل کر کے دہلی کا خزانہ لوٹنے اور قتل عام کرنے کا پروگرام دے دیا، چنانچہ نادر شاہ نے لاکھوں مسلمانوں کو دہلی جامع مسجد میں شہید کیا، بادشاہ اور اسکے لڑکوں کی لاشوں پر تخت بچھا کر ناشتہ کیا اور دہلی کا سب خزانہ لوٹ کر لے گیا۔ نادر کے حملہ کو خراج تحسین شیعہ عورتیں تک پیش کرتی ہیں، نادر شاہ کو شاہی خزانے سے ساڑھے تین کروڑ چاندی کی نقدی، ڈیڑھ کروڑ کی سونے کی تختیاں، پندرہ کروڑ کے جواہرات، گیارہ کروڑ کا تخت ہاؤس، پانچ سو ہاتھی، ہزار اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور شاہی خیمے قناتیں وغیرہ حاصل ہوئیں۔ 

آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے گرد بھی شیعہ جمع ہو گئے، جو درپردہ انگریز سے ملے ہوئے تھے اور اصل حالات کو شاہ سے مخفی رکھ کر سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کرا دیا۔ مغلیہ دور میں سید برادران کا فتنہ مضمون میں محمد اسحاق قلبی آخری قسط میں لکھتے ہیں، بارھ کے بادشاہ پر رافضیوں نے اپنی آٹھ دس برس کی سازشوں، ریشہ دوانیوں سے ایک عظیم الشان مغلیہ سلطنت کو نیم جان کر دیا اور ان کے بعد تیسرے رافضی برہان الملک سعادت علی خان نے اپنی غداری اور نمک حرامی سے اس نیم جان مغلیہ سلطنت کی پشت میں (نادر شاہ کے ہاتھوں) ایسا بھر پور خنجر مارا کہ وہ اٹھنے کے قابل ہی نہ رہی لیکن یہودیوں، نصرانیوں، زرتشتیوں، مجوسیوں اور عجمیوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ابوالفتح ناصر الدین محمد شاہ شہنشاہ کو محمد شاہ رنگیلا بنا دیا، انہوں نے لکھا کہ وہ عیاش تھا وہ ہنوز دلی دور است کہتا تھا، اس لیے سلطنت مغلیہ برباد ہوئی، سبھی نے ان مکاروں بددیانتوں کی پھیلائی ہوئی خرافات پر یقین کر لیا اور اپنے اکابر کی برائی پر تل گئے اور یہ بھول گئے کہ یہ سب دشمن کی کارروائی ہے۔
(ماہنامہ شمس الاسلام بہیرہ اپریل 1986ء بحوالہ تاریخ فرشتہ) 
(23) نادر شاہ کے حملے کے بعد مسلمان انتہائی کمزور ہو گئے تو شیعہ و بے دین راجوں نے انگریز کی بالا دستی تسلیم کر کے اپنی ریاستوں کو ان سے اپنے نام الاٹ کروا لیا۔ 
آج بہت سے جاگیریں، نوابوں، خانوں، اور ملکوں کے پاس انگریزی عطیات ہیں، لیکن غیور اور مسلمان نوابوں اور سلاطین نے انگریزی سے ٹکر بھی لی، ان میں سر فہرست میسور کا راجہ سلطان ٹیپو شہید بن حیدر علی ہے جو شاہ ولی اللہ خاندان کا معتقد، اہل توحید و سنت سے وابستہ اور انگریزوں کا کٹر دشمن تھا، یہ جب انگریزوں سے خود جنگ لڑ رہا تھا تو شیعہ کماندار نے غداری کر کے سلطان کو شہید کر دیا جیسے اسی طرح بنگال میں میر جعفر نے غداری کر کے انگریزوں کو اقتدار دلا دیا اسی لیے یہ شعر زبان زدِ عام ہے:
جعفر از بنگال و صادق از دکن،
ننگ دنیا ننگ دین ننگ وطن,

انگریز اور شیعہ

جناب ابو ذر غفاری صاحب نوائے وقت میں رقم طراز ہیں:
صفحہ 5 از 11