شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 11

امام مہدی کی ولادت کے موقع پر یہ کہا ہے کہ امام زمان معاشرتی انصاف کے لیے اس پیغام کے حامل ہوں گے جو تمام دنیا کو بدل دے گا یہ وہ فریضہ ہے جس میں پیغمبر اسلام محمدﷺ بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے اگر ہمارے نبی کے لیے جشن مسلمانان عالم کے پُر عظمت ہے تو جشن امام زمان تمام انسانیت کے لیے عظیم ہے میں ان کو لیڈر نہیں کہ سکتا کیونکہ وہ اس سے ماورا ہیں میں ان کا اول نہیں کرسکتا کیونکہ ان کا ثانی نہیں ہے۔
(ترجمہ تہران ٹائمز صحفہ1 مؤرخہ 29 جون 1980)۔ حالانکہ یہ کھلا ہوا کفر ہے۔
 ایک بیان میں یہ کہا کہ میرے جانباز صحابہ رسول سے زیادہ قربانیاں دیتے ہیں، صحابہ رسول تو جنگوں میں بھاگ جاتے تھے اور میرے جاں نثار ساتھی ہزاروں کی تعداد میں جانیں قربان کر رہے ہیں (معاذاللہ)۔

خمینی اپنے ائمہ کو تمام انبیاء و رسل اور ملائکہ مقربین سے افضل بتاتے ہیں

ومن ضروریات مذھبنا ان لِأَئِمتنا مقاما لایبلغہ ملک مقرب ولا نبی مرسل (الحکومۃ الاسلامیہ صفحہ52)

ترجمہ: ہمارے مذہب شیعہ کا یہ بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے، کہ ہمارے آئمہ کا درجہ اتنا بڑا ہے کہ اس تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل (رسول اللہﷺ بھی) نہیں پہنچ سکتا۔
ان تمام باتوں سے شیعہ اور خمینی کا اپنا ایمان و اسلام ثابت نہیں رہتا تو انکا انقلاب اور نظامِ حکومت کیسے اسلامی کہلاۓ۔
بغیر ولی اور گواہوں کے مقررہ وقت کے لیے کسی عورت سے جنسی معاہدہ متعہ کہلاتا ہے جو شیعہ مذہب کا سب سے بڑا کار ثواب عمل ہے، لیکن یہ اتنا حیا سوز اور قاتلِ غیرت ہے کہ مذہب شیعہ پر بدنما داغ ہے اسی لیے بعض شیعہ اسے جزو مذہب ماننے سے ہچکچا رہے ہیں (انوار نجف)
لیکن خمینی تحریر الوسیلہ میں متعہ کے متعلق چار صفحات سیاہ کرنے کے بعد ایرانیوں کے کردار کو یوں سیاہ کرتا ہے۔

یجوز التمتع بالزانیۃ علی کراھۃ خصوصا لو کانت من العواھر المشھورات بالزنا۔
(تحریر الوسیلہ صفحہ292 جلد2)

ترجمہ:
بدکار عورت سے متعہ کرنا جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ خصوصاََ جبکہ وہ مشہور پیشہ ور طوائف ہو اور حضرت عمرؓ کے متعلق خمینی کہتا ہے، عمرؓ نے متعہ کے حرام ہونے کا جو اعلان فرمایا وہ ان کی طرف سے قرآن کی صریح مخالفت اور ان کا کافرانہ کردار و عمل تھا معاذاللہ۔
تبصرہ: سیدنا عمرؓ نے تو قرآن وسنت سے حرمت متعہ والا آرڈیننس جاری فرمایا تھا لیکن کیا کریں، متعہ باز کو شیعہ جب اپنے ائمہ و رسولﷺ کے برابر درجہ دیتے ہیں،  تو وہ عمرؓ کو گالیاں کیوں نہ دیں۔
 شیعہ کی قدیم مستند تفسیر منہج الصادقین (پ 5 صفحہ176 جلد1) میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے وہ امام حسینؓ کا درجہ پائیگا اور جو شخص چار مرتبہ متعہ کرے وہ میرا درجہ پائے گا معاذاللہ اور جو پانچ دفعہ کرے یا ہمیشہ کرے تو ؟؟؟؟؟
10۔  خمینی کو چاہیے تھا کہ وہ انقلاب برپا کرنے کے بعد عالم اسلام سے دوستانہ تعلقات بڑھاتے اور اپنے وقار اور حدود انقلاب میں اضافہ کرتے لیکن شدید شیعی تعصب کی بناء پر اپنا جذباتی توازن برقرار نہ رکھ سکے، ہر اسلامی ملک کی کردار کشی اپنے ذرائع ابلاغ سے شروع کردی، جن جن علماء اور مندوبین کو انقلاب کی سالگرہوں پر بلایا سب کو اپنے اپنے ملک میں بغاوت پھیلانے اور ایرانی انقلاب برپا کرنے کا وعظ کیا۔
تیل کی آمدنی کا ساتواں حصہ اس غنڈہ گردی اور سازشی کاروائیوں کیلئے وقف کردیا۔ 
پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا،  انڈیا کی حمایت کی، سعودی عرب اور دیگر ممالک عربیہ کے خلاف وہ تیز و تند پروپیگنڈا کیا اور مسلمانوں کو انکے خلاف ابھارا، گویا سب سے بڑے یہودی اور کافر معاذ اللہ یہی ہیں۔
عراق میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کرائی،  نتیجتاً عالم اسلام پر جنگ مسلط ہوگئی،  پاکستان کے شیعوں کو تھپکی دی کہ ضیاءالحق کی حکومت کا تختہ الٹ کر شیعہ انقلاب برپا کرو، چنانچہ ان وطن فروش بزور جہر نے 1980ء میں اسلام آباد کا گھیراؤ کرکے اور زکوٰۃ و عشر اور شرعی حدود کا انکار کرکے اسلام اور پاکستان کی خوب رسوائی کی مگر خمینی کے منظورِنظر بن گئے، اور اب تک ایرانی تیل اور کمک کی بناء پر فقہ جعفریہ کے مطالبات کی آڑ میں بڑے بڑے جلسے جلوس نکال کر، دھمکیوں اور خفیہ کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
غضب یہ ہے کہ 6 مئی 1985 میں پاکستان کے مرکزی چار شہروں میں شیعی احتجاج کا پروگرام بنا، کوئٹہ میں ایران کی مسلح مداخلت اور اسلحہ سے بھرے ہوئے ٹرکوں کی گرفتاری، طشت ازبام ہوگئی، پولیس پر بے پناہ ظلم ہوا کہ لاتعداد سر کاٹ کر درختوں پر لٹکائے گئے، فوج آئی سات دن بعد حالات قابو میں آئے، 230 ایرانی غنڈوں کو مقدمہ چلائے بغیر ایرانی حکومت کے حوالے کیا گیا اور مقامی مجرموں کو زندان میں ڈالا گیا، وزیر داخلہ نے سب کچھ بتایا تھا لیکن انتظامیہ نے اس بغاوت کا کچھ نوٹس نہ لیا بلکہ ملوث ہزارہ قبیلے کے ایک اہم فرد کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا، مقدمات داخل دفتر ہوگئے، پولیس کی گردنیں کاٹنے والوں کو سولی کی سزا کیا ملتی وہ تو سرکاری مہمان تھے، اب اپریل 1986ء میں شیعوں کے احتجاج یا دباؤ سے باعزت بری کردیے گئے۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
صفحہ 9 از 11