شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 11

1۔خمینی انتہاء پسند اور جابر ہے۔ اقتدار پاکر اپنے ہم سفروں کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا۔ بنی صدر جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ صادق قلب زادہ قتل ہوئے ۔ آیت اللہ شریعت مدار کاظم کو کردار کشی کر کے نظر بند کر دیا وہ سات سال بعد 1986 قید ہی میں وفات پا گیا عوام الناس کو ان کا جنازہ پڑھنے کی اجازت نہ ملی حالانکہ وہ خمینی سے بڑھ کر شیعہ کے مذہبی راہنما تھا۔ اسی طرح شیعہ عالم خاقانی عہد شاہی کے 14 سالہ قیدی امام قمی 7 سالہ قیدی امام زنجانی بھی قید میں، حالانکہ یہ شاہ کے خلاف خمینی تحریک کے ہر اول دستے تھے مگر اب خمینی کے مقہور و مظلوم ہیں۔ ذرا سا خمینی سے اختلاف رکھنے والے لاتعداد علماء جیلوں میں قید اور درگور ہوگئے جس سے وہ ڈکٹیٹر بادشاہ ظالم بن چکے ہیں۔
2۔ سیاسی مخالفت میں فوج کے بڑے بڑے افسروں انتظامیہ کے عہدیداروں کو سینکڑوں کی تعداد میں شاہ نوازی کے الزام میں تہہ تیغ کرنا زبردستی قومی و ملکی نقصان سفاکانہ قدم ہے ازروئے معاہدہ سرکاری ملازم وقتی حکومت کے وفادار ہوتے ہیں انٹرنیشنل قانون یہی ہے بعد کی انقلابی حکومت سب سرکاری ملازمین کو قتل و غارت کی سزا دے یہ کسی اسلامی جمہوری شخصی حکومتوں کے ہاں بھی جائز نہیں،  یہی وجہ ہے کہ ایران کو اس کا زبردست خمیازہ بھگتناپڑا۔ اپنے سے ہرلحاظ سے 4/3 حصہ کم عراق سے طویل جنگ میں ایران نہ غالب آ سکا نہ پورے علاقے  واپس لے نہ سکا حالانکہ اسرائیل بھی پشت پناہ ہے۔ 
3۔ سفاکی اور بے رحمی کی یہ بھی انتہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کے جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ سے سینکڑوں ہنس مکھ چہرے لاشوں میں تبدیل کر دیئے جائیں خمینی کے قدیم قید و جلاوطنی کے ساتھی ڈاکٹر موسیٰ موسوی اصفہانی الثورة البائسہ صفحہ182 پر لکھتے ہیں "ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ خمینی رحم و کرم سے بہت دور اور شر سے نزدیک ہیں اور قتل و غارت میں انہیں مزہ آتا ہے کہ نو عمر جوانوں کو بھی ان کی تلوار نہیں بخشتی۔ چنانچہ تین ماہ کے اندر تین ہزار مسلمان نوجوان مرد و عورت مرگ بر خمینی کہنے کے جرم میں تہہ تیغ کیے گئے."
4۔  تین لاکھ پاسداران انقلاب کو کرفیو آرڈر کی طرح یہ اجازت دینا کہ جو کوئی انقلاب پر ذرا تنقید کرے اسے وہیں ڈھیر کر دو اس طرح سینکڑوں علماء، طلبہ، مزدور مجاہدین خلق اور اہل سنت مسلمان لاکھوں کی تعداد میں تڑپائے گئے۔ یہ لینن اور ہٹلر کا شیوہ ہے۔ فاتح مکہ حسنینؓ کے ناناﷺ کی سنت ہرگز نہیں ہے۔ 
ڈاکٹر موسیٰ مذکور بدترین انقلاب 190 پر لکھتے ہیں خمینی نے تحریک کے دوران برسر اقتدار شاہ کے متعلق کہا خود قتل کرنے والے سے قصاص لیا جاتا ہے قتل کا حکم دینے والے سے نہیں سخت تعجب ہے کہ یہ بات کہنے والا اپنی حکومت کے چار سالوں میں چالیس ہزار انسانوں کا قتل کرتا ہے جن میں بوڑھے، نوجوان، عورتیں سبھی ہیں جرم صرف یہ نعرہ ہے حریت زندہ باد، استبدادیت مردہ باد۔ اس نے ہزاروں کرڑوں عربوں بلوچوں اور ترکمانوں کو اس پر قتل کرایا کہ وہ شاہ کے زمانے سے مغصوبہ حقوق چاہتے ہیں۔
 5۔ اختر کاشمری کے سفرنامہ ایران کے مطابق اپنے کاسہ لیس مذہبی طبقہ کو عوام پر ایسے مسلط کرنا کہ وہ کارڈ کے ذریعے لمبی لائنوں میں لگ کر اشیائے خوردنی حاصل کریں اور کارڈ صرف وفاداری کی سند اور جان بچانے کی ضمانت سمجھا جاۓ اور غیر موافق محروم رہیں سوشلسٹ نظام کا چربہ ہے۔
6۔ ایران عراق جنگ کو صرف ضد اور انا کی وجہ سے طول دینا، لاکھوں افراد کو آگ میں جھونکنا، اسلامی امۃ کمیٹی، اسلامی ممالک غیر جانبدار ممالک سلامتی کونسل کسی کی بھی بات نہ ماننا اور صلح پر آماده نہ ہونا بلکہ ہر 15 سے 20 دن بعد تازه خونزیر عراق پر حملہ کرنا حالانکہ وہ صلح کی بارہا اپیل کر چکا ہے۔ سفاکی اور درندگی ہے۔ قرآن کے قطعی خلاف ہے. قرآن کہتا ہے کہ صلح بہتر ہے۔(نساء) مومن بھائی بھائی ہیں۔ بھائیوں کے درمیان صلح کرادو (حجرات) دشمن صلح چاہے تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو(انفال)۔ کسی قوم سے دشمنی تمہیں بے انصافی پر آمادہ نہ کرے تم عدل کرو یہی تقوی کی بات ہے۔
7۔ ایرانی آئین میں مذہب شیعہ کو سرکاری مذہب قرار دینے پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن ہم 40 فیصد اہلسنت کے بالکل مذہبی حقوق چھین لینا بے انصافی ہے۔ تہران میں دس لاکھ سنیوں کو مسجد بنانے کی اجازت تک نہ ہو، شیعہ امام ہی دوسرے صوبوں میں زبردستی امام بن جائے بلوچستان وغیرہ اکثریتی صوبوں میں اکثر شیعہ ٹیچر مقرر کر کے بچوں کو مذہب سے برگشتہ کیا جائے سرکاری ملازمتوں میں سنی تھانیدار و کپتان تک نہ ہو۔ پارلیمنٹ میں ان کا وجود نہ ہونے کے برابر ہو وہ اپنا مذہبی لٹریچہ نہ خود چھاپ سکیں نہ پاکستان و ممالک عربیہ سے منگوا سکیں۔
خلفاء راشدینؓ کی مدح اور مذہبی تبلیغ میں آزاد نہ ہوں یہ اسلامی حکومت کا کام نہیں۔
8۔ جو سنی مسلمان اپنے مذہبی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کریں ان کو بغاوت کے بہانے کچلا جائے جیسے بیس ہزار کے قریب کردوں کو مارا گیا، ایرانی بلوچستان اور زہدان میں رمضان شریف تک میں بمباری ہوئی، ایران کے ایک عالم دین راقم کو لاہور جولائی 1985 میں ملے تو بتایا کہ ہمارے جوان یا قتل ہو چکے ہیں یا قید میں ہیں۔ صرف بوڑھے اور عورتیں گھروں میں ہیں، میں نے کہا پتہ دیجئے میں اپنی تصانیف کاسٹ بھیجوں گا فارسی میں ترجمہ کروا کر اپنے صوبے میں پھیلا دینا، وہ بھرائی آواز میں کہنے لگے ایسا ہرگز نہ کریں، میری شامت آجائے گی، ہم مذہبی کتاب نہ خود چھاپ سکتے ہیں نہ باہر سے منگوا سکتے ہیں۔
9۔ یہ خاص شیعہ انقلاب ہے، خمینی کٹر متعصب اور غالی شیعہ عالم ہے۔ اس نے اپنی کتاب ٫٫کشف الاسرار،، میں صحابہ کرامؓ خصوصاً خلفاء راشدینؓ پر جگہ جگہ زہر اگلا ہے اور ان پر تبرا کرکے مخالفت قرآن کے جعلی اتہامات (الزامات) لگائے ہیں۔ میں وہ حوالہ جات نقل کرکے قارئین کو پریشان نہیں کرنا چاہتے مختصر یہ کہ وہ صفوی دور کے انتہائی بد زبان مصنف ملا باقر مجلسی کے مقلد ہے اس کی تبراءِ صحابہؓ پر مشتمل کتابوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں جن کے فحش حوالے راقم نے اپنے رسالہ فقہ جعفریہ اور مسلمان اور تحفہ امامیہ اور عقائدالشیعہ وغیرہ میں دیئے ہیں۔ 
خمینی کے ایسے اقوال تسلیم کرنے سے بقول مولانا منظور احمد نعمانیؒ قرآنی آیات اور متواتر احادیث کی تکذیب ہوتی ہے۔ رسول پاکﷺ پر نااہلیت کا الزام آتا ہے، قرآن مجید قابل اعتبار نہیں رہتا، اس پر ایمان ناممکن ہو جاتا ہے سب سے سنگین ترین بات یہ کہ خمینی کی یہ باتیں اسلام اور رسول خدا کی صداقت کو مشتبہ اور مشکوک بنا دیتی ہیں، بلکہ خمینی نے رسول اللہﷺ کی بعثت کی ناکامی کا صاف اعلان کیا ہے۔

صفحہ 8 از 11