شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 11
انگریز تو مسلمانوں کی اس کمزوری کا خوب فائدہ اٹھاتا تھا۔ 1799ء میں شاہ افغانستان نے سلطان ٹیپو کی مدد کا ارادہ کیا تو انگریز نے افغانستان پر ایران سے حملہ کروا دیا اور اس نے انیسویں صدی میں یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ ایران کو مضبوط بنائے گا تاکہ وہ اپنے سنی ہمسایوں کے خلاف برسر پیکار رہے۔ (گویا میر صادق جعفر کی ٹیپو سے  غداری ایران کی سازش تھی)
انگریز شرانگیز جب جنگ آزادی 1857 کے بعد پورے برصغیر پر چھا گیا اور مسلمانوں نے اس کے خلاف تحریک آزادی جاری رکھی اور قتل، قید و بند اور جلا وطنی کی سزائیں مجاہدین کو ملتی رہیں۔ تاریخ سے ہمیں پتا نہیں چلتا کہ کسی شیعہ عالم لیڈر یا نواب نے
نے انگریز کے خلاف کام کیا ہو یا کوئی تکلیف پائی ہو۔ بلکہ یہ لوگ قادیانیوں کی طرح انگریزوں کو اپنے لیے رحمت کا سایہ سمجھتے تھے کیونکہ مذہبی آزادی کی آڑ میں انھوں نے جس بدعت اور شرکیہ کام کو چاہا اس کے لیے باقاعدہ لائسنس اور اجازت نامہ حاصل کر لیا تا کہ ٹوکنے والے علماء دین کا بھی منہ بند ہو جائے اور وہ ان شر سے بھر پور رسوم سے اپنے جعلی مذہب کو پھیلا سکیں۔
یہ تعزیے، ذوالجناح، دلدل وغیرہ کے جلوس انگریزی دور کی پیداوار ہیں  جو " لڑاؤ اور حکومت کرو"  کی پالیسی کے تحت اس نے اپنے وفاداروں کو عنایت کیے۔
چنانچہ لاہور کا شیعہ مجتہد علامہ حائری اپنے کتابی سائز کے رسالہ کے صفحہ123 پر یہ لکھتا ہے: انگریزی حکومت ہمارے لیے سایہ رحمت ہے کہ اس کی پناہ میں ہم اپنی مذہبی رسوم آزادی سے بجا لاتے ہیں۔ 
ابھی 1986ء میں شریعت بل کے خلاف شیعہ نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ اس کے نفاذ سے ہماری وہ رسوم اور حقوق ختم ہو جائیں گے جو انگریز نے دیئے تھے۔ جو اعمال و رسوم قرآن وسنت نبوی ، فتویٰ اہل بیتؓ سے ثابت نہ ہوں بلکہ خود ساختہ ہوں  بدعت اور شرعاً ممنوعہ ہوں۔ ان کے جواز کی سند غیر مسلموں سے لینا اور پھر ان پر مسلمانوں سے لڑنا جھگڑنا یہ کفر کی حمایت نہیں تو کیا مسلمانوں سے وفاداری ہے؟ 

تاریخ پاکستان

انگریز  کے خلاف صدی بھر  سے صرف سنی مسلمانوں کی جنگ آزادی کامیابی سے ہمکنار ہونے لگی اور انگریز نے وطن چھوڑنا چاہا تو مسلمانوں کی غالب اکثریت نے نعرہ پاکستان کا ساتھ دیا اور اپنی رواداری اور بے تعصبی سے  یہ سوال ہرگز نہیں اٹھایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کس خاندان اور مذہب سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ معمارِ پاکستان  مفسرِ قرآن، خطیب ہند مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور ہزار کتابوں کے مصنف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ دیوبندی نے اہل سنت کے سٹیج سے اپنے لاکھوں شاگردوں اور مریدوں کے ساتھ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ چائگام سے پشاور تک طوفانی دوروں سے مسلم رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں قائل کیا۔ تبھی تو 1946 کے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیابی ہوئی پھر بریلوی مکتبہ فکر نے بھی بنارس کانفرنس کر کے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اگر علمائے دیوبند اور مذہبی گروہ کی تائید نہ ہوتی تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔ عام پروپگینڈہ یہ ہے کہ پاکستان کا تصور سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم المتوفی 1938ء نے پیش کیا اور 1940ء میں قرار داد پاکستان کے بعد مسلم لیگ نے مطالبہ اور تحریک شروع کی۔ لیکن ہم کہتےہیں کہ یہ تصور انگریز سے صد سالہ جنگ لڑنے والے گروہ کے بوریا نشین نے پیش کیا۔ 
تعمیر پاکستان اور علماء ربانی صفحہ41 پر منشی عبد الرحمن لکھتے ہیں: جون 1928ء میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ تھا نہ بھون میں حضرت تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مولانا اشرف علیؒ نے یہ فرمایا ” دل یوں چاہتا ہے کہ ایک خطہ پر اسلامی حکومت ہو سارے قوانین وغیرہ کا اجراء احکام شریعت کے مطابق ہو۔ پھر 1938ء میں فرمایا: میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جاویں گے۔ ان شاءاللہ(صفحہ64) میں نے جو اعلان کیا ہے اس میں مںسلم لیگ کی حمایت کی ہے اور مسلم لیگ کا حامی ہوں۔
(اسعدالابرار صفحہ120 از مولانا ابرار الحق حقی، بحوالہ اظہارالعیب صفحہ203٫204، مولانا سرفراز خان صفدر) 
انہی خدمات کے صلہ میں کراچی میں مولا عثمانی کو اور ڈھاکہ میں مولانا اختر سلہٹی کو پاکستان کی پرچم کشائی کا اعزاز بخشا گیا اور یہ دونوں دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت تھے اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خاص ساتھی اور معتقد تھے۔ اس لیے کسی بھی گروہ کا بار بار یہ طعنہ دینا کہ دیوبندی مخالف پاکستان یا کانگرسی ہیں ایک بد دیانتی اور غلیظ جھوٹ ہے۔ جو طبقہ مخالف تھا وہ مسلمانوں یا پاکستان کا مخالف ہرگز نہ تھا وہ سب ملک ہند کو اپنا وطن جانتا تھا۔ وہ چاہتا تھا تقسیم ملک نہ ہو کہ دہلی ہی حسب سابق مسلمانوں کا دارالسلطنت ہو جن سے انگریز غاصب نے اقتدار چھینا تھا اور اب انھوں نے ہی غاصب کو جنگ کر کے نکالا تھا۔ یہ جذبہ ملک سے محبت کی دلیل تھی جسے اب ہم تقسیم پاکستان کا تصور نہیں کر سکتے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر افسوس کرتے ہیں۔ اس منفی تصور نے 17 کروڑ انڈین مسلمانوں کو وہاں تحفظ دیا ہے اور لوک سبھا میں وہی علماء ان مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں ورنہ ان کو وہاں کون رہنے دیتا؟ پاکستان تو ان کا تحفظ نہ کرسکا تھا۔ اب اس فضول بحث کہ فلاں مخالف تھا فلاں موافق کو ختم کرنا چاہیے۔
یہاں کے بھی باشندے پاکستان کے وفادار شہری ہیں۔ سب کو امن سے زندگی گزارنے کا حق ہے ورنہ ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ شیعہ تاریخ گواہ ہے انھوں نے کفر و اسلام کی ٹکر میں کبھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا برصغیر میں بھی انگریز کے خلاف جنگ آزادی، تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ریشمی رومال وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر کوئی قربانی نہ دی بلکہ تقیہ و جاسوسی کا کردار ادا کرتے رہے۔ تحریک پاکستان میں بعض شیعہ وکیلوں اور علماء نے اس لیے شرکت کی کہ حسن اتفاق سے وہ قائد کو اپنا ہم پیشہ اور ہم مذہب سمجھتے تھے کامیابی پر انتظامی کلیدی آسامیوں پر پہنچنا مقصود تھا۔ پاکستان بننے پر ان کو وہ حاصل ہو گیا۔
صفحہ 6 از 11