شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 11
لیکن سنی مسلمانوں کا مقصد صرف اسلامی حکومت کا قیام اور نفاذ شریعت محمدی تھا۔ قائداعظم گو شیعہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ کٹر مذہبی اور فرقہ پرست نہ تھے۔ سیکولر ذہن رکھتے تھے۔ 
مولانا شبیر عثمانیؒ نے ترجمہ قرآن پڑھا کر ان کا ذہن اسلامی بنا دیا تھا۔ پھر وہ برابر مسلمانوں کو تقریروں میں قرآن وسنت اور خلافتِ راشدہ کے نظام کا حوالہ دے کر اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اب علماء اہلسنت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ 
شیعہ کی مخالفت غیر قانونی اور نظریہ پاکستان کو ختم کرنے والی ناجائز حرکت ہے۔ وہ شریعت  کا قانون نافذ ہونے دیں اور پبلک لاء تمام بین الاقوامی دساتیر کے مطابق اکثریت کی فقہ کو بننے دیں۔ 
ہاں اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی بات ضرور کریں مگر اپنی ساخت اور بھگوڑے انگریز کی نسبت سے نہیں۔ بلکہ خالص قرآن وسنت اور حضرت علیؓ و  جعفرصادقؒ کی تعلیمات کے حوالہ سے ہم علماء اہلسنت دیوبند ضمانت دیتے ہیں کہ شیعوں کو تعلیم اہل بیتؓ پر مبنی حقوق یقیناً مل کر رہیں گے۔
میں اپنی ملکی بات میں دور چلا گیا۔ مناسب نہیں جانتا کہ پاکستان میں شیعی کردار پر روشنی ڈالوں ورنہ ہر کسی کو پتہ ہے کہ سکندر مرزا رافضی اپنی ایرانی بیوی کی ایماء پر بلوچستان کی داد سخاوت کہاں کر رہاتھا کہ صدر ایوب خان مرحوم نے بروقت ملک سنبھال لیا۔
1971ء کے انتخابات کے بعد "ادھر ہم ادھر تم " کا نعرہ  لگا کر مشرقی پاکستان کو کس نے الگ کیا۔ پھر مے نوش یحییٰ خاں رافضی نے فوجی ایکشن کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرا کر اسے ہمیشہ کے لیے ہم سے الگ کر کے بنگلہ دیش کیسے بنا دیا؟
اور اب زکوٰۃ و عشر کا انکار کرکے نفاذ اسلام و شریعت بل کی ڈٹ کر مخالفت کون کر رہا ہے؟
روسی کمیونسٹ نظام اپنانے اور خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟
یہ صرف سبائی فرقہ ہے جو اپنے اس طویل تاریخی سفر میں ہر منزل پر مسلمانوں کا راہزن ثابت ہوا ہے۔
ہمدرد اور حامی کبھی نہیں رہا۔ اس لیے ہمیں حالیہ ایرانی شیعی انقلاب اور شدید کشت و خون پر اور اسے دیگر مسلم ممالک میں برآمد کرنے کے عزائم پر کچھ تعجب نہیں۔ 
ہلاکو خان اور کو اپنا ہیرو ماننے والے خمینی پرست مسلمانوں کی یہی خدمت کر سکتے ہیں۔ کاش ہماری بھولی بھالی بھیڑ چال چلنے والی مسلم قوم کو سمجھ ہوتی۔

ایرانی انقلاب پر ایک نظر

ایرانی کا انقلاب تاریخ کا حیران کن واقعہ ہے۔ ایک بوریہ نشین نے ایک شہنشاہ کا تختہ الٹ دیا اس لحاظ سے ایرانی عوام کی جدو جہد اور آیت اللہ خمینی اپنے تاریخ ساز کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اس پر اہل قلم نے مثبت و منفی بہت کچھ لکھا ہے اور جب تک ظلم سے خون کی ندیاں بہتی رہیں گی انکی روشنائی سے یہ داستان کشت و خون مؤرخ لکھتا جاۓ گا۔
 خمینی ایک قد آور عالم تھا بے دین اور مغرب پرست شاہ ایران کی مخالفت کی وجہ سے 17 سالہ جلاوطنی اور قوم سے بذریعہ کیسٹز پیام اور رابطہ کی وجہ سے اس کی شخصیت اہم سیاسی بن گئی دہلیزِ اقتدار پر لانے کے لیے سنی شیعہ سب ایرانی مسلمانوں نے زبردست قربانی دی بظاہر ان میں مذہب سے لگاؤ پیدا ہوا مغربیت، بے پردگی اور لادینی کا سیلاب  تھم گیا اسی وجہ سے دیندار مسلمان اس کی نشریاتی چکا چوند سے مرعوب ہو گیا اور اسلامی انقلاب کے عنوان سے دنیا کے ذرائع ابلاغ نے خوب تشہر کی حالانکہ یہ خالص شیعی آمرانه در پرده روسی مسلم کش ظالمانہ انقلاب ہے ۔ ایران جاکر مشاہدہ کرنے والوں کے تاثرات اور عام اخباری بیانات کی روشنی میں مشتے نمونہ از خروارے چند نقائص ہم عرض کرتے ہیں:-

صفحہ 7 از 11