قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام…

قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام اور اس پر رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 5

[قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام اور اس پر رد:]

[چھٹا اعتراض] :

...شیعہ کا یہ قول کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرانا چاہتی تھیں اور اسی سازش میں شریک رہا کرتی تھیں ۔اور کہا کرتی تھیں :’’ بوڑھے احمق کو قتل کردو۔‘‘ وہ ہمیشہ دعا کیاکرتی تھیں :’’اللہ اس بیوقوف بوڑھے کو قتل کرے۔‘‘

جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی خبر پہنچی تو بہت خوش ہوئیں ۔‘‘

[انتہیٰ کلام الرافضی]

[ یہ شیعہ کا وضع کردہ جھوٹ ہے۔ نعثل کا لفظ صرف قاتلین عثمان کی زبان پر جاری ہوا۔ قاتلین عثمان میں سے اوّلین شخص جس نے نعثل کا لفظ بولاوہ جبلہ بن عمرو ساعدی تھا۔ اس نے کہا :’’ اے نعثل میں آپ کو قتل کرکے ایک خارشی اونٹ پر سوار کروں گا اور اسے شہر سے باہر پتھریلی زمین کی طرف ہانک دوں گا ۔

(تاریخ طبری:۵؍۱۱۴، مطبع حسینیہ)

بعد ازاں یہ لفظ جنگ جمل کے موقع پر ہانی بن خطاب ارجی کی زبان پر جاری ہوا وہ کہتا ہے۔

اَبَتْ شُیُوْخُ مُذْحَجٍ وَّ ہَمْدَانَ اَنْ لَّا یَرُدُّوْا نَعْثَلًا کَمَا کَانَ

تیسری مرتبہ یہ لفظ عبدالرحمن بن حنبل جمحی نے جنگ صفین کے موقع پر بولا ۔وہ کہتا ہے:

اِنْ تَقْتُلُوْنِیْ فَاَنَا ابْنُ حَنْبَل اَنَا الَّذِیْ قَتَلْتُ فِیْکُمْ نَعْثَلًا

جب جبلہ بن عمرو ساعدی نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ نعثل کا لفظ بولا حضرت عائشہ اس وقت مکہ مکرمہ میں محو عبادت تھیں ۔ جب حج سے واپس لوٹیں تو یہ لفظ آپ کے کانوں تک پہنچا۔

اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ انسان خطا و نسیان سے مرکب ہے، اور رسولوں کے سوا کوئی بشر معصوم نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام اور خاص طور پر خلفاء راشدین انسانیت کی اعلیٰ ترین صفات سے بہرہ ور ہیں ، تاہم وہ خطاء کے مرتکب ہو سکتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی خطا کو درست بھی کرتے ہیں ، وہ خطا کے مرتکب ہونے کے باوصف قلبی طہارت ، صفاء نیت، صدق جہاد اور سلامت مقاصد کی بنا پر باقی مسلمانوں سے بلند ترین مقام و مرتبہ پر فائز ہیں ۔]


[جواب] :

۱۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس روایت کی دلیل پیش کیجیے۔

دوسری بات:....جو چیز اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے ‘ وہ اس رافضی دعوی کو رد کرتی ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضرت کے قتل پر سخت انکاری تھیں ۔قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کومذمت اور نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتیں اور اس میں شرکت کرنے والوں کو ....خواہ ان کا بھائی محمد بن ابوبکر ہو یا کوئی اور مذموم قرار دیتی تھیں ۔انہوں نے اپنے بھائی محمد بن ابو بکر اور مشارکین قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر بد دعا کی تھی۔

[غلط فہمی کی بنا پر اہل حق کا باہم کفر و نفاق کا فتوی] :

تیسری بات :....فرض کیجیے صحابہ میں سے کوئی....حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہوں یا کوئی اور....غصہ کی حالت میں کوئی ایسی بات کہے؛ اس لیے کہ وہ بعض خرابیوں کا انکار کرنا چاہتا ہو‘ تو اس کی بات کیوں کر حجت ہو سکتی ہے۔  اس سے نہ کہنے والے کی شان میں کوئی فرق آتا ہے نہ اس کی شان میں جس کے بارے میں وہ لفظ کہا گیا۔ بایں ہمہ وہ دونوں جنتی بھی ہوسکتے ہیں اور اﷲ کے ولی بھی۔ حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو واجب القتل اور کافر تصور کرتا ہے مگر وہ اس ظن میں خطاء کار ہے۔

جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذ کور ہے؛ جو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکے تھے۔صحیح حدیث میں ثابت ہے ان کے غلام نے کہا : ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم ! حاطب بن ابی بلتعہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے جھوٹ بولا ؛ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔ ‘‘

[البخاري ۴؍۵۹؛ مسلم۴؍۱۹۴۱۔]

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: (( جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا ارادہ کیا تو حاطب نے مشرکین مکہ کے نام ایک خط لکھا اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز منکشف کردیے۔ وحی کے ذریعہ آپ ان تمام حالات سے باخبر ہوئے ،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ وزبیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا مکہ کی جانب چلتے جاؤ اور جب باغ خاخ آجائے تو وہاں تمھیں ایک شتر سوار عورت ملے گی اس کے پاس ایک خط ہو گا ۔ وہ خط اس سے لے لیجیے۔ جب علی و زبیر رضی اللہ عنہما وہ خط لے کر واپس لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا کر خط لکھنے کا سبب دریافت کیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اﷲ کی قسم! میں نے یہ فعل اس لیے انجام نہیں دیا کہ میں مرتد ہو گیا یا کفر پر راضی ہو گیا تھا۔اصل معاملہ یہ ہے کہ میں نسباً قریشی نہیں ہوں ، بلکہ باہر سے آکر مکہ میں آباد ہوا تھا۔ مدینہ میں جو لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں ، مکہ میں ان کے عزیز و اقارب ہیں جو ہر طرح ان کے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں ۔ میں نے چاہا کہ اس طرح قریش کو ممنون کردوں تاکہ وہ میرے کنبہ کی حفاظت کرتے رہیں ۔‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ نے فرمایا:’’ حاطب بدر میں شرکت کر چکا ہے اور اﷲتعالیٰ نے اہل بدر کے متعلق فرمایاہے:

{اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ }

(جو اعمال چاہو انجام دو میں نے تمھیں بخش دیا۔‘‘اسی دوران میں سورۂ ممتحنہ کی یہ آیت نازل ہوئی:

{ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ }

’’ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے ساتھ دوستی لگانا چاہتے ہو۔‘‘

[ صحیح بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب فضل من شھد بدراً (حدیث: ۳۹۸۳، ۴۸۹۰) ، صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعۃ (حدیث: ۲۴۹۴)]

صفحہ 1 از 5